عدالت نے 10 ووٹ شمار کئے تو اپنے ہی فیصلے کی نفی کرے گی

قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ قاف لیگ کے دس ووٹ مسترد کئے جانے کے خلاف تحریک انصاف کی دائر کردہ اپیل میں سپریم کورٹ اگر ڈپٹی سپیکر کے فیصلے کو غلط قرار دیتی ہے تو ایسا کرنا اپنے ہی پچھلے فیصلے کی نفی کے مترادف ہوگا۔ یاد رہے کہ 22 جولائی کو وزیر اعلی پنجاب کے الیکشن میں قاف لیگ کے دس وٹ شمار نہ کئے جانے کی وجہ سے حمزہ شہباز جیت گئے اور پرویز الہی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ گزشتی روز ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے ووٹنگ کے بعد بتایا تھا کہ انہیں چودھری شجاعت حسین کا ایک خط موصول ہوا ہے جس کے مطابق انہوں نے اپنے پارٹی اراکین کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزارت اعلیٰ کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ ڈالیں گے، تاہم چونکہ قاف لیگ کے تمام اراکین پنجاب اسمبلی نے پرویز الہی کو ووٹ ڈالا لہذا سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کی روشنی میں آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت انہیں شمار نہیں کیا گیا۔

مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹ مسترد ہونے کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ شجاعت حسین کے خط کی روشنی میں ان کی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو آخری وقت پر حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کی ہدایات کیا قانونی طور پر درست تھیں؟ خاص طور پر جب سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کر دی ہے۔

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمان کرے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی اور فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی برتری سے سنایا گیا۔ اسی فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزارت اعلی کے پچھلے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

منحرف اراکین سے متعلق اس ریفرنس کی سماعت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی تھی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔

بینچ کے ارکان جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے بنچ کے تین ارکان سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے اقلیتی فیصلے میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 63 اے اپنے آپ میں ایک مکمل کوڈ ہے جو پارلیمان کے کسی رکن کی ‘ڈیفیکشن’ یعنی انحراف اور اس کے بعد کے اقدام کے بارے میں جامع طریقہ کار بیان کرتا ہے۔ بینچ کے ان ارکان نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ان کی رائے میں ’آئین کی شق 63 اے کی مزید تشریح آئین کو نئے سرے سے لکھنے یا اس میں وہ کچھ پڑھنے کی کوشش ہو گی جس سے آئین کی دیگر شقیں بھی متاثر ہوں گی۔ تب سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آرٹیکل 63-اے آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعت کے بنیادی حق کا نفاذ کرتا ہے، اس لیے اس کی تشریح اور اطلاق وسیع بنیاد پر بنیادی حقوق کے ساتھ کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ کا فیصلے میں کہنا تھا کہ ایوان میں ایک پارٹی کے کسی بھی رکن کا ووٹ آرٹیکل 63-اے کی ذیلی شق ایک کے پیرا بی کے تحت پارٹی کی ہدایت کے خلاف دیا جائے تو شمار نہیں کیا جاسکتا اور اس بات سے قطع نظر کہ پارٹی سربراہ انحراف کی وجہ بننے والے ووٹ کے بعد کارروائی کرے یا نہ کرے۔
آرٹیکل 63 اے کے مطابق کسی رکن پارلیمنٹ کو انحراف کی بنیاد پر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر پارلیمنٹیرین وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کے انتخابات کے لیے اپنی پارٹی کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی ہدایت کے خلاف ووٹ دیتا ہے یا عدم اعتماد کا ووٹ دینے سے باز رہتا ہے تو اس سے نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین صوبائی اسمبلی کے خلاف ریفرنس منظور کرتے ہوئے انہیں ڈی سیٹ کردیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی روشنی میں فیصلہ اتفاق رائے سے سنایا، تحریک انصاف کے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی تاحیات نااہلی سے بچ گئے اور الیکشن کمیشن نے انہیں ڈی سیٹ کردیا۔

اس معاملے پر سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب اسمبلی کے 25 اراکین اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنا اور ان کا ووٹ شمار نہ کرنا درست تھا تو پھر اب عدالت نے اپنے فیصلے کے خلاف کیسے جائے گی۔ دوسری جانب تحریک انصاف والوں کا اصرار ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ کہا گیا تھا کہ جو رکن اسمبلی پارلیمانی لیڈر کی ہدایت کے خلاف ووٹ دے گا وہ آرٹیکل 63 کے کی زد میں آئے گا جب کہ قاف لیگ والوں نے اپنے پارلیمانی لیڈر کی ہدایت کے مطابق پرویز الہی کو ووٹ دیا ہے۔ دوسری جانب ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کا اصرار ہے کہ سپریم کورٹ کی پچھلی رولنگ میں واضح الفاظ میں لکھا گیا تھا کہ اراکین اسمبلی کو اپنے پارٹی سربراہ کی ہدایات کے مطابق ووٹ دینا ہوگا۔

اس معاملے پر بیرسٹر اسد رحیم خان کا کہنا ہے کہ وہ دوست مزاری کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہیں کیونکہ آرٹیکل 63 اے کا متن واضح ہے کہ اراکین اسمبلی اپنی پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے مطابق ووٹ کاسٹ کریں، آئین اس کی وضاحت کرتا ہے جبکہ چوہدری شجاعت کے خط کی کوئی قانونی اور آئینی اہمیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو پی ایم ایل (ق) کے ووٹوں کو مسترد نہیں کرنا چاہیے تھا۔

اسد رحیم کا کہنا تھا کہ دوست مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بالکل ہی غلط سمجھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک بدقسمت دن ہے کہ واضح قانون کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے لوگوں کو 10 اپریل کی صورتحال پر واپس لے جایا گیا جس دن سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہوئی تھی۔ اسد رحیم کا کہنا تھا کہ دوست محمد مزاری کا فیصلہ اسی طرح مکمل طور پر غیر قانونی ہے جیسا کہ قاسم سوری کا اپریل کا فیصلہ تھا۔ انکا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے پارٹی سربراہ کے بجائے واضح طور پر پارلیمانی پارٹی کی ہدایت کے مطابق ووٹنگ کا کہتا ہے۔

تاہم وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ کسی بھی جماعت کا پارلیمانی لیڈر اپنے پارٹی قائد کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا۔ انکا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ کئی جماعتوں کے سربراہان اسمبلی کا حصہ نہیں تھے لیکن اس کے باوجود انہیں شوکاز نوٹس جاری کرنے یا ممبر کو نکالنے کا حق حاصل تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کوئی پارلیمانی لیڈر کسی رکن کو ‘پارٹی لائن’ نہیں دے سکتا، اس حوالے سے فیصلہ پارٹی سربراہ کرتا ہے جو اسمبلی کا حصہ بننے کا پابند نہیں ہوتا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں اپنی رائے دیتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے مشاہدے میں اقلیتی نکتہ نظر دیگر تین ججوں کے اکثریتی فیصلے سے زیادہ درست تھا۔ آرٹیکل 63 اے کہتا ہے کہ اگر کوئی ممبر پارٹی سربراہ کی ہدایت کے خلاف ووٹ کاسٹ کرتا ہے تو اس کا ووٹ شمار کیا جائے گا لیکن بعد میں پارٹی اس ممبر کو ڈی سیٹ کرواسکتی ہے لیکن بدقسمتی سے سپریم کورٹ نے پارٹی سربراہ کا جو ریفرنس دیا وہ آئین میں موجود نہیں ہے۔ لیکن چونکہ ماضی قریب میں پنجاب اسمبلی کے 25 اراکین کو پارٹی سربراہ عمران خان کے فیصلے کے خلاف ووٹ دینے پر نااہل کیا گیا تھا اس لئے قاف لیگ کے 10 اراکین بھی چودھری شجاعت حسین کے فیصلے کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 63 اے کی زد میں آتے ہیں۔ لہذا اب اگر سپریم کورٹ قاف لیگ کے اراکین پنجاب اسمبلی کا ووٹ شمار کرنے کا فیصلہ جاری کرتی ہے تو وہ اپنے ہی پچھلے فیصلے کی نفی کرے گی۔

Related Articles

Back to top button