عمران کا احتجاج جلد الیکشن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ؟


سابق وزیراعظم عمران خان کا احتجاج اور لانگ مارچ ان کے فوری الیکشن کے مطالبے پر عمل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ دونوں سیاسی حریف سمجھتے ہیں کہ موجودہ رائونڈ جیتنے والا زیادہ طاقتور ہو کر انتخابی اکھاڑے میں اترے گا، لہٰذا کوئی بھی فریق اس مرحلے کو پیچھے ہٹ کر ہارنا نہیں چاہتا، اسی لیے حکومت بھی فوری الیکشن نہ کروانے کے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے اور عمران کی طرح آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہے، یعنی مہا یُدھ شروع ہو چکا ہے، ایسے میں عمران کو سمجھنا ہو گا کہ جب تک انکے احتجاج کا زور نہیں ٹوٹے گا، حکومت کی جانب سے الیکشن کی تاریخ کا اعلان مشکل نظر آتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی حماد غزنوی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ خان صاحب امریکا پر مقامی میر جعفروں سے مل کر اپنے خلاف سازش کرنے کا الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ امپورٹڈ حکومت ہے، یہ غلام حکومت ہے، یہ بھکاریوں کی حکومت ہے۔ عمران سچے ہیں، سچ ہی کہہ رہے ہوں گے، مگر سوال یہ ہے کہ امریکا اپنی لاڈلی حکومت سے آئی ایم ایف کے سامنے ناک سے لکیریں کیوں نکلوا رہا ہے، وہ خاندانِ غلاماں کو آٹھ دس بلین ڈالرز عطا کیوں نہیں کر دیتا تا کہ پاکستان میں مہنگائی بےقابو نہ ہو اور سامراج دشمن خان بھی قابو میں رہے۔ اور یہ چین کو کیا سوجھی، کہ وہ پاکستان میں امریکا کی لائی ہوئی حکومت کی حمایت کر رہا ہے؟ یہ نکتہ بھی خان صاحب ہی سمجھا سکتے ہیں، اور پھر امریکا نے ایک ایسی حکومت کو نکالا ہی کیوں جس نے سی پیک پر کام رکوایا اور اپنا اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے حوالے کیا؟ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی، ویسے بھی ہمارے ایک یوتھ پسند دوست کا قول ہے کہ خان صاحب کی باتیں دماغ کے لیے نہیں ہوتیں، دل کے لیے ہوتیں ہیں۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اکثر سنجیدہ مزاج اصحاب خان صاحب کی ان باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن ہم کریں گے، کیوں کہ ہمیں امریکا اور میر جعفر کی سازش والی بات تو بےسر و پا لگتی ہے، مگر غلامی اور بھکاری والی بات میں وزن نظر آتا ہے۔ جس قوم کے ہر فرد پر تقریباً 12سو ڈالر قرضہ ہو، جس قوم کا وزیراعظم دن دیہاڑے کشکول بدست ملک ملک پھرتا ہو، جس کا وزیرِ خزانہ آج کے دن بھی آئی ایم ایف کے سامنے جھولی پھیلائے کھڑا ہو، اس قوم کو کیا کہیں گے؟ ایسی قوم کو پیار سے تو ’خود دار‘ کہا جا سکتا ہے، سنجیدگی سے نہیں۔ سو حکومت غلام تو ہے، بھکاری تو ہے، مگر یہ آدھا سچ ہے۔ بقول حماد، پورا سچ یہ ہے کہ عمران ہماری تاریخ کے سب سے ماہر بھکاری تھے جنہوں نے پاکستان کے کسی بھی وزیرِ اعظم سے زیادہ بھیک قرضوں کی شکل میں اکٹھی کی۔ اب وہ حکومت سے نکل کر ’حقیقی آزادی‘ کی تحریک چلا رہے ہیں۔ کیا وہ قوم کو چوتیا سمجھتے ہیں؟۔

حماد غزنوی کے خیال میں یہ بات درست ہے کہ پاکستانی ریاست اپنی ابتدا سے ہی صدقہ و خیرات پر پلنے کی قائل رہی ہے اور اس گناہ کا آغاز عمران نہیں کیا، مگر یہ بھی سچ ہے کہ عمران پہلے سلیکٹڈ وزیرِ اعظم ہیں جو اپنے ’ہم حمام‘ کو ننگا کہہ رہے ہیں، بلاشبہ یہ ذہنی کیفیت سنجیدہ تجزیے کی متقاضی ہے۔ آئیے، دُھند کے مرکز کی طرف بڑھتے ہیں۔ عمران بہ ضد ہیں کہ ان کی حکومت کو ’نیوٹرلز‘ یعنی فوجی بھائیوں نے نکالا اور اپوزیشن بھی تسلیم کرتی ہے کہ ’نیوٹرل‘ واقعی نیوٹرل تھے، یعنی انہوں نے نکالا تو نہیں مگر نکلنے دیا۔ اب آگے چلیے۔ شہباز شریف جو بات اپنے لوگوں کے درمیان سرگوشیوں میں کرتے ہیں، رانا ثنا اللہ نے با آوازِ بلند کہہ دی، فرماتے ہیں حکومت میں ہمارے ہاتھ پائوں باندھے جا رہے ہیں، وہ کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ ’نظامِ ہستی‘ چلانے والے ہمارے خلاف جھوٹے کیسز کی حفاظت کر رہے ہیں، نیب کے دانتوں اور پنجوں کا تحفظ فرما رہے ہیں، اور پچھلی حکومت کے لگائے ہوئے مخصوص کارندوں کو چھتری فراہم کر رہے ہیں۔

بقول حماد، لہٰذا سوال یہ ہے کہ کون ہے جو ہاتھ پائوں باندھ کر تیراکوں کے ایک گروہ کو ایسی جھیل میں پھینک گیا جس پر دھند چھائی ہوئی ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کی لیے دیکھنا ہو گا کہ اب پاکستان کی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ عمران کے مطالبے کے عین مطابق فوری الیکشن چاہتی ہے۔ پہلے اپوزیشن جماعتیں ’نیوٹرلز‘ کو مطعون قرار دیتی تھیں، اب عمران گلا پھاڑ کر یہی الزام دہرا رہے ہیں۔ اس صورتِ احوال سے نکلنے کا راستہ اس حکومت کو جلد از جلد گھر بھیج کر انتخابات کی طرف بڑھنے کو سمجھا جا رہا ہے، یعنی جوں ہی انتخاب کا اعلان ہوگا اور الیکشن مہم کا آغاز ہوگا، سیاسی مخالفین ایک دوسرے کے گریبان پکڑ لیں گے، اور جنہوں نے یہ درد دیا ہے انہیں فراموش کر دیا جائے گا۔ ویسے منصوبہ برا نہیں ہے، انتخابات کے اعلان کے بعد لگ بھگ ایسا ہی منظر ہو گا۔ اس پس منظر میں قوی امکان ہے کہ اگلے انتخابات نسبتاً صاف ستھرے ہوں گے، کیوں کہ مزید گالی کھانے کی اب گنجائش نظر نہیں آتی۔
اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ دھرنا اور لانگ مارچ ہمیں انتخابات کے قریب نہیں لے جا رہے، سیاسی حریف یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ رائونڈ جیتنے والا زیادہ طاقتور ہو کر انتخابی اکھاڑے میں اترے گا، لہٰذا کوئی فریق بھی اس مرحلے کو ہارنا نہیں چاہتا، حکومت بھی عمران خان کی طرح آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہے، یعنی مہا یُدھ شروع ہو چکا ہے، اور جب تک دھرنے کا زور نہیں ٹوٹے گا الیکشن کی تاریخ کا اعلان مشکل نظر آتا ہے۔

Related Articles

Back to top button