عمرانڈو چیئرمین نیب جاوید اقبال کا سیاہ دور ختم

عمران خان کے دور حکومت میں سرکاری ٹٹو کا کردار ادا کرتے ہوئے اپوزیشن قیادت کے خلاف جھوٹے کیسز بنانے والے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا تاریک دور بالآخر اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ عمران خان دور حکومت میں جاوید اقبال کو انکے عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے جاری کردہ صدارتی آرڈیننس کی میعاد 2 جون کو ختم ہو گئی جس کے بعد چیئرمین نیب نے وہ دفتر خالی کردیا ہے جہاں ان کی ایک خاتون کیساتھ بنائی گئی نازیبا ویڈیوز وائرل ہو گئی تھیں۔

یاد رہے کہ نیب کی تاریخ کے متنازعہ ترین چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مدت ملازمت جنوری 2022 میں ختم ہو گئی تھی تاہم صدارتی آرڈیننس کی وجہ سے وہ مزید چار ماہ اس عہدے پر فائز رہے ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں اکتوبر2017 میں چیئرمین نیب مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم 2018 میں عمران خان کے برسر اقتدار آنے کے بعد جاوید اقبال نے اپنے عہدے کی بےتوقیری کرتے ہوئے عمران خان کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے نیب کے ادارے کو حکومتی کنٹرول میں دے دیا اور اپوزیشن قیادت کے خلاف بے بنیاد مقدمات قائم کرنا شروع کر دیے جن میں سے کوئی ایک کیس بھی آج دن تک ثابت نہیں ہو پایا۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور تب کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے مابین نیب کے نئے چیئرمین کی تعیناتی پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔ اس کے علاوہ سابق حکمران جماعت نے نیب آرڈیننس میں کچھ ترامیم کی تھیں مگر اپوزیشن نے اس قانون سازی پر اتفاق نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے تب کی حکومت نے صدارتی آرڈیننس جاری کرتے ہوئے موجودہ چیئرمین کو اپنا کام جاری رکھنے کو کہا تھا۔ اب موجودہ حکمراں اتحاد نے نیب آرڈیننس میں ترامیم کر لی ہیں جنھیں تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ چیئرمین نیب کے لیے مختلف نام زیر غور ہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مقبول باقر کو نیا چیئرمین نیب تعینات کرنے کی خبریں گردش میں ہیں جنہیں اچھی ساکھ کا حامل شخص قرار دیا جاتا ہے۔ جسٹس مقبول باقر کا شمار سپریم کورٹ کے ان ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ لینے سے انکاری رہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب کے نام پر ان کی وزیر اعظم شہباز شریف سے مشاورت مکمل ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ اس معاملے میں دوسری نشست ان کے ترکی سے وطن واپس آنے کے بعد ہوگی جس کے بعد چیئرمین نیب کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔ جب ان سے مجوزہ ناموں کے بارے میں پوچھا گیا جن کو چیئرمین نیب تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تو راجہ ریاض نے اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے معذوری ظاہر کی۔ نیب حکام کے مطابق جاوید اقبال نے منصب سنبھالنے کے بعد نیب میں متعدد اصلاحات متعارف کروائیں جن کی بدولت نیب کی مجموعی کارکردگی میں ماضی کے 17 سالہ دور کی بہ نسبت ریکارڈ اضافہ ہوا اور اس عرصے کے دوران نیب 533 ارب ریکور کروانے میں کامیاب رہا۔ لیکن جب قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اور نیب کے حکام سے ریکور ہونے والی رقم کی تفصیلات اور اس رقم کو سٹیٹ بینک میں جمع کروانے کے شواہد طلب کیے تو جاوید اقبال نہ تو کوئی جواب دے سکے اور نہ ہی کوئی شواہد کمیٹی کے سامنے پیش کر سکے۔

نیب اس وقت کل 927 انکوائریوں میں تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اسکی جانب سے احتساب عدالتوں میں 1999 سے اس سال مارچ تک کل 3682 ریفرنسز دائر کیے گئے جن میں سے 2413 ریفرنسز پر فیصلے ہو چکے ہیں۔ تحریک انصاف کے دور میں اس تاثر کو تقویت ملی تھی کہ نیب چئیرمیں حکومتی ایما پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے قائدین کے خلاف مسلسل مقدمات درج کرتا رہا جب کہ عمران خان اور دیگر حکومتی شخصیات کے خلاف تمام مقدمات کو سردخانے میں ڈال دیا گیا۔ جسٹس جاوید اقبال کے سیاہ دور میں شہباز شریف، آصف علی زرداری، وفاقی وزراء خورشید شاہ، خواجہ سعد رفیق، خواجہ محمد آصف اور دیگر کے خلاف مقدمات درج کیے گئے لیکن ان مقدمات میں نیب ایک پیسے کی بھی ریکوری نہیں کر سکا کیونکہ کوئی ایک کیس بھی ثابت نہیں ہو پایا۔

نیب کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہی سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اپنے حکم نامے میں لکھا تھا کہ نیب جیسے ادارے کو سیاسی وابستگیاں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جاوید اقبال نے جب تحریک انصاف کے کچھ اہم رہنماؤں کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کا عندیہ دیا تو اس کے بعد کچھ عرصے کے بعد ہی ان کی ایک ویڈیو اور آڈیو منظر عام پر آ گئی جسں میں وہ ایک خاتون کے ساتھ رنگ رلیاں بنانے کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے تولیے اور گرم پانی کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد عمران اور حکمران جماعت کے دیگر رہنماؤں کے خلاف ہونے والی تحقیقات سرد خانے میں ڈال دی گئیں۔

حکمران اتحاد نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر حال ہی میں پارلیمنٹ سے نیب ترمیمی بل 2021 کثرت رائے سے منظور کروا لیا جس میں چیئرمین نیب کی تقرری کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ترمیم کے تحت نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل دو ماہ پہلے شروع کیا جائے گا اور نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 40 روز میں مکمل ہو گا۔ نئے ترمیمی قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا اور پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی۔ نئے قانون میں چیئرمین نیب کی مدت چار سال سے کم کر کے تین سال کر دی گئی ہے جسکے بعد اس شخص کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ڈپٹی چیئرمین کی تقرر کا اختیار صدر سے لے کر وفاقی حکومت کو دے دیا گیا۔ اب چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا طریقہ کار بھی وضع کر دیا گیا ہے اور نئے چیئرمین کی تعیناتی تک ڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے۔ اس قانون کے تحت ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں ادارے کے کسی بھی سینیئر افسر کو قائم مقام چیئرمین کا چارج دیا جائے گا۔

اب وفاقی یا صوبائی ٹیکس معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیے گئے ہیں اور مالی فائدہ نہ اٹھانے کی صورت میں وفاقی یا صوبائی کابینہ کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئیں گے۔ ترمیمی قانون کے تحت کسی بھی ترقیاتی منصوبے یا سکیم میں بے قاعدگی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گی جبکہ کسی بھی ریگولیٹری ادارے کے فیصلوں پر نیب کارروائی نہیں کر سکے گا۔

اس کے علاوہ اس نئے قانون کے تحت نیب اب 6 ماہ کی حد کے اندر انکوائری کا آغاز کرنے کا پابند ہو گا اور نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹوں میں نیب کورٹ عدالت میں پیش کرنے پابند ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ نیب گرفتاری سے پہلے کافی ثبوت کی دستیابی یقینی بنائے گا۔ نیب قانون میں ترمیم کرکے ریمانڈ 90 دن سے کم کر کے 14 دن کر دیا گیا اور نیب ملزم کے لیے اپیل کا حق 10 روز سے بڑھا کر 30 روز کر دیا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے کثرت رائے سے یہ بل منظور ہونے کے بعد اس کو منظوری کے لیے صدر کو بھجوا دیا گیا ہے جس کے بعد وہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ صدر دو ہفتوں میں اس کی منظوری دینے کے پابند ہیں اور اگر انھیں اس عرصے کے دوران اس بل پر کوئی اعتراض ہو تو وہ تحریری طور پر اس کی نشاندہی کرکے اس کو واپس بھجوائیں گے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سات جون کو دوبارہ ہو گا اور حکومت کا کہنا ہے کہ اگر اس عرصے کے دوران صدر کی طرف سے ترمیمی قانون پر کوئی اعتراض ہوا تو اس کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دور کروا لیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button