عمران ساحر شمشاد کو نیا آرمی چیف کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟

عمران خان کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر انکی جانب سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید توسیع دینے کی تجویز قبول نہیں کی جاتی تو نئے آرمی چیف کے طور پر موجودہ جرنیلوں میں سے پی ٹی آئی چئیرمین کے فیورٹ امیدوار کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد ہیں جو کہ موجودہ کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے قریبی دوست ہیں اور دونوں کا چکوال کنکشن کی وجہ سے 30 سال پرانا تعلق بھی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد اس وقت جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں نمبر دو پر ہیں اور ان کے قریبی ذرائع دعوی رہے ہیں کہ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ نے حسب وعدہ مذید توسیع نہ لی تو نئے آرمی چیف کے لیے ان کا ووٹ بھی ساحر شمشاد کو ہی پڑے گا۔
یاد رہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے وزارت دفاع کی جانب سے وزیراعظم کو تین یا پانچ جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ فراہم کی جاتی ہے لیکن یہ سراسر وزیر اعظم کا اپنا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ کس جرنیل کو آرمی چیف چنتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان اور جنرل باجوہ کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی آرمی چیف کی دوڑ سے باہر ہو جانے کے بعد ساحر شمشاد کو ہی نیا آرمی چیف لگتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کا نہ صرف سابقہ آئی ایس آئی چیف فیض حمید کے ساتھ گہرا تعلق ہے بلکہ وہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کے بھی قریب گردانے جاتے ہیں۔ لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ عمران خان کے سیاسی گرو سمجھے جانے والے سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کو ساحر شمشاد اپنے بزرگوں کا درجہ دیتے ہیں۔ ایسے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو آرمی چیف لگایا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فوج میں عمران خان کا حمایتی فیض حمید دھڑا برسراقتدار آ جائے گا۔
عمران خان کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ وہ نواز شریف اور آصف زرداری کو نئے آرمی چیف کی سلیکشن نہیں کرنے دیں گے، ملک بھر میں اس وقت یہ بحث جاری ہے کہ خان صاحب کی جانب سے میرٹ پر نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے کیا مراد ہے کیونکہ پچھلے چار فوجی سربراہان کی تعیناتیاں سنیارٹی کی بنیاد پر نہیں ہوئی تھیں، اس کے علاوہ جب جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ کا وقت آیا اور عمران کو خود نیا آرمی چیف لگانے کا موقع ملا تو انھوں نے ایکسٹینشن دینے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے آئین میں ترمیم بھی کروا دی۔ اسی لئے اب جبکہ جنرل باجوہ 28 نومبر کو ریٹائر ہونے جا رہے ہیں تو عمران نے ایک مرتبہ پھر ایکسٹینشن کا شوشہ چھوڑ دیا ہے حالانکہ جنرل باجوہ پہلے ہی اپنی مدت پوری ہونے پر گھر جانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کی جانب سے نواز شریف اور آصف زرداری کو نیا آرمی چیف لگانے کی اجازت نہ دینے کے اعلان کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وزارت عظمی سے نکل جانے کے باوجود اب بھی اپنی مرضی کا آرمی چیف لگتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ عمران کے قریبی ساتھی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اس حکومت کا لگایا ہوا آرمی چیف متنازع ہو جائے گا اس لیے یہ فیصلہ یا تو اگلی حکومت کرے یا پھر میرٹ پر کیا جائے۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ میرٹ سے مراد لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو آرمی چیف بنانا ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ساحر شمشاد سینئر ترین جج جرنیل ہیں اس لئے ان کو چیف لگانا چاہیے۔ تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ساحر شمشاد سنیارٹی لسٹ میں میں پہلے نہیں بلکہ دوسرے نمبر پر ہیں۔
نومبر 2022 میں اگر وزیر اعظم شہباز شریف سینیارٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی چیف کا انتخاب کرتے ہیں تو موجودہ فوجی سربراہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت 76 ویں لانگ کورس کے افسران فوج میں سب سے سینیئر ہیں۔76ویں لانگ کورس میں آج سینیئر ترین افسر لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ہیں تاہم انہیں تکنیکی بنیاد پر نئے آرمی چیف کی دوڑ سے باہر بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے دو روز پہلے ہی ان کی ریٹائرمنٹ ہو جائے گی۔ عاصم منیر کی بطور تھری سٹار تعیناتی تو ستمبر 2018 میں ہو گئی تھی تاہم انھوں نے اگلے دو ماہ رینک نہیں لگایا تھا۔ اس لیے ان کی چار سالہ مدت ملازمت 27 نومبر کو یعنی موجود آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ سے صرف دو دن پہلے پوری ہوگی اور وہ اس دوڑ میں اسی صورت میں شامل ہو سکتے ہیں کہ وزیر اعظم کو بھجوائی جانے والی سنیارٹی لسٹ میں ان کا نام بھی شامل ہو۔ لیکن اس کا انحصار جنرل باجوہ پر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
عسکری ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کے لیے منتخب ہونے کے اہل ہو سکتے ہیں کیونکہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کی ریٹائرمنٹ کے دن جنرل عاصم حاضر سروس ہوں گے۔ لیکن انہیں آرمی چیف کی دوڑ میں شامل کرنے کے لئے یا تو دو دن کی توسیع دینا یو گی یا پھر جنرل باجوہ کی دو روز قبل ریٹائرمنٹ کرنا ہو گی۔ تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ نئے آرمی چیف کی سنیارٹی لسٹ جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے کافی پہلے وزیر اعظم کے پاس جاتی ہے لہٰذا اس میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا نام لازمی شامل ہوگا۔
عاصم منیر کے بعد 76 ویں لانگ کورس میں دوسرا نام لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا ہے۔ اسکے بعد 76وین لانگ کورس سے لیفٹیننٹ جنرل چراغ حسرت کا نام آتا ہے جو سنیارٹی لسٹ میں چھٹے نمبر پر ہیں۔ ماضی میں بننے والے فوجی سربراہان کا ریکارڈ اور ان جنرلز کی اسائنمنٹس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ 76ویں کورس کے تقریبا تمام ہی افسران مضبوط پروفائل رکھتے ہیں۔ سندھ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے ساحر شمشاد مرزا اس وقت ٹین کور، جسے راولپنڈی کور بھی کہا جاتا ہے، کمان کر رہے ہیں۔ اس سے قبل خود آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی یہی کور کمان کی تھی۔ یہ علاقے کے لحاظ سے فوج کی سب سے بڑی کور ہے جو کشمیر اور سیاچن جیسے علاقوں کی نگرانی کرتی ہے۔
اس سے پہلے ساحر فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی بطور چیف آف جنرل سٹاف تعینات رہے۔ وہ اپنے کیریئر میں تین بار یعنی بطور لیفٹیننٹ کرنل، بریگیڈیئر اور پھر بطور میجر جنرل ملٹری آپریشنز یعنی ایم او ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے۔ اسکے علاوہ وہ وائس چیف آف جنرل سٹاف رہے جو ملٹری آپریشنز اور ملٹری انٹیلی جنس کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ چیف آف جنرل سٹاف بنے۔ بطور میجر جنرل انھوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی ڈویژن کی کمانڈ کی جو اس وقت جنوبی وزیرستان میں ہونے والے آپریشنز کی نگرانی کر رہی تھی۔ انہیں موجودہ کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا بہترین دوست قرار دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان دور حکومت میں فوجی افسران پر مشتمل جو تین کا ٹولہ تمام تر معاملات تھا اس میں جنرل باجوہ کے علاوہ فیض حمید اور ساحر شمشاد شامل تھے۔

Related Articles

Back to top button