عمران خان نے کرسی کی خاطرعوام کو کیسے ماموں بنایا؟


الیکشن سے پہلے پاکستان کے سادہ عوام کے ساتھ بڑے بڑے وعدے کر کے اقتدار حاصل کرنا پاکستانی سیاست میں اب ایک روٹین بن چکی ہے۔ اقتدار کے حصول کے لیے سیاستدان ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں اور کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ انتخابات سے قبل عوام کو سبز باغ دکھانا، ان سے ہر اس چیز کا وعدہ کرنا جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے، سیاسی حریفوں کو برا بھلا کہنا، انہیں نیچا دکھانے کے لیے کہانیاں بنانا، سیاسی مخالفین کو نااہل و کرپٹ ثابت کرنا اور خود کو حاجی اور ایماندار ثابت کرنا آجکی سیاست کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔
الیکشن 2018 سے پہلے کچھ ایسے ہی وعدے عمران خان بھی کیے تھے لیکن حقیقت یہی ہے کہ انہوں نے جو بھی وعدہ کیا اسے پورا بھی کر کے دکھایا۔
سوشل میڈیا پر وائرل عمران خان کے حوالے سے ایک طنزیہ تحریر میں یاد دلایا گیا ہے کہ عمران خان نے 2013 کے الیکشن میں نگران وزیر اعلی نجم سیٹھی پر 35 پنکچر لگانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مستقبل میں ان کا مقابلہ کریں گے۔ لہذا اپنا یہ وعدہ پورا کرتے ہوئے انہوں نے مقابلے میں ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 23 پنکچر لگا دیے۔
عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ چاہے تو گدھے کو بھی وزیراعظم بنا دے اور ایسا ہوتے بھی عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ عمران خان نے کہا تھا کہ جو لوگ عوام کے ذریعے الیکٹ ہونے کی بجائے سلیکٹ ہوکر آتے ہیں ان کو عوام کا رتی بھر بھی خیال نہیں ہوتا لہذا وہ صرف اپنی جیبیں بھرتے ہیں۔ آج ہم خان صاحب کے نئے پاکستان میں شوگر اور آٹا سکینڈل کی صورت میں یہ سب ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔
عمران نے کہا تھا کہ شریف برادران اپنی پوری ٹیم کے ساتھ الیکشن لڑتے ہیں، جج بھی ان کا ہوتا ہے، پریذائڈنگ افیسر بھی ان کا ہوتا ہے اور پولیس اور انتظامیہ بھی انکے ساتھ ہوتی یے۔ اور اب ڈسکہ میں عوام نے دیکھ لیا کہ کس طرح کپتان نے ان حکومتی اداروں کو دھاندلی کرنے کے لئے استعمال کیا۔ یہ اور بات کہ پولیس سے لے کر انتظامیہ تک سبھی لوگ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے اور الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نشان عبرت بن گئے۔
دوسری طرف سپریم کورٹ بھی عمران خان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے سینٹ الیکشن اوپن اوپن بیلٹ پر کروانے کی کوششوں میں مصروف ہے حالانکہ ایسا کرنا آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں۔
ڈی چوک پر دھرنے کے دوران عمران خان نے کہا تھا کہ جب حکومت چوری کرتی ہے تو اس کا بوجھ عوام پر ڈالتی ہے اور بجلی گیس اور پٹرول کی قیمت بڑھا دیتی ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں عوام اور زیادہ غریب ہو جاتی ہے اور حکمرانوں کی جیبیں اور بھاری ہو جاتی ہیں۔ اور سچی بات یہ ہے کہ عمران خان نے یہ بھی کر دکھایا۔عمران خان نے کہا تھا کہ جب لوگ حکومت میں آتے ہیں تو اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو نوازتے ہیں۔ عمران خان نے یہ بھی کر کے دکھایا اور اہنے دوستوں سے لیکر سالی تک سب کو نوازا۔ کسی کو وزیر بنایا تو کسی کو مشیر اور کسی کو ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک لگایا تو کسی کو کرکٹ بورڈ کا چیئرمین لگایا۔ عمران خان نے اپنا یہ وعدہ اس دیدہ دلیری سے نبھایا کہ شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو فیصل سلطان کو اپنا مشیر صحت لگا دیا۔
عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ جب لوگ منی لانڈرنگ کرتے ہیں تو ڈالر کی قیمت بڑھ جاتی یے اور روپے کی قیمت گر جاتی ہے جس سے مہنگائی بڑھتی ہے اور عوام کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ نواز شریف دور کے مقابلے میں آج کپتان دور میں ڈالر کی قیمت 50 روپے بڑھ چکی ہے اور روپے کی ویلیو گر گئی ہے۔ یوں مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کی چیخیں ہر جانب سے سنائی دیتی ہیں۔
عمران خان اور ان کے دوست اسد عمر کہا کرتے تھے کہ 45 روپے لیٹر والا پیٹرول حکومت سو روپے میں دے کے باقی 55 روپے اپنی جیب میں ڈالتی ہے۔ یہ وعدہ بھی عمران نے پورا کیا اور اب پچھلے کئی مہینوں سے ہر پندرہ دن بعد پٹرول کی قیمت میں اضافہ کئے چلے جارہے ہیں۔ عمران خان نے کہا تھا کہ جب آپ کا وزیراعظم چور ہوتا ہے تو دنیا میں اس کی کوئی عزت نہیں کرتا اور اس سے نہ ہی ملک کے عوام اور پاسپورٹ کی عزت ہوتی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال آج پاکستانیوں خو درپیش یے۔
آج سفارتی سطح پر حکومت ہر محاذ پر ناکام ہے اور ہمارے پاسپورٹ کی اوقات مزید خراب ہوچکی ہے۔ دبئی جیسے ملک نے ہمارے ویزے تک بند کر دیے ہیں اور مسئلہ کشمیر پر ہم عرب ممالک کی حمایت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تینوں کمیٹیوں کی سربراہی پر بھی آج انڈیا براجمان ہے۔
عمران خان الیکشن سے پہلے مودی کا جو یار ہے غدار ہے کے نعرے لگاتے تھے۔ لیکن وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے خود مودی سے یاری ڈال لی اور پھر مودی کو کہا کہ آپ لوگ دو قدم آگے بڑھائیں، ہم چار قدم بڑھانے کو تیار ہیں۔ یہ بھی مت بھولیے کہ صرف مودی کو خوش کرنے کے لئے ہی کپتان اسے کشمیر دے دیا اور ہھر ابھینندن بھی اور اب کلبھوشن دینے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

عمران خان نے کہا تھا کہ ہم ایسا نظام لائیں گے کہ لوگوں کو ادویات کھانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ آج ادویات اتنی مہنگی ہوگئی ہیں کہ غریب آدمی واقعی ادویات خرید کر کھا نہیں سکتا۔ عمران خان نے کہا تھا کہ جب ہماری حکومت آئے گی تو ہم لوگوں کا معیار زندگی بلند کر دیں گے۔ آج عمران خان کی حکومت میں ہر چیز کی قیمت بلند ترین سطح پر چلی گئی ہے اور لوگ 50 والی چیز سو روپے میں اور سو روپے والی چیز تین سو روپے میں خریدنے پر مجبور ہیں۔ عمران خان نے کہا تھا کہ جب مہنگائی ہوتی ہے تو غربت میں اضافہ ہوتا ہے اور غریب آدمی مرتا ہے۔ ان کا کہا آچ سچ ہوگیا ہے کیونکہ دو کروڑ پاکستانی مزید غربت کی سطح سے نیچے چلے گئے ہیں۔ اور مت بھوکیے کہ یہ بھی عمران خان نے کہا تھا کہ جب ہماری حکومت آئے گی تو چیخیں نکلیں گی، اور آج پورے پاکستان کے عوام چیخیں مار رہی ہے۔

لیکن عمران خان کا ایک وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہو سکا جس کا عوام کو شدت سے انتظار ہے۔ عمران خان شاید بھول گے کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر میں نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیا تو خودکشی کر لوں گا۔ پاکستانی عوام منتظر ہیں خان صاحب؛ اس وعدے کو آپ کب پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button