عمران خان سے بات چیت کا بیک ڈور چینل بند کر دیا گیا

عمران خان اور انکے ساتھیوں کی جانب سے فوجی افسران اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہرزہ سرائی میں تیزی آنے کے بعد تحریک انصاف کیساتھ بیک ڈور رابطوں کا چینل بند کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ میں تمام حدیں کراس کرتے ہوئے اتنی دور نکل چکے ہیں کہ اب ان کے ساتھ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں اب بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ نے بھی دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنا لی ہے اور عمران خان کے حوالے سے نئی پالیسی نئے آرمی چیف کی تقرری کے بعد ہی تشکیل دی جائے گی۔

یاد رہے کہ فوری الیکشن کے انعقاد کے لیے عمران خان کی جانب سے جاری نام نہاد لانگ مارچ کے باوجود شہباز شریف حکومت کی جانب سے واضح اعلان کیا جا چکا ہے کہ نئے الیکشن حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد ہوں گے۔ فوری الیکشن کے معاملے پر کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لانے سے متعلق نواز شریف کے واضح اعلان نے عمران خان کی فرسٹریشن میں اضافہ کر دیا ہے اور موصوف نے مزید ’’خطرے ناک‘‘ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران نواز شریف کی واپسی کی تیاریاں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ ایسے میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس موسم سرما پر سیاسی گرما گرمی حاوی رہے گی اور راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں کی خنکی جب باقاعدہ جاڑے میں تبدیل ہو رہی ہوگی تو عمران کا لانگ مارچ راولپنڈی میں ڈیرے ڈال رہا ہوگا۔

لانگ مارچ کے نئے شیڈول کے مطابق حقیقی آزادی حاصل کرنے کے لیے کوشاں عمرانڈوز کے قافلے کو 20 سے 21 نومبر تک راولپنڈی پہنچنا ہے، جہاں عمران کے بقول وہ لانگ مارچ کی کمان سنبھالنے کے لئے موجود ہوں گے۔ یہ ٹھیک وہ وقت ہوگا، جب نئے آرمی چیف کی تقرری کا اعلان متوقع ہے۔ واقفان حال کے مطابق عمران خان نے لانگ مارچ کے راولپنڈی پہنچنے کا شیڈول اسی اہم تقرری کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا ہے۔ چنانچہ شروع سے ہی قافلے کو دانستہ کچھوے کی چال چلایا جارہا ہے۔ شنید ہے کہ اپنی منفی طرز سیاست کے زیر اثر کپتان نئی تقرری کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرے گا۔ ان ہی تاریخوں میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد متوقع تھی لیکن انہوں نے اپنا دورہ پاکستان ملتوی کر دیا ہے۔ نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

دوسری جانب یہ واضح ہونے کے بعد کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی جانب سے مزید توسیع لینے کی باتیں محض افواہ تھیں اور اب نئے آرمی چیف کی آمد آمد ہے، پی ٹی آئی کی صفوں میں خاصی مچ چکی ہلچل ہے۔ خاص طور پر عمران بہت پریشان ہیں جنہوں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں مزید 6 ماہ توسیع کی تجویز دی تھی۔ لیکن حکومت کی جانب سے یہ تجویز مسترد کیے جانے کے بعد اب فوجی ترجمان بھی اعلان کر چکا ہے کہ جنرل قمر باجوہ نے اپنے الوداعی دور شروع کر دیے ہیں۔ یہ بھی طے ہو چکا ہے کہ نئی تقرری وزیر اعظم شہباز شریف نے نواز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن اور دیگر اتحادی جماعتوں کے مشورے سے کرنی ہے۔ لندن سے آمدہ ان خبروں نے کپتان کی پریشانی بڑھا دی ہے کہ سینئر ترین جرنیل ہی اگلا آرمی چیف ہوگا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ نئے سپہ سالار کا اعلان 20 سے 25 نومبر کے دوران کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہونے کے ساتھ ہی کہ جنرل باجوہ مزید توسیع نہیں لے رہے، عمران کیساتھ بیک ڈور چینل بھی فی الحال بند ہو گیا ہے۔ قبل ازیں کوشش کی جارہی تھی کہ نئی تقرری سے پہلے عمران اور اتحادی پارٹیوں کو کسی طرح میز پر بٹھا دیا جائے تاکہ آئندہ انتخابات سے متعلق کسی ایک تاریخ پر فریقین کا اتفاق ہو جائے، یوں ملک میں سیاسی استحکام لایا جا سکتا تھا۔ بیک ڈور چینل کے ذریعے سیاسی معاملات بہتر بنانے کی کوششوں میں صدر عارف علوی بھی پیش پیش رہے۔ تاہم اب انہوں نے خود یہ اعتراف کر لیا ہے کہ ان کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوشش کی کہ مذاکرات ہوں اور انتخابات کا راستہ نکل آئیم لیکن مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔ انتخابات کا بھی کوئی حل نہیں نکلا۔

Related Articles

Back to top button