علی وزیر پرقاتلانہ حملوں کے پیچھے کون سا خفیہ ہاتھ ہے؟

پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی علی وزیر نے انکشاف کیا ہے کہ جیل سے ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد سے ان پر اب تک 2 قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں جو ناکام رہے لیکن ان حالات میں وہ یہ مطالبہ کرنے پر مجبور ہیں کہ انہیں یا تو دوبارہ جیل بھیج دیا جائے یا پھر پروڈکشن آرڈر پر اسلام آباد بھیج دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ میں ہسپتال میں غیر محفوظ ہوں اور یہاں سے فوری نکلنا چاہتا ہوں۔

علی وزیر نے ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب جانتے ہیں میری جان کو کس کی جانب سے خطرہ ہے اور مجھ پر قاتلانہ حملوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ انکا کہنا تھا کہ اگر میرے خلاف بغاوت کا مقدمہ بنانے والے مجھے جیل نہیں لے جا سکتے تو پھر مجھے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد لے جایا جائے چونکہ میرے پروڈکشن آرڈر بھی جاری ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس سال میں ایک بار ہوتا ہے جہاں ہر حلقے کا نمائندہ اپنے حلقے کے مسائل کے حوالے سے بات کرتا ہے۔ علی وزیر نے کہا کہ ایک دفعہ جب میں ہری پور میں تھا تب بھی مجھے بجٹ اجلاس میں شامل نہیں ہونا دیا گیا اور اب دوسری مرتبہ پھر مجھے اس اجلاس سے محروم رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی غیر آئینی مطالبات نہیں رکھے، میرے دو ہی مطالبات ہیں یا مجھے اسلام آباد بھیجا جائے یا واپس جیل بھیج دیا جائے۔

خیال رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ایک بغاوت کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیئے ہیں تا کہ وہ قومی اسمبلی کے جاری بجٹ اجلاس میں شرکت کر سکیں۔

علی وزیر نے کہا کہ میں نے تین سال سے یہ درخواست دی ہوئی تھی کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے، لیکن جب میرے پروڈکشن آرڈر جاری ہوئے تو ہی مجھے ہسپتال لایا گیا تاکہ میں اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کر سکوں۔ علی وزیر نے کہا کہ میں نے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے، اگر میرے مطالبات نہ مانے گئے تو یہ ہڑتال جاری رہے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں میری جان کو کس کی جانب سے خطرہ ہے اور مجھ پر قاتلانہ حملوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟

Related Articles

Back to top button