عمران نے آرمی چیف کے تمام امیدواروں کو متنازع کیسے بنا دیا؟

سابق وزیراعظم عمران خان مسلسل نئے آرمی چیف کی تقرری کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو نیا آرمی چیف لگانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور فوجی سربراہ کا تقرر میرٹ پر ہونا چاہیے۔ تاہم موصوف یہ وضاحت نہیں کر رہے کہ ان کے نزدیک آرمی چیف کی تقرری کا میرٹ کیا ہے؟ ویسے بھی جب عمران کو میرٹ پر نیا آرمی چیف مقرر کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے نواز شریف کے لگائے ہوئے جنرل قمر باجوہ کے عہدے میں توسیع کر دی تھی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ جب نواز شریف اور شہباز شریف دوبارہ سے نیا فوجی سربراہ مقرر کرنے جا ہے ہیں تو پھر عمران خان اس پر اعتراض کیسے کر سکتے ہیں؟

عمران خان مسلسل یہ الزام بھی عائد کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم ایک ایسے آرمی چیف کو لانا چاہتے ہیں جو ان کی لوٹ مار پر گرفت نہ کرے. تاہم سوال یہ ہے کہ عمران کیسے جانتے ہیں کہ شہباز شریف کس جنرل کو نیا آرمی چیف بنانے جا رہے ہیں جو انہیں لوٹ مار کی اجازت دے گا؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ الزام لگا کر عمران ان تمام سینئر فوجی جرنیلوں کی ساکھ پر حملہ آور ہو رہے ہیں جو کہ فوجی سربراہ بننے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ خان صاحب مسلسل یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ فوج لٹیروں کو اقتدار سے نکال کر فوری نئے الیکشن کا انعقاد کروائے۔ ایسے میں ناقدین سوال کرتے ہیں کہ کیا حکومتوں کو منتخب کرنا اور گھر بھیجنا فوج کا کام ہے یا عوام کا اور کیا نئے الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے یا فوج کی؟ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کے یہ تمام مطالبات غیر آئینی ہیں اور انکا بنیادی مقصد خود کو غیر سیاسی ڈیکلیئر کر دینے والی فوج کو دوبارہ سیاست میں گھسیٹنا ہے۔

عمران ماضی میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ حکمران اس بات پر خوف زدہ ہیں کہ اگر محب وطن آرمی چیف آ گیا تو وہ ان سے ان کی لوٹ مار پر سوال پوچھے گا۔ لیکن عمران خان اس نکتے کی وضاحت نہیں فرما سکے کہ محب وطن آرمی چیف سے ان کی کیا مراد ہے؟ اور کیا ان کے خیال میں افواج پاکستان کی ادارہ جاتی چھلنی سے گزر کر جو چند جرنیل اپنے ادارے ہی کی جانب سے اس منصب کے لیے باقاعدہ طور پر اہل قرار پاتے ہیں ان میں سے کوئی غیر محب وطن بھی ہو سکتا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ ان جرنیلوں کی ’حب الوطنی‘ جانچنے کا وہ کون سا پیمانہ ہے جو افواج پاکستان کے پاس تو نہیں مگر خان صاحب کے پاس موجود ہے؟ آئیےجانتے ہیں کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا میرٹ کیا ہے اور کیا کوئی وزیر اعظم اس میرٹ کو پامال کر سکتا ہے؟

آرمی چیف بننے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ متعلقہ آدمی تھری سٹا ر جنرل ہو، یعنی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر فائز ہو۔ تو کیا وزیر اعظم کے اختیار میں ہے کہ وہ کسی میجر جنرل کو آرمی چیف بنا دے؟ آرمی چیف کا منصب سنبھالنے کے لیے دوسری شرط یہ ہے کہ اس لیفٹیننٹ جنرل نے کور کو کمانڈ کیا ہو یعنی وہ کور کمانڈر بھی رہ چکا ہو۔ تو کیا وزیر اعظم کے لیے یہ ممکن ہے وہ کسی ایسے آدمی کو آرمی چیف بنا دے جو کور کمانڈر نہ رہا ہو؟

آرمی چیف کے منصب کے لیے جو لوگ اہل ہوتے ہیں، وہ ایک طویل مدت تک فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد، ایک سخت چھلنی سے گزر کر اس مقام تک پہنچتے ہیں۔ان کے نام ادارے کی جانب سے وزیر اعظم کو بھیجے جاتے ہیں اور وزیر اعظم ان میں سے کسی ایک کو آرمی چیف کے لیے چن لیتے ہیں اور آئین کے آرٹیکل 243 کی ذیلی دفعہ تین کے تحت وزیر اعظم کی سفارش و ہدایت پر صدر مملکت ان کی تعیناتی کا حکم جاری کر دیتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے پاس جرنیلوں کی حب الوطنی جانچنے کا کوئی اور پیمانہ ہے تو اسے سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا تاکہ جی ایچ کیو آئندہ کے لیے اہلیت کا سرٹیفکیٹ بنی گالہ سے بھی منگوا لیا کرے۔ سوال بڑے سادہ سا ہے کہ موجودہ میرٹ سے ہٹ کر ان کے نزدیک آرمی چیف کی تعیناتی کا اگر کوئی الگ میرٹ ہے اور تھری سٹار جرنیل کی حب الوطنی کو جانچنے کا کوئی الگ پیمانہ ہے تو وہ کیا ہے؟

ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ جب عمران کو میرٹ پر نیا آرمی چیف مقرر کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے نواز شریف کے لگائے ہوئے جنرل قمر باجوہ کے عہدے میں توسیع کر دی تھی۔ ایسے میں جب نواز شریف اور شہباز شریف دوبارہ سے نیا فوجی سربراہ مقرر کرنے جا ہے ہیں تو پھر عمران خان اس پر اعتراض کیسے کر سکتے ہیں؟

Related Articles

Back to top button