عمران کا ممکنہ نااہلی سے پہلے لانگ مارچ شروع کرنے کا فیصلہ


سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے قریبی ساتھیوں کو ستمبر کے آخر تک حکومت گرانے کیلئے لانگ مارچ کے آغاز کی تیاریوں کا حکم دے دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس مرتبہ وہ حکومت کے خاتمے کے بغیر اسلام آباد سے واپس نہیں جائیں گے۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران نے لندن میں شہباز شریف اور نواز شریف کی ملاقات کے بعد اپنے ساتھیوں پر واضح کیا ہے کہ اگر ستمبر میں لانگ مارچ شروع نہ کیا گیا تو پھر جنوری میں الیکشن کا انعقاد کسی صورت ممکن نہیں ہے ۔، لہذا ضروری ہے کہ لانگ مارچ کے ساتھ اسلام آباد میں دھرنا دیا جائے اور حکومت پر دباؤ ڈال کر نئے انتخابات کی تاریخ حاصل کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کو اپنے خلاف زیر سماعت کیسوں میں نااہلی کا یقین ہے لہذا وہ کوئی بڑا فیصلہ آنے سے پہلے اسلام آباد پر یلغار کرنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی لندن ملاقات میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ الیکشن موجودہ حکومت کی آئینی معیاد ختم ہونے کے بعد کروائے جائیں گے اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر بھی کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کی پشت پناہی کرنے والے ریٹائیرڈ اور حاضر سروس عناصر بھی چاہتے ہیں کہ اگلے سال کے آغاز میں نئے الیکشن کا انعقاد ہو جائے۔ عمران خان کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی اگر الیکشن کے بعد نئی حکومت سے کروانے کی تجویز کا مقصد بھی یہی ہے کہ آرمی چیف ان کی مرضی کا آئے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اگر الیکشن جنوری میں ہو جاتے ہیں تو وہ برسر اقتدار آ جائیں گے اور اپنی مرضی کا فوجی سربراہ تعینات کر لیں گے۔

تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں لہذا عمران جیسا مرضی خواب دیکھنا چاہیں انہیں اجازت ہے، تاہم ان کی تعبیر اس لیے ممکن نہیں کہ اب وہ وزیراعظم نہیں بلکہ اپوزیشن میں ہیں اور جلد ہی نااہلی کے بعد جیل جانے والے ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف مزید توسیع لینے کے خواہاں نہیں اور نئے فوجی سربراہ کا تقرر نومبر میں پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں کے مشورے سے کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت عمران کی جانب سے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع بنانے کے بعد اب مزید کسی تنازعے میں نہیں الجھے گی اور قوی امکان ہے کہ آرمی چیف کا فیصلہ سنیارٹی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اقتدار سے نکلنے کے بعد شہباز حکومت کو گرانے اور فوراً نئے الیکشن کرانے کے لیے شروع کی جانے والی تحریک ابھی تک کامیاب نہیں ہو پائی۔ عمران خان کی طرف سے احتجاج کی کال دینے کے اعلانات بار بار ہو رہے ہیں مگر ابھی تک کوئی ٹھوس حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ عمران خان نے 25 اگست کے لیے بھی لانگ مارچ کی کال دی تھی جو ناکام ہو گئی اور خان صاحب چھ روز بعد دوبارہ اسلام آباد آنے کا اعلان کر کے بنی گالہ ایسے گئے کہ واپس نہیں لوٹے۔ پہلے تو خان صاحب کی ستمبر/اکتوبر میں الیکشن کی ڈیمانڈ تھی مگر اب اس سال الیکشن ہوتے نظر نہیں آ رہے تو انہوں نے اپنے مطالبات میں ترمیم کر لی ہے۔ اب خان صاحب فوری الیکشن سے الیکشن کے اعلان پر آ گئے ہیں۔ اب عمران نے نئے آرمی چیف کی تقرری پر پھڈا کھڑا کر رکھا ہے اور مسلسل اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لندن میں شہباز شریف نے نواز شریف سے آرمی چیف کی تعیناتی پر مشاورت کی تو تحریک انصاف نے واویلا شروع کردیا۔ فواد چوہدری نے یہ موقف اپنایا کہ نواز شریف کے پاس نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا اخلاقی جواز نہیں۔ اس سے پہلے عمران نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کو آئندہ انتخابات تک موخر کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ دستور پاکستان کے مطابق فوج کے سربراہ کی تعیناتی وزیر اعظم کرتا ہے۔ فوجی ترجمان بابر افتخار پہلے ہی واضح کہ چکے ہیں کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کے خواہش مند نہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی واضح کیا ہے کہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران آرمی چیف کی تعیناتی پر اس لئے گند ڈال رہے ہیں کہ انہیں اپنی نااہلی کا یقین ہے لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ انکی مرضی کا آرمی چیف آئے اور انہیں بچائے۔ یاد رہے کہ عمران کے خلاف الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایسے سنگین کیسز زیر سماعت ہیں جن میں وہ کسی بھی وقت نااہل قرار دیے جا سکتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران کے خلاف توہین عدالت کا کیس زیر سماعت ہے جبکہ الیکشن کمیشن میں ان کے خلاف فارن فنڈنگ اور توشہ خانہ کیسز زیر سماعت ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں 19 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کئے جانے کے بعد قوی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ انہیں نااہل قرار دے دیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران مسلم لیگ (ن) کے وکیل خالد اسحٰق نے مؤقف اپنایا کہ ریفرنس میں سوال عمران کی جانب سے تحائف ظاہر نہ کرنے کا تھا، عمران نے جواب میں تحائف کا حصول تسلیم کیا ہے، عمران نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تحائف گوشواروں میں ظاہر نہیں کیے۔ لہذا اثاثے چھپانے کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔ جواب میں عمران خان کے وکیل علی ظفر نے انکا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ معمولی چیزوں کو گوشواروں میں ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس پر خالد اسحٰق کا کہنا تھا کہ عمران کی جانب سے ظاہر نہ کیے گئے ایک معمولی کف لنک کی قیمت 57 لاکھ روپے ہے۔

یاد رہے کہ توشہ خانہ ریفرنس میں عمران کے 2017 اور 2018 کے گوشواروں کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے لیے عدالت کی ڈیکلریشن بھی لازمی ہے۔ علی ظفر نے کہا کہ سپیکر کے پاس فیصلہ کرتے وقت کوئی عدالتی ڈیکلریشن موجود نہیں تھا، سپیکر آرٹیکل 62 ون ایف کا ریفرنس بھیجنے کا اہل ہی نہیں ہے، یہ ایک سیاسی کیس ہے۔ علی ظفر نے کہا کہ 62 ون ایف کے تحت نااہلی کا فیصلہ کرنا عدالتوں کا اختیار ہے، کیا کسی عدالت نے ثابت کیا کہ عمران صادق اور امین نہیں، الیکشن کمیشن عدالت نہیں بلکہ کمیشن ہے، جب تک ہائی کورٹ کی نگرانی نہ ہو تو کوئی ادارہ عدالت نہیں بن جاتا۔ انہوں نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن خود کو عدالت قرار نہیں دے سکتا، الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ ارکان کی ایمانداری کا تعین کرسکے، سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں۔

علی ظفر کے دلائل کا جواب دیتے ہوئے رکن الیکشن کمیشن پنجاب نے کہا کہ الیکشن کمیشن اگر کچھ کر نہیں سکتا تو آئین میں سپیکر کے ریفرنس بھیجنے کی شق کیوں ڈالی گئی؟ اس کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کا توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی سے بچنا ممکن نہیں ہے اور وہ اسی لیے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button