عمران نے حکومت کو مرضی کا چیف لگانے کی اجازت دے دی


اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے عمران خان کے لانگ مارچ کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر اثرانداز ہونے کا ہتھکنڈا قرار دیے جانے کے بعد سابق وزیر اعظم نے اپنی پرانی پوزیشن سے یوٹرن لیتے ہوئے یہ موقف اپنایا ہے کہ حکومت جسے چاہے آرمی چیف مقرر کرے، انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ عمران نے یہ موقف صحافیوں کے ساتھ زمان پارک لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر گفتگو کے دوران اپنایا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے کم از کم دو عوامی جلسوں میں عمران نے الزام لگایا تھا کہ حکومت اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانا چاہتی ہے لیکن وہ ایسا کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ عمران نے کہا تھا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے نواز شریف اور زرداری نااہل ہیں کیونکہ چوروں کو اتنا اہم فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ چنانچہ جب عمران نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تو عمومی خیال یہی تھا کہ وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔ اسی دوران صدر عارف علوی نے بھی یہ تجویز دی تھی کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر عمران خان سے بھی مشورہ کیا جائے۔

ایسے میں سیاسی تجزیہ کار حیران ہیں کہ نئے آرمی چیف کے انتخاب سے قبل مشاورت کا بار بار مطالبہ کرنے کے بعد اب عمران خان اپنے موقف سے کیوں پھر گئے ہیں۔ زمان پارک میں عمران سے سوال کیا گیا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر ان سے مشاورت کے مطالبے کا کیا بنا؟ اس پر عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انکا ایسا کوئی مطالبہ نہیں، حکومت جسے چاہیے نیا چیف مقرر کر سکتی ہے۔ لیکن جب ایک صحافی نے عمران سے سوال کیا کہ کیا موجودہ چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دی جا رہی ہے، تو جواب میں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’یہ ایک ارب ڈالر کا سوال ہے‘۔

ایک اور سوال پر عمران خان نے دعوی ٰکیا کہ انکے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات احتساب کے معاملے پر کشیدہ ہوئے، وہ اس سے پہلے بھی یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ جنرل باجوہ انکو کرپٹ سیاست دانوں کا احتساب نہیں کرنے دے رہے تھے اور وہ اس معاملے میں بے اختیار تھے۔ عمران نے کہا کہ ’مجھے فوج سے کوئی مسئلہ نہیں تھا، مسائل صرف احتساب کے معاملات پر پیدا ہوئے، تاہم فوج مثبت کردار ادا کر سکتی ہے، میرا ماننا ہے کہ اگر ملک کو ٹھیک انداز میں چلانا ہے تو وزیر اعظم کو انتظامیہ کے ساتھ اقتدار بھی سونپا جانا چاہیے۔ عمران خان نے کہا کہ مخلوط حکومت کو بہت سے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں، اور اتحاد سے بننے والی حکومت میں وزیر اعظم کو بلیک میل کیا جاتا ہے، دوسری جانب دو تہائی اکثریت وزیر اعظم کو طاقت دیتی ہے۔

لیکن یاد رہے کہ ماضی میں عمران خان بطور وزیراعظم بار بار یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ ہر فیصلہ کرنے میں با اختیار ہیں اور ایسے وزیر اعظم نہیں ہیں جو کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر چلے۔لاہور میں عمران کی میڈیا سے گفتگو کے بعد ایک سینئر پی ٹی آئی رہنما نے سائیڈ پر ہو کر چند صحافیوں سے جو گفتگو کی اس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اور فوجی قیادت کے تعلقات تب خراب ہوئے جب وزیراعظم کو مشورہ دیا گیاکہ وہ اپوزیشن قیادت کے احتساب کا ایجنڈا اب چھوڑ دیں اور ملکی معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کریں جو تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔ لیکن عمران اپنے مؤقف سے ہٹنے کو تیار نہ تھے چنانچہ میچ پڑ گیا۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ویسے بھی نیب ایک کر کے تقریبا ًتمام اہم اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کر چکا تھا لیکن وہ ضمانتوں پر رہا ہو چکے تھے لہذا خان صاحب کا احتساب کا ایجنڈا تو ویسے ہی پٹ چکا تھا۔

Related Articles

Back to top button