پاکستان کا مسئلہ نمبر ون سیلاب کی بجائے نیا آرمی چیف کیوں ہے؟


پاکستانی فوج میں سے اپنی پسند کا جونئیر جرنیل تلاش کر کے آرمی چیف لگانا ہمارے سویلین حکمرانوں کی پرانی عادت ہے اور اپنی پسند کا چیف تلاش کرنے کے بعد اس کے ہاتھوں بے عزت ہونا انکی اس سے بھی پرانی عادت ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پسند کا جونئیر جنرل ضیا الحق ڈھونڈا لیکن وہ اپنے ہی محسن کیساتھ “یکی” کر گیا اور بھٹو کو ہی پھانسی پر لٹکا دیا۔ نواز شریف نے پروہز مشرف سے لیکر قمر باجوہ تک اپنی پسند کے کتنے چیف لگائے اور انھوں نے میاں صاحب کے ساتھ کیا کیا “یکیاں” کیں، وہ سب بھی ہمیں یاد ہیں۔ 2019 میں عمران خان کی آرمی چیف چننے کی باری آئی تو انہوں نے جنرل قمر باجوہ کو ہی توسیع دے دی۔ خان صاحب کے لیے دوبارہ آرمی چیف چننے کا موقع قریب آیا تو انہیں گھر جانا پڑ گیا۔ اب بھی بحث صرف اس بات پر ہے کہ اگلا چیف عمران خان منتخب کریں گے یا ان کے سیاسی مخالف جو کہ اس وقت اقتدار میں ہیں۔ لیکن اس بات پر کوئی بحث نظر نہیں آتی کہ سیلاب میں ڈوبے ہوئے غریب عوام اور انکی بھوکی بھینسوں اور بکریوں کو چارہ کون پہنچائے گا۔
کئی کتابوں کے مصنف اور لکھاری محمد حنیف بی بی سی کیلئے اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سیلاب سے ہوئی تباہ کاری دیکھنے پاکستان آئے تو فرمایا کہ انھوں نے اپنی زندگی میں اتنی تباہی کہیں نہیں دیکھی اور پاکستان کو جو نقصان پہنچا ہے وہ ناقابل تصور ہے۔
دنیا میں خوراک کی فراہمی اور آٹے دال کے بھاؤ پر نظر رکھنے والے ماہرین چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان جیسا ملک، جسے فخر تھا کہ یہاں بھوکا کوئی نہیں سوتا، اب بھوک اسکے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں سے رپورٹنگ کرنے والے صحافی دہائیاں دے رہے ہیں کہ جو پالتو جانور اس آفت سے بچ گئے ہیں، ان کے لیے چارہ ختم ہو رہا ہے۔ لیکن دوسری جانب ہمارے حکمران، اپوزیشن والے اور میڈیا اس بات پر سینگ پھنسا کر بیٹھے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ کو اگر ایک چھوٹی موٹی ایکسٹینشن اور دے دی جائے تو موجودہ سیاسی بحران کا شاید حل نکل آئے۔
بحث صرف اس پر جاری ہے کہ تھوڑی دی جائے، پوری دی جائے یا پھر ایک مرتبہ پھر اپنی پسند کا کوئی جونئیر جرنیل بطور آرمی چیف ڈھونڈ لیا جائے اور اپنی بے عزتی کا سامان پیدا کیا جائے۔
حنیف کا کہنا یے کہ اب 29 نومبر کی تاریخ قریب آ رہی یے تو جنرل باجوہ نے فرمایا ہے کہ ان کے پاس بھی بحران سے نکلنے کا ایک منصوبہ ہے۔ پتا نہیں چھ سال تک انھوں نے اس منصوبے کو قوم سے کیوں چھپائے رکھا۔ دفاعی امور کے بارے میں میرا علم صفر ہے۔ آئندہ چیف بننے کے امیدواروں کے نام بھی نہیں پتا لیکن اتنا جاتنا ہوں کہ یہ پانچ سات سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کا وزیراعظم چاہے کوئی بھی ہو، اس کو ان ہی پانچ یا سات میں سے ایک چننا ہو گا۔ عمران خان کل 110 فیصد ووٹ لے کر بھی وزیراعظم بن جائیں تو وہ بھی یہ نہیں کر سکتے کہ ابرار الحق یا مولانا طارق جمیل میں سے کسی ایک کو نیا سپہ سالار بنا دیں۔
محمد حنیف کہتے ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں موجود کوئی بھی جنرل کمیونسٹ پارٹی کا خفیہ رکن نکل آئے یا گھر میں چھپ کر استاد بڑے غلام علی خان کو سنتا ہوا پکڑا جائے۔ جسکو بھی آرمی چیف بنایا جائے گا وہ تگڑا اور محب وطن ہو گا اور میں حلف لے کر ابھی سے آپ کو بتا سکتا ہوں کہ وہ ایک پروفیشنل فوجی ہو گا، جس کو عسکری امور کا وسیع تجربہ ہو گا اور جس کو سیاسی معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں ہو گی۔ جو آج حکومت میں ہیں وہ اپوزیشن میں تھے، جو ملک کو آزاد کرانے چلے ہیں، وہ حکمران تھے۔ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ جنرل قمر باجوہ کی ایکسٹینشن کا مسئلہ آیا تو یہ سب سر جوڑ کر بیٹھے اور صرف 13 سے 17 منٹ کے اند مسئلہ حل کر لیا۔ اس وقت ملک میں کوئی قدرتی آفت بھی نہیں تھی۔ لیکن آج انہیں بار بار یاد کرانا پڑتا ہے کہ حضور ایک تہائی ملک سیلابی پانی میں ڈوبا ہوا ہے، لاکھوں لوگ سڑکوں کنارے کھلے آسمان تلے پڑے ہیں، ایسے میں اگر آپ نے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینی ہے، چھوٹی دینی ہے، تو ضرور دیں، لیکن اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ ہماری بھوکی بھینسیں اور بکریاں صرف چارہ مانگتی ہیں۔ آرمی چیف جیسا بھی ہو ہم گزارا کر لیں گے۔

Related Articles

Back to top button