عمران خان نے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیوں کیا ہے؟


پچھلے کئی برسوں سے اپنی متحارب سیاسی قیادت کو چور اور ڈاکو قرار دیتے ہوئے ان سے مذاکرات سے انکار کرنے والے عمران خان نے اب تین اہم ایشوز پر بات چیت کے لئے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی ہے جس کے فوری بعد صدر عارف علوی نے ملک میں نئی حکومت کے قیام کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اسی دوران یہ افواہیں بھی زور پکڑ گئی ہیں کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ملک کو موجودہ سیاسی اور معاشی بحران سے نکالنے کے لیے نرم مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ گرینڈ ڈائیلاگ کروایا جا سکے۔

یاد رہے کہ جیو نیوز سے وابستہ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے اگلے روز یہ انکشاف کیا تھا کہ ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نومبر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے آرمی چیف کی تقرری، معیشت کی بہتری اور الیکشن ریفارمز جیسے معاملات پر حکومت سے بات چیت کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے عمران نے مسلسل یہ موقف اپنا رکھا تھا کہ وہ زرداری اور شریف جیسے چوروں اور ڈاکوؤں سے کسی صورت مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ لیکن سہیل وڑائچ نے بتایا ہے کہ عمران نے ان کے ساتھ لاہور میں ایک ملاقات میں انکشاف کہ انکی مختلف سیاسی رہنمائوں سے تین نکات پر بات چیت ہوئی ہے جن میں اگلے آرمی چیف کی تقرری، معاشی بحران اور الیکشن ریفارمز شامل ہیں۔
عمران نے کہا کہ اسوقت تمام لوگ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ وسیع تر سیاسی ڈائیلاگ کی راہ ہموار ہونی چاہیے تاکہ پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکالا جاسکے۔

اس موقع پر سہیل وڑائچ نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا ایسے گرینڈ ڈائیلاگ میں وہ خود بھی شامل ہوں گے؟ جواب میں عمران خان نے کہا کہ وہ پاکستان کے مفاد میں وسیع تر ڈائیلاگ کیلئے تیار ہیں۔ عمران خان کا یہ بیان سامنے آنے کی دیر تھی کہ صدر عارف علوی کی جانب سے بھی ایک معنی خیز بیان جاری ہو گیا جس میں انہوں نے کہا کہ ہم ایک بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی بحران کا حل نئی حکومت کا قیام ہے جس کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر عارف علوی نے یہ بیان عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مشورے سے دیا ہے جس میں یہ پیغام چھپا ہے کہ اب حکومت کو نئے الیکشن کی طرف جانے کا سوچنا چاہیے۔ صدر علوی نے مذید کہا کہ ایسی حکومت بنائینجانی چاہئیے جو عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔ علوی نے کہا کہ ہم جمہوریت کو مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں ہائی جیک نہیں ہونے دیں گے۔ دوسری جانب جیو نیوز سے ہی وابستہ ایک اور صحافی انصار عباسی نے دعوی کیا ہے کہ نئے الیکشن کا بگل بج چکا ہے اور اگلے انتخابات اکتوبر 2022 میں ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ فوری نئے الیکشن کے لیے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جلد مذاکرات بھی شروع ہو سکتے ہیں جو کہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر ہوں گے۔

انصار عباسی کے بقول موجودہ سیاسی و معاشی عدم استحکام کے پیش نظر اسٹیبلشمنٹ ماضی کی طرح سیاستدانوں کو مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے پر غور کر رہی ہے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ سیاستدانوں نے ہی کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے اسلام آباد مارچ کے دوران بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مذاکرات کے لیے تمام سیاست دانوں کو آمادہ کیا تھا لیکن بدقسمتی سے تب مثبت مذاکرات نہ ہو سکے تھے۔ تاہم اب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اسٹیبلشمنٹ کی غیر مشروط مداخلت کے بعد فریقین کے درمیان جلد مذاکرات شروع ہونے کا امکان ہے۔ انکا کہنا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نرم مداخلت کا امکان ہے تا کہ سیاست دانوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ انصار عباسی کے مطابق نرم مداخلت کا فیصلہ ملکی معیشیت کی تباہ کن صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

لیکن دوسری جانب سے فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ان خبروں کو سختی سے رد کیا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نرم مداخلت کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کے مابین کوئی مذاکرات کروانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج مکمل غیر سیاسی ہے اور اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ادھر سینئر صحافی کامران خان نے کہا ہے کہ “پوری PTI لیڈرشپ بمعہ عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ابھی تک ان کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے بشمول اسٹیبلشمنٹ کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا اب بھی یہی مطالبہ ہے کہ حکومت وقت استعفی دے گی تو مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں ورنہ نہیں۔

Related Articles

Back to top button