عمرانڈو ججز کو اپنے کون سے 3فیصلے دوبارہ پڑھنے چاہییں؟


آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کو مسلم لیگ (ق) کے منحرف اراکین کے 10 ووٹوں کو شمار کرنے کیلئے اپنے ہی تین پچھلے فیصلوں کو کالعدم قرار دینا ہو گا۔

ایک فیصلہ پی ایل ڈی 2018ء سپریم کورٹ 370 میں شائع شدہ ہے۔ دوسرا فیصلہ پی ایل ڈی 2018ء سپریم کورٹ 97 میں موجود ہے۔ سپریم کورٹ کا تیسرا فیصلہ 17 مئی 2022 کا ہے جسکے مطابق پارٹی پالیسی کے برخلاف منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہیں کیے جا سکتے۔ اسکے علاوہ نواز شریف کو پارٹی صدارت سے فارغ کرنے کے لیے دائرکردہ کیس میں سپریم کورٹ کے تین ججوں جسٹس ثاقب نثار‘ چیف جسٹس جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے پی ایل ڈی 2018ء سپریم کورٹ 370 میں جو فیصلہ صادر کیا تھا‘ اُس میں سپریم کورٹ پارٹی ہیڈ یا سربراہ کو ہی پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ اور کنٹرولر قرار دے چکی ہے۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے جسٹس ثاقب نثار کے سال 2018 کے پی ایل ڈی نمبر 97 پر انحصار کیا۔ فیصلے کو یکسو کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ججوں نے پیرا نمبر پانچ میں پارٹی ہیڈ کا پارلیمانی اُمور کو کنٹرول کرنے کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ پھر حال ہی میں عمران خان کے دائر کیس میں منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ دینے کے بعد اب سپریم کورٹ کے جج اپنے پچھلے فیصلے کی نئی تشریح کرتے ہوئے قاف لیگ کے دس ووٹ شمار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کی عدالتی تاریخ میں سیاسی مقدمات کے حوالے سے بیشتر سیاسی مقدمات میں عدلیہ نے عموماً ایسے فیصلے دیئے جن میں مخالفین اُسے فریق قرار دیکر تنقید کرتے رہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران کے سیاسی مخالفین کے بارے میں جب بھی کوئی کیس سپریم کورٹ جاتا ہے تو تین یا پانچ ججوں کا ایک مخصوص بینچ بنا دیا جاتا ہے جو خان صاحب کی مرضی کا فیصلہ دیتا ہے لہذا اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا یہ مخصوص بینچ نہ صرف پبلک میں بلکہ خود سپریم کورٹ میں بھی متنازعہ ہو چکا ہے لہذا حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے کیس کو سننے کے لیے فوری طور پر فل کورٹ تشکیل دی جائے تاکہ عدلیہ مزید متنازع ہونے سے بچ سکے۔

Related Articles

Back to top button