عمران توہین عدالت پر معافی مانگیں گے تو بچیں گے، ورنہ نہیں


شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی اسلام آباد کی خاتون جج زیبا چوہدری کودھمکیاں دینے پرعمران خان 31 اگست کو توہین عدالت کے الزام پراسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وہ معافی مانگ لیں تو عدالت ماضی کی طرح اس بار بھی ان سے نرم رویہ اپناتے ہوئے درگزرکا مظاہرہ کرے گے، تاہم اگرخان صاحب نے توہین عدالت کے الزام کا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا اور معافی نہ مانگی تو پھر ان کے لیے بڑی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور معاملہ سزا اور نااہلی کی جانب بھی جا سکتا ہے۔ 30 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیمرا کی جانب سے عمران خان کی تقاریر پرعائد پابندی تو ختم کر دی لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عدالت خاتون جج کو دی جانے والی دھمکیوں کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے اوراس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے الزامات کو عدالت جتنی سنجیدگی سے لے رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے یہ کیس سننے والا بینچ تین ججوں پر مشتمل تھا لیکن اب یہ کیس پانچ رکنی لارجر بینچ سنے گا جسکی سربراہی چیف جسٹس اطہرمن اللہ خود کریں گے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کے الفاظ کریمنل توہین کے الزام کے زمرہ میں آتے ہیں، شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد عمران خان کو خود عدالت میں پیش ہونا پڑے گا اور غیر مشروط معافی مانگنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔ جب قانونی ماہرین سے پوچھا گیا کہ عمران نے تو خاتون جج کو دی گئی دھمکی کا دفاع کرنے کا عندیہ دیا ہے؟ تو انکا کہنا تھا کہ عمران کے لیے اپنے الفاظ کا دفاع کرنا ممکن نہیں ہو گا اور انہیں غیر مشروط معافی کی طرف ہی جانا ہو گا۔

لیکن قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ عمران خان کی جانب سے ممکنہ طورپرمعافی مانگیں جانے کے باوجود یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ دیکھے کہ اگر کسی نے معافی مانگی ہے تو وہ صرف سزا سے بچنے کے لیے معافی مانگ رہا ہے یا پھر واقعی اسکے پاس ایسی وجوہات ہیں کہ اسکی معافی کو قبول کرلیا جائے۔ ماضی میں اسی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالتوں نے غیرمشروط معافیوں کو نظر انداز کیا اورنہال ہاشمی، طلال چوہدری اور دانیال عزیز جیسے سیاست دانوں کو سزائیں سنا دی تھیں۔

سینئر وکیل راجہ عامرعباس ایڈوکیٹ اس معاملے پرگفتگو کرتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ عمران خان اگرعدالت میں پیش ہوکر اپنے الفاظ پرمعافی نہیں مانگتے توان کے خلاف فرد جرم عائد کر کے انہیں اپنے حق میں دلائل اور ثبوت دینے کا کہا جائے گا۔ اگرعدالت انکے جوابی دلائل اور ثبوتوں سے متفق ہوئی تو انہیں بری بھی کیا جاسکتا ہے، بصورت دیگر اگرعمران پر توہین عدالت کا الزام ثابت ہوگیا تو انہیں پانچ سال تک عوامی عہدے سے نااہل ہونے کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک منتخب وزیراعظم کے ساتھ یہ واقعہ تب ہوا جب یوسف رضا گیلانی کو صرف ایک منٹ کھڑے رہنے کی سزا ملی لیکن اس پرانہیں وزارت عظمیٰ سے فارغ ہونا پڑا۔ یاد رہے کہ گیلانی نے کسی جج کو دھمکی نہیں دی تھی بلکہ تب کے صدر آصف زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں کو تحقیقات کے لیے خط لکھنے سے انکار کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ آصف زرداری کو بطور صدر استثنیٰ حاصل ہے لہذا وہ خط نہیں لکھیں گے، لیکن عدالت نے یہ مؤقف تسلیم نہیں کیا اور توہین عدالت کی فرد جرم عائد کردی۔

ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ عدالت عمران کے ساتھ کیا رویہ اپناتی ہے اورعمران عدالت کے ساتھ کیا رویہ اپناتے ہیں۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے خلاف خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس کی پہلی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل لارجر بینچ نے کی تھی۔ سماعت کے بعد عمران کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا گیا تھا جبکہ لارجر بینچ نے اس معاملے پر 3 سے زیادہ ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دینے کے لیے کیس چیف جسٹس کو بھجوا دیا تھا۔ اب چیف جسٹس اطہر من اللہ خود اس بینچ کی سربراہی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے عمران نے 20 اگست کو اسلام آباد میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دینے والی ایڈیشنل جج زیبا چوہدری کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ شرم کرو، ہم آپ کے خلاف کارروائی کریں گے۔ شہباز گل کی گرفتاری اور جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران نے کہا تھا کہ شہباز گل کو جس طرح اٹھایا اور دو دن جو تشدد کیا، اس طرح رکھا جیسا ملک کا کوئی بڑا غدار پکڑا ہو، آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو ہم نے نہیں چھوڑنا، انہوں نے کہا تھا کہ مجسٹریٹ زیبا، آپ بھی تیار ہوجائیں، ہم آپ کے خلاف بھی ایکشن لیں گے، آپ سب کو شرم آنی چاہیے۔

تاہم اگر ماضی پرنظردوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عمران خان اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ توہین عدالت کے الزام کا سامنا کرچکے ہیں لیکن وہ ہر مرتبہ صاف بچ نکلے۔ 28 اگست 2013 کو سپریم کورٹ نےعمران کے خلاف توہین عدالت کے الزامات کو خارج کر دیا تھا، اور ان کی یہ وضاحت قبول کر لی گئی تھی کہ وہ سینئر ججوں کو بدنام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے اسی سال 26 جولائی کو الزام لگایا تھا کہ عدلیہ اور الیکشن کمیشن نے مئی 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کی۔ اس لیے انہیں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے ججوں کے خلاف طنز کرنے پر طلب کیا تھا۔عمران کا موقف تھا کہ میں نے صرف ریٹرننگ افسران کا حوالہ دیا تھا اور کبھی سپریم کورٹ یا اعلیٰ عدلیہ کا نام نہیں لیا۔ تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس انور ظہیر جمالی نے نوٹس خارج کردیا تھا۔

لیکن اسکے بعد 18 جولائی 2014 کو اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر نصیر کیانی اور جنرل سیکرٹری نعیم گجر نے سپریم کورٹ اور سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو گالیاں دینے، بدنام کرنے، تضحیک کرنے اور بے عزتی اور نفرت پیدا کرنے پرعمران کو ایک بار پھر سپریم کورٹ میں گھسیٹ لیا تھا۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی تھی کہ اگر عمران کو روکا نہ گیا تو سابق چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے دیگر ججزکی عزت، آبرو حتیٰ کہ جان بھی محفوظ نہیں رہے گی۔ 24 جولائی 2014 کو سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے عمران کے خلاف سپریم کورٹ کو بدنام کرنے اور 11 مئی 2013 کے انتخابات میں اپنے حریفوں کی بالواسطہ مدد کرنے کا الزام لگانے پر 20 ارب روپے کا ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ عمران کو اپنے نوٹس میں سپریم کورٹ کے سابق چیف ثالث نے کہا تھا کہ میں آپ سے صرف 15 ارب روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کرتا ہوں اورمزید 5 بلین روپے صرف ذہنی اذیتوں، ایذا رسانی، تذلیل وغیرہ کے ہرجانے کے طور پر جو مجھے اور میرے اہل خانہ کو پہنچا۔ تاہم افتخار چوہدری نے کہا کہ اگر عمران دو ہفتوں میں اپنے تضحیک آمیز ریمارکس پر غیر مشروط معافی مانگیں تو نوٹس واپس لے لیا جائے گا۔ 25 اگست 2014 کو افتخار چوہدری سے دن میں معافی مانگنے کے بعد، عمران نے اسی شام ایک بار پھر ان پر 2013 کے انتخابات میں اپنے مخالفین کی حمایت کے لیے انجینئرنگ کا الزام لگا دیا تھا۔

Related Articles

Back to top button