عمران جن ججوں کو کوس رہے ہیں پہلے انکی تعریفیں کرتے تھے


سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بدلے ہوئے حالات میں سپریم کورٹ کے جو معزز جج حضرات تنقید کی زد میں ہیں ماضی میں کپتان اپنے حق میں فیصلہ دینے کی وجہ سے ان کی تعریفوں کے پل باندھتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے سات اپریل کو قومی اسمبلی بحال کرنے اور تحریک عدم اعتماد پر سابق وزیر اعظم کے خلاف ووٹنگ کروانے کا حکم دینے کے بعد سے پاکستانی عدلیہ عمران خان کی تنقید کی زد میں ہے۔ اپنے حالیہ جلسوں میں عمران خان بار بار یہ بات دہرا رہے ہیں کہ انہوں نے ایسا کونسا جرم کیا تھا کہ 9 اپریل کی رات سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے دروازے کھلوائے گئے۔
دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر کچھ لوگ دس پندرہ ہزار لوگ جمع کر کے عدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں، ہم اپنے فیصلوں کا احترام چاہتے ہیں؟ عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ عدالت آئینی کام سرانجام دیتی ہے۔ قومی لیڈروں کو عدالتی فیصلوں کا دفاع کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا تحفظ کرنے پر عدلیہ کو گالیاں پڑتی ہیں لیکن ہم اپنا کام کرتے رہیں گے۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی بحال کرنے اور ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دینے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں ایسے سینئر جج شامل ہیں جو ماضی میں ملکی تاریخ کے چند اہم اور تاریخی فیصلوں کا حصہ رہے ہیں اور عمران خان ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے رہے ہیں۔ ’فیصلوں پر تنقید کریں، منصف پر نہیں‘۔ یہ کہنے والے چیف جسٹس بندیال نے سپریم کورٹ کے اس لارجر بینچ کی سربراہی کی تھی جس نے تین ‎اپریل 2022 کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر ازخود نوٹس دیا تھا اور پھر سات اپریل کو کیس کا فیصلہ سنا دیا تھا جو عمران خان کو بہت ہی ناگوار گزرا۔ اس رولنگ میں عمران کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو سازش اور آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا تھا جسکے فوری بعد وزیراعظم کی تجویز پر صدر مملکت نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس رولنگ پر ازخود نوٹس لیا، جسکی سماعت پانچ روز جاری رہی۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دے دی تھی، اسمبلی بحال کردی تھی اور نو اپریل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا حکم دیا۔ اس کیس کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جج ماضی میں کون سے فیصلے دیتے رہے ہیں، آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال سابق صدر مشرف کے 2007 میں دوسرے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف لینے سے انکار کرنے والے ججوں میں سے ایک ہیں۔ بندیال 2019 میں قاسم سوری کے انتخاب کو کالعدم قرار دیے جانے سے متعلق الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ اسی تین رکنی بینچ نے قاسم سوری کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکم جاری کیا تھا کہ جب تک الیکشن ٹربیونل کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست پر فیصلہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک متعلقہ حلقے میں ضمنی انتخاب نہ کروائیں۔
اس کے بعد قاسم سوری رکن اسمبلی کے ساتھ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے پر بھی برقرار رہے لیکن دوبارہ ان کا کیس نہیں سنا گیا۔
جسٹس عمر عطا بندیال 2019 میں وزیراعظم عمران خان کو ’صادق اور امین‘ قرار دینے سے متعلق فیصلہ دینے والے بینچ میں بھی شامل تھے، جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کےسربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
پانچ رکنی بینچ کے ایک اور سینئر جج جسٹس اعجاز الاحسن نے ماضی میں جن اہم کیسوں کی سماعت کی، ان میں پاناما پیپرز کا کیس بھی شامل ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن سماعت کرنے والے بینچ کے رکن تھے جس نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تھا۔ انہیں اور ان کے بچوں کے حوالے سے نیب میں ریفرنس دائر کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن سینیٹ اوپن بیلٹ کیس کے پانچ رکنی بینچ کا حصہ بھی رہے، جس نے انتخابات سیکریٹ بیلٹ پر ہی رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا۔
تحریک عدم اعتماد کیس کے لارجز بینچ کے تیسرے جج جسٹس مظہر عالم ہیں جو 2016 میں پرویز مشرف پر سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ کا حصہ رہے، جس میں سابق فوجی صدر کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔
اسی عدالت نے ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ کیس اپنی نوعیت کا تاریخ کا پہلا ایسا کیس تھا جس میں آرٹیکل چھ کے تحت ایک فوجی آمر کے خلاف کارروائی کی گئی اور اسے اشتہاری قرار دیا گیا۔
اسی طرح جسٹس مظہر عالم دس رکنی لارجر بینچ کے ان چھ ججوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے سال 2021 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست منظور کی۔ اسی بینچ کے ایک اور جج جسٹس منیب اختر بھی ہیں۔ اس کیس کی سماعت کے دوران ایک وقت ایسا آیا جب جسٹس منیب اختر نے دوسرے فاضل جج کی ’بات میں مداخلت نہ کریں، یہاں کوئی ریس تو نہیں لگی ہوئی، جیسے سخت‘ ریمارکس دیے تھے۔ جسٹس منیب اختر 2018 میں سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوئے تھے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل 2021 میں سپریم کورٹ میں بطور جج تعینات ہوئے تھے۔
یہ سات سال میں پہلی ایسی تعیناتی تھی جہاں بلوچستان ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ میں کسی جج کو تعینات کرنے کی سفارش کی گئی۔
جسٹس جمال خان مندوخیل بھی ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ کا حصہ تھے۔

Related Articles

Back to top button