عمران کا سکیورٹی فورسز سے ٹکرا جانے کا فیصلہ


سابق وزیر اعظم عمران خان نے فوجی اسٹیبلشمنٹ پر فوری الیکشن کروانے کے لیے ڈالا جانے والا دباؤ ناکام ہونے کے بعد اب سنجیدگی سے لانگ مارچ کی کال دینے پر غور شروع کر دیا جس کا اعلان 12 ربیع الاول کے بعد کر دیا جائے گا۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ 25 مئی کی مرتبہ اس بار لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مار کھانے کی بجائے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے مہینے صدر عارف علوی کی کوششوں سے عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مابین ہونے والی ملاقات کا کوئی نتیجہ سامنے نہ آنے کے بعد اب پی ٹی آئی چیئرمین اضطراب کا شکار ہیں کیونکہ فوجی قیادت نے نہ تو فوری الیکشن کا مطالبہ تسلیم کیا اور نہ ہی جنرل قمر باجوہ کے عہدے میں توسیع کی تجویز کو پذیرائی ملی۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق عمران جانتے ہیں کہ انہوں نے وزارت عظمیٰ سے برطرفی کے بعد جو حکومت مخالف سیاسی ٹیمپو بنایا ہے اور مقبولیت حاصل کی ہے اس کا فائدہ انہیں فوری الیکشن کے نتیجے میں ہی حاصل ہو گا اور اگر الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہوئے تو ان کے حاات خراب ہو جائیں گے۔ ویسے بھی عمران خان مختلف کیسز میں نااہلی اور گرفتاری کے خطرات کا شکار ہیں چنانچہ اب ان کے پاس فوری لانگ مارچ شروع کرنے کے علاوہ اور کوئی آپشن باقی نہیں رہا۔ اسی لیے پیر کو بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں عمران نے 12 ربیع الاول کے بعد لانگ مارچ شروع کرنے کا واضح ارادہ ظاہر کر دیا۔

عمران کی زیر صدارت بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں شیخ رشید، مونس الٰہی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، فواد چودھری، فیصل واوڈا اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تاریخ پر غور کیا۔ عمران نے یہ اجلاس اسی روز رکھا جب انہوں نے توہین عدالت کیس میں بری ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور حلقوں سے انکے مذاکرات جاری ہیں۔ دراصل ان سے پوچھا گیا تھا کہ آپ نے ایک انٹرویو میں طاقتور شخصیت کے ساتھ ملاقات کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ’جھوٹ میں بولتا نہیں اور سچ میں بول نہیں سکتا۔‘ اگر آپ بھی سچ نہیں بولیں گے تو پھر کون بولے گا؟ اس پر عمران نے کہا کہ ’ہمارے ان کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں جن کا ابھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا، لہٰذا اس حوالے سے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے۔ عمران سے دوبارہ استفسار کیا گیا کہ کیا آپ کے طاقتور حلقوں کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ہم سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی لوگ مذاکرات کے لیے کبھی دروازے بند نہیں کرتے۔ بالکل ہمارے مذاکرات جاری ہیں۔‘

جب عمران خان سے پوچھا گیا کہ سیاسی لوگ آپس میں مذاکرات کی بجائے طاقت ور حلقوں سے ہی مذاکرات کیوں کرتے ہیں تو عمران کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں سے مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، مجرموں سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔صحافی نے سوال کیا کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ مجرم کون ہے اور کون نہیں کیونکہ جن کو آپ مجرم کہتے ہیں، وہ بھی آپ کو مجرم ہی کہتے ہیں۔ اس پر عمران خان نے کہا کہ ’آپ ان کا ٹریک ریکارڈ دیکھ لیں۔‘

اس پر صحافی نے عمران کو یاد دلایا کی کہ جن لوگوں کو آپ میر جعفر اور میر صادق کہتے تھے، اب انہی کے ساتھ آپ مذاکرات کر رہے ہیں۔ اس پر عمران کھسیانے ہو کر تیزی سے نکل گئے۔ تاہم اسلام آباد کے با خبر حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان اور فوج کے مابین کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے تھے، تاہم اتنا ضرور تھا کہ صدر عارف علوی کے اصرار پر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے عمران سے ایوان صدر میں ملاقات کی تھی جو کشیدہ ماحول میں ختم ہوئی۔ اس ملاقات کو خفیہ رکھنے کا وعدہ ہوا تھا جو عمران نے توڑ دیا جس سے معاملات اور بھی خراب ہو گئے، چنانچہ بعد ازاں عمران خان نے جنرل باجوہ کو راضی کرنے کے لئے لیے اگلے الیکشن کے انعقاد تک ان کے عہدے میں توسیع کی تجویز پیش کر دی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تجویز نے سینئر فوجی قیادت میں اضطراب پیدا کر دیا جس سے جنرل باجوہ کی پوزیشن اور بھی خراب ہوئی۔ اس دوران جب عمران کو یقین ہوگیا کہ فوج فوری الیکشن کروانے کے لیے حکومت پر دباؤ نہیں ڈالے گی تو انہوں نے ایک عوامی جلسے میں سپہ سالار کو گیدڑ سے تشبیہ دے دی جس کے بعد پی ٹی آئی سے بات چیت کے امکانات ختم ہو گئے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کی جانب سے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکراتی عمل برقرار ہونے کے دعویٰ میں کوئی حقیقت نہیں اور اسی لئے موصوف نے مایوسی کا شکار ہو کر لانگ مارچ کا ذہن بنانا شروع کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران اب لانگ مارچ کے حوالے سے سنجیدہ ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے پاس بہت کم وقت باقی بچا ہے۔ تین مارچ کو بنی گالہ اجلاس میں مجوزہ لانگ مارچ بارے تفصیلی گفتگو ہوئی اجلاس میں جیل بھرو تحریک پر بھی بات ہوئی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں یہ غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ مذاکرات کی کوششوں کا فائدہ نہیں ہو رہا۔ پی ٹی آئی میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر عارف علوی وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مستقل کشیدگی کو دیکھتے ہوئے صدر سمیت کسی کے پاس مزید آپشن نہیں رہ گئے کہ وہ دونوں کے درمیان اختلافات کو ختم کرا سکے۔ عمران خان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے وابستہ یہ امید بھی اب ختم ہو گئی ہے کہ وہ موجودہ حکومت کو ہٹا کر نئے انتخابات کی راہ ہموار کرائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مذاکرات کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں کہ عمران نے خود اپنے پارٹی رہنماؤں کو سختی سے منع کردیا تھا کہ کسی بھی طرح کی ایجنسی کے کسی بھی فرد کے ساتھ ان کا کوئی رابطہ نہیں ہونا چاہئے ورنہ سخت ڈسپلنری ایکشن لیا جائے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عمران خان کی جانب سے مسلسل اسٹیبلشمنٹ پر رقیق حملے جاری ہیں۔

پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع اعتراف کرتے ہیں کہ پارٹی قیادت فرسٹریشن کی وجہ سے لانگ مارچ کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن اسے یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ کہیں 25 مئی کی طرح دوبارہ لانگ مارچ کا دھڑن تختہ نہ ہو جائے۔ وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ خان نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ اگر عمران خان نے لانگ مارچ کا پنگا لیا تو ان کو ایسا مزہ چکھایا جائے گا کہ ان کی نسلیں یاد کریں گے۔ اسی لیے لانگ مارچ کامیاب بنانے کے لیے عمران خان نے جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں عمران خان نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اس مرتبہ سکیورٹی فورسز سے مار کھانے کی بجائے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان لانگ مارچ کب شروع کرتے ہیں؟

Related Articles

Back to top button