عمران سینئر فوجی افسر کا نام FIR میں ڈالنے پر اڑ گے

عمران خان نے وزیر آباد میں خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر تب تک درج کروانے سے انکار کر دیا ہے جب تک اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس میجر جنرل فیصل نصیر کا نام بطور ملزم شامل نہیں کیا جاتا، حالانکہ حملہ آور پہلے ہی گرفتار ہو چکا ہے اور اعتراف جرم بھی کر چکا ہے۔ اسکے علاوہ تفتیش کار مزید 2 افراد کو گرفتار کر چکے ہیں جنہوں نے ملزم کو اسلحہ بیچا تھا، لیکن خان صاحب کی جانب سے ملزمان میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے ساتھ آئی ایس آئی کے ڈی جی “سی” کا نام شامل کرنے پر اصرار کے باعث ایف آئی آر درج نہیں ہو پا رہی۔ بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر کے علاوہ چوہدری پرویز الہی بھی عمران خان کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حملے کو سیاسی بنانے اور اس میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ملوث کرنے کی بجائے حقیقت پر مبنی ایف آئی آر درج کروائی جائے، خصوصا جب فوجی ترجمان نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ کسی فوجی افسر پر جھوٹا الزام برداشت نہیں کیا جائے گا اور ادارہ اپنے افسر کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوگا۔

بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے علاوہ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس فیصل شاہکار بھی وزیرآباد حملے کی ایف آئی آر میں سینئیر فوجی افسر کا نام شامل کرنے پر تیار نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حملہ آور کسی سازش کا حصہ نہیں تھا اور اس نے جو کچھ کیا وہ ایک انفرادی عمل تھا۔ نوید احمد نامی ملزم اپنے ویڈیو بیان میں بھی بتا چکا ہے کہ وہ عمران خان کی جانب سے اپنا موازنہ نبی پاک سے کرنے کی وجہ سے مشتعل ہوا اور انہیں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

حملے کے چند ہی گھنٹوں بعد اور اس حقیقت کے باوجود کہ حملہ آور پکڑا جا چکا تھا، عمران نے اسد عمر کے ذریعے تین افراد کے نام لیے جن میں شہباز شریف، رانا ثناء اللّٰہ اور میجر جنرل فیصل نصیر شامل تھے۔ عمران نے ان تینوں کو خود پر حملے کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس کے بعد شوکت خانم ہسپتال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران نے یہ تینوں نام دوبارہ دہرائے اور ان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔ عمران نے مطالبہ کیا کہ اگر اگر وزیراعظم شہباز شریف وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان اور میجر جنرل فیصل نصیر کو ان کے عہدوں سے برطرف کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز نہ کیا تو وہ صحت یاب ہوتے ہیں دوبارہ لانگ مارچ شروع کر دیں گے۔

عمران نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی پر واضح کر دیا ہے کہ جب تک ایف آئی آر میں میں آئی ایس آئی کے سینئیر افسر کا نام شامل نہیں ہوتا، وہ کیس درج نہیں کروائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایف آئی آر اس لئے درج نہیں ہو پا رہی کہ تمام لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ عمران کے برعکس، پرویز الہٰی کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ پولیس وہ ایف آئی آر کاٹے جو عمران چاہتے ہیں۔ وزیر اعلی نے یہ معاملہ انسدادِ دہشت گردی کے محکمے کو بھیجا ہے تاکہ سائنسی بنیادوں پر منطقی تحقیقات ہوسکیں اور ساتھ ہی یہ پتہ چلایا جا سکے کہ گرفتار شدہ مشتبہ حملہ آور کے پیچھے کون ہے۔ تاہم یہ اطلاعات بھی ہیں کہ 4 نومبر کو ہسپتال سے خطاب کے بعد عمران خان خان اور چودھری پرویز الہی میں ایف آئی آر کے معاملے پر گرما گرمی بھی ہو گئی۔

عمران خان نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان تین افراد کے عہدوں سے ہٹنے تک احتجاج جاری رکھیں۔ دودری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عمران خان اپنی پارٹی کے رہنماؤں سے بھی ناراض ہیں کیونکہ وہ قاتلانہ حملے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر لانے میں ناکام رہے۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران نے اپنے پارٹی رہنماؤں سے گلہ کیا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد کتنے وسیع پیمانے پر احتجاج ہوا تھا جب کہ ان پر حملے کے بعد ویسا ردعمل نہیں آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جب اس گلے کے جواب میں اسد عمر نے خان صاحب سے کہا کہ اللہ کا شکر کریں کہ بی بی قتل ہو گئی تھی لیکن آپ بچ گئے ہیں، تو موصوف اس پر بھی سیخ پا ہو گے۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ وہ کھل کر ان تینوں افراد کے نام لیں جنہوں نے انکی جان لینے کی کوشش کی۔ تاہم پارٹی کے قائدین شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ کا نام لینے کو تیار ہیں لیکن میجر جنرل فیصل نصیر کا نام لینے سے گھبرا رہے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کروانے میں کئی اور قانونی پیچیدگیاں بھی آڑے آ رہی ہیں، انکا کہنا ہے کہ جب عمران زخمی ہوئے تو انہیں سب سے پہلے قریبی سرکاری ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ قانون ابتدائی طبی علاج کے لیے متاثرہ شخص کو نجی طبی مراکز لے جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ’عمران خان کو وزیر آباد سے شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور منتقل کیا گیا تھا جو کہ سرکاری طور پر قابل قبول میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مجاز نہیں ہے۔اس وجہ سے بھی وزیرآباد حملے کی ایف آئی آر کا اندراج لٹکا ہوا ہے۔

Related Articles

Back to top button