عمران کا خط مانا جاتا ہے تو شجاعت کے خط میں کیا کمی ہے؟


سپریم کورٹ کی اس توجیہہ کے بعد کہ وزارت اعلی کے الیکشن میں ووٹ دینے کا فیصلہ مرکزی پارٹی ہیڈ نہیں بلکہ صوبائی پارلیمانی پارٹی ہیڈ کرے گا، یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اداروں کی چین آف کمانڈ کے اصول کے تحت اگر آرمی چیف اور چیف جسٹس اپنے اداروں کے سربراہ ہیں اور انکے ساتھی انکے ماتحت ہیں تو پھر ایک پارٹی ہیڈ کے اختیارات اور اسکی حیثیت اپنے ایم پی اے سے بھی کم کیسے ہو سکتی ہے۔
ماضی قریب میں تحریک انصاف کے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کو اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف حمزہ شہباز کے حق میں ووٹ دینے کی پاداش میں ڈی سیٹ کرنے والی سپریم کورٹ اب قاف لیگ کے 10 اراکین اسمبلی کی جانب سے پارٹی صدر کی ہدایات کے برعکس پرویز الہی کو ووٹ دینے کے عمل کو درست قرار دے رہی ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ ایک ہی طرح کے کیسوں میں انصاف کا دوہرا معیار کیوں اپنا رہی ہے؟
23 جولائی کو ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کے وکیل عرفان قادر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بتایا کہ قاف لیگ کے دس ووٹ مسترد کرنے کہ رولنگ سپریم کورٹ کے 17 مئی کے فیصلے کے مطابق دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق جو رکن اسمبلی اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالے گا وہ شمار نہیں ہوگا اور اسے ڈی سیٹ کردیا جائے گا اور اسی اصول کے تحت تحریک انصاف کے 10 اراکین اسمبلی کو ڈی سیٹ کیا گیا۔
لیکن چیف جسٹس بندیال نے عرفان قادر کا موقف تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے پچھلے عدالتی فیصلے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو قرار دیا تھا کہ پارلیمانی پارٹی پالیسی کے برعکس ڈاکے گے ووٹ شمار نہ کیے جائیں۔ ہم نے پارٹی سربراہ کی بات نہیں کی تھی۔ تاہم چیف جسٹس سے یہ سوال نہیں کیا کہ کیا ووٹ دینے بارے حتمی فیصلہ سیاسی جماعت کا سربراہ کرتا ہے یا اس کا کوئی رکن صوبائی اسمبلی؟ اس موقع پر عمرانڈو جج قرار دیے جانے والے جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے میں پارلیمانی لیڈر کا کردار بہت واضح ہے، ہم نے تو پارلیمانی لیڈر کی ہدایات پر عمل نہ کرنے والے کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ دیا تھا، اس میں ابہام کہاں ہے؟
یاد رہے کہ چیف جسٹس نے پی ڈی ایم اتحاد کی جانب سے حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کا کیس فل کورٹ کے سامنے لگانے کے مطالبے کے باوجود اپنی عدالتی میں اسکی سماعت جاری رکھی اور یہ فیصلہ دیا کہ حمزہ شہباز پیر تک بطور ٹرسٹی وزیراعلیٰ پنجاب کام کریں گے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حمزہ شہباز آئین اور قانون کے مطابق کام کریں گے اور بطور وزیراعلیٰ وہ اختیارات استعمال نہیں کریں گے، جس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا۔
ڈپٹی اسپیکر کے وکیل عرفان قادر نے عدالت عظمیٰ سے مزید وقت کی استدعا کی اور کہا تھا کہ وہ تحریری جواب عدالت میں جمع کروانا چاہتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی اہم ہے اور ہم چاہتے ہیں جتنی جلدی ہو سکے اس کا فیصلہ کردیں۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ قانونی طور پر درست نہیں ہے تاہم عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔ پرویز الہٰی کے وکیل علی ظفر نے عدالت سے استدعا کی کہ حمزہ کو کابینہ بنانے سے روک دیا جائے، جس پر عدالت کی جانب سے کہا گیا وہ مختصر ترین کابینہ رکھ سکتے ہیں۔ حسب توقع عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے قاف لیگ کے دس ووٹ شمار نہ کرنے کی رولنگ سپریم کورٹ کے پچھلے فیصلے کے برعکس ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ہمارا پرانا فیصلہ موجود ہے جو واضح ہے لیکن ایسے معاملات غیر تجربہ کاری سے پیش آتے ہیں، یہ معاملہ تشریح سے زیادہ سمجھنے کا ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے درست طریقے سے ہمارا فیصلہ نہیں پڑھا ہوگا۔

عمرانڈو کہلانے والے بندیال نے عرفان قادر ایڈووکیٹ سے استفسار کیا کہ آپ ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کا دفاع کس بنیاد پر کر رہے ہیں؟ عرفان نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کی بنیاد پر رولنگ کا دفاع کر رہے ہیں، جس نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی میں ووٹ ڈالنے والوں کو سپریم کورٹ کے حکم پر ڈی سیٹ کردیا تھا اور ووٹ شمار نہیں کیے تھے۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا تھا کہ منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہیں ہوں گے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کی 17 مئی کے آرڈر کی آڑ لیکر قاف لیگ کے ووٹ شمار نہیں کیے، لیکن آپ ہمارے پچھلے فیصلے کا وہ پیرا پڑھ کر سنائیں جس کی بنیاد پر ووٹ شمار نہیں کیے گئے۔ آپ سینیئر وکیل ہیں لہٰذا آپ کو پتہ ہو گا کہ ڈپٹی اسپیکر نے قاف لیگ کے ووٹ مسترد کرنے فیصلہ کہاں سے اخذ کیا؟

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھ دی اور پھر کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے فیصلے کے جس پیرا نمبر 3 کا حوالہ دیا وہ پڑھیں۔ عرفان قادر نے کہا کہ آرٹیکل 3 ون اے کے تحت منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہیں ہوں گے، یہی عدالت کا فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکرنے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ووٹ شمارنہ کرنا درست سمجھا، ڈپٹی اسپیکر کے پاس دو چوائسسز تھیں، یا تو وہ کہتے کہ ووٹ شمار نہیں ہوں گے یا کہتے کہ ووٹ شمار ہوں گے۔

اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم نے اپنے پچھلے فیصلے میں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ پارلیمنٹری پارٹی کی ہدایت کے خلاف دالا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا، لیکن ڈپٹی اسپیکر نے پارٹی صدر کی ہدایات کے برعکس ووٹ دینے کی بنا پر انہیں شمار نہیں کیا۔ اس پر عرفان قادر نے جواب دیا کہ ڈپٹی اسپیکر سپریم کورٹ کے فیصلے کو کچھ اس طرح سمجھے تھے کہ پارٹی ہیڈ ہی پارلیمانی پارٹی کا بھی سربراہ ہوتا ہے اور کس امیدوار کو ووٹ دینا ہے، یہ فیصلہ بھی پارٹی ہیڈ ہی کرتا ہے۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے پارٹی سربراہ ہی نمبر ون ہوتا ہے اور باقی ممبران کی حیثیت اس سے کم ہوتی یے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ سپیکر کے ہاتھ میں کل جو چٹھی تھی اس میں کیا لکھا ہے، انکا کہنا تھا کہ بادی النظر میں حمزہ کی وزارت اعلیٰ گہرے خطرے میں ہے۔ اس کے بعد جسٹس بندیال نے کیس پیر تک ملتوی کر دیا۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان قادر نے کہا کہ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اگر عمران خان کی جانب سے لکھے گئے خط کی روشنی میں تحریک انصاف کے 25 ممبران پنجاب اسمبلی کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر ڈی سیٹ کر دیا جاتا ہے اور ان کے ووٹ شمار نہیں کیے جاتے تو پھر چودھری شجاعت حسین کے لکھے گئے خط کو تسلیم کیوں نہیں کیا جا رہا؟ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر انصاف کا دوہرا معیار اپنایا جارہا ہے جو افسوس ناک ہے۔

Related Articles

Back to top button