عمران کا لاڈلہ پن اور چیف جسٹس کا عمرانڈو پن ثابت


اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 22 ستمبر کو عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کرنے سے اجتناب کر کے نہ صرف خود پر عمرانڈو جج ہونے کا الزام ثابت کردیا بلکہ عمران خان کے لاڈلا ہونے کی بھی تصدیق کر دی۔ ناقدین کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر انصاف کا دہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے کیونکہ ماضی میں نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے تین سینئر رہنماؤں کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑا تھا حالانکہ انہوں نے معافی بھی مانگ لی تھی۔ تاہم عدالتوں نے نہال ہاشمی، دانیال عزیز چودھری اور طلال چودھری کو پانچ برس نااہلی کی سزا سنائی تھی اور نہال ہاشمی کو تین ماہ قید بھی بھگتنا پڑی تھی۔

22 ستمبر کو جب چیف جسٹس اطہر من اللہ نے توہین عدالت کی فرد سے پڑھنے کا اعلان کیا تو بار بار خطرناک ہو جانے کا اعلان کرنے والے عمران خان فورا ًاپنی سیٹ سے کھڑے ہوگئے اور ڈٹ کر معافی مانگنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میرے الفاظ سے یہ تاثر ملا ہے کہ میں نے ریڈ لائن کراس کی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں۔ پھر بولے کہ اگر عدالت حکم دے تو میں خاتون جج کے گھر جا کر بھی ان سے معافی مانگنے کو تیار ہوں۔ اطہر من اللہ تو جیسے اس معافی کے انتظار میں تھے لہٰذا انہوں نے فوری طور پر فرد جرم موخر کرتے ہوئے عمران خان کی معافی کے فیصلے کو سراہنا شروع کر دیا۔ ایسا کرتے ہوئے وہ ایک مرتبہ پھر بھول گئے کہ وہ ایک جج ہیں اور تحریک انصاف کے عمرانڈو نہیں۔

چیف جسٹس کے اس عمل کو شدید عوامی تنقید کا سامنا ہے اور ناقدین یہ الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے انصاف کی کرسی پر بیٹھ کے انصاف کا جو دہرا معیار اپنایا ہے اس نے نہ صرف انہیں بے نقاب کردیا ہے بلکہ عمران خان کے بھی لاڈلا ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ جیسے ہی عمران خان نے عدالت میں معافی مانگنے کا اعلان کیا، جسٹس اطہر من اللہ نے فرط جذبات میں آ کر یہ اعلان کر ڈالا کہ اب ہمارے لیے خان صاحب کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی جاری رکھنا ممکن نظر نہیں آتا۔ ایک سینئر کورٹ نے بتایا کہ یہ اعلان کرتے وقت اطہر من اللہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو بھی نظر آ رہے تھے کیونکہ وہ اپنے ہی کپتان کو کسی صورت نااہل ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور وہ بھی اپنے ہاتھوں سے۔ اس کے بعد عمرانڈو جج کہلانے والے اطہر من اللہ نے اپنے دیگر چار ساتھی ججوں سے مشورہ کیے بغیر ہی فرد جرم کی کارروائی مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔

اس سے پہلے عمران خان نے کہا کہ اگر عدالت کو لگتا ہے کہ میں نے گفتگو کرتے ہوئے اپنی حد پار کی ہے تو میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرا خاتون جج کو دھمکانے کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں خاتون جج کے گھر جا کر ان سے معافی مانگنے کو بھی تیار ہوں۔ عمران ابھی بول ہی رہے تھے کہ اطہر من اللہ نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ ایک ہفتے کے اندر بیان حلفی جمع کرا دیں کہ میں غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خاتون جج کے پاس جانا یا نہ جانا آپ کا ذاتی فیصلہ ہو گا، اگر آپ کو غلطی کا احساس ہو گیا ہے اور آپ معافی کے لیے تیار ہیں تو یہ کافی ہے۔ اس کے بعد عدالتی کارروائی 3 اکتوبر تک کےلئے ملتوی کردی گئی۔

یاد رہے کہ ماضی میں جب مسلم لیگی رہنماؤں نے توہین عدالت کے کیسز میں معافی مانگی تو اسے مسترد کر دیا گیا تھا اور عدالتوں کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ آپ لوگ سزا سے بچنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں اس لیے معافی نہیں دی جا سکتی۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی سوئس حکام کو زرداری کے خلاف کیسز کھولنے کے لیے خط لکھنے سے انکار پر توہین عدالت کا الزام عائد ہونے کے بعد معافی مانگی تھی لیکن انہیں 5 پانچ سال کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران کے کیس میں صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے نااہلی سے بچنے کے لئے ہی معافی مانگی کیونکہ ماضی میں دو مواقع دیے جانے کے باوجود وہ معافی مانگنے کو تیار نہیں تھے۔ تاہم نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے قائدین کو سزائیں دی گئیں جبکہ عمران خان کو بچانے کے لیے انصاف کا دوہرا معیار اپنایا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ 8 ستمبر 2022 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق دیے گئے بیان پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد متفقہ فیصلہ سنایا تھا۔ اب کیس کی اگلی سماعت 3 اکتوبر کو ہو گی لیکن جیسا کہ سب جانتے ہیں، اس کیس کا خاتمہ ہوچکا ہے اور صرف روایتی کارروائی باقی ہے۔

Related Articles

Back to top button