عمران کا نئے آرمی چیف کو متنازع بنانے کا منصوبہ تیار


معروف تحقیقاتی صحافی اعزاز سید نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازعہ بنانے کے لئے ان کے خلاف ڈاکومنٹس کی تیاری ابھی سے شروع کر دی ہے جنہیں فیصلے کا اعلان ہونے کے بعد مارکیٹ کر دیا جائے گا۔ اعزاز سید کے مطابق عمران نے نئے آرمی چیف کی تقرری متنازع بنانے کی پوری تیاری کر لی ہے اور وہ عملی اقدامات کے لیے نام کے اعلان کا انتظار کریں گے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عمران خان نے اسی لیے اپنی پارٹی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ وہ 10 نومبر سے دوبارہ وزیر آباد سے لانگ مارچ کا آغاز کرے اور آٹھ سے دس روز میں اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی پہنچ جائے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا یہ انتخاب بہت اہم ہے۔ عمران خان بضد ہیں کہ اسی دورانیے میں لانگ مارچ ہو کیونکہ اسی ٹائم پیریڈ کے دوران نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا اعلان بھی ہونا ہے۔

اپنے یوٹیوب چینل پر سینئر صحافی عمر چیمہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اعزاز سید نے انکشاف کیا کہ ہمیں ایسی معلومات ملی ہیں کہ عمران نے آرمی چیف کے سب سے تگڑے امیدوار کو متنازع بنانے کے لئے کچھ دستاویزات تیار کر لی ہیں اور اب وہ آرمی چیف کے نام کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ یاد رہے کہ جنرل قمر باجوہ نے 29 نومبر کو ریٹائر ہونا ہے اور آرمی چیف کے ممکنہ امیدواروں میں کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اس وقت فیورٹ ترین امیدوار شمار کئے جا رہے ہیں۔ وہ ماضی میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی تعینات رہ چکے ہیں۔ اس وقت عاصم منیر فوجی جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر پر ہیں لیکن عمران خان انہیں ناپسند کرتے ہیں۔ اسی لیے وزیراعظم بننے کے فوراً بعد عمران نے عاصم منیر کو ان کے عہدے سے وقت سے پہلے ہٹاتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو نیا آئی ایس آئی چیف مقرر کر دیا تھا۔ ایسے میں اگر عاصم منیر کو نیا آرمی چیف بنایا جاتا ہے تو وہ عمران کے لئے قابل قبول نہیں ہوں گے لہٰذا قوی امکان ہے کہ خان صاحب انہیں متنازعہ بنانے کی کوشش میں کوئی نہ کوئی گند ضرور ڈالیں گے۔

عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج ہونے میں تاخیر پر عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ حملہ پنجاب کی حدود میں ہوا جہاں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت ہے۔ اگر پنجاب میں ن لیگ کی حکومت ہوتی اور پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ ہوتے تو عمران خان اور پوری تحریک انصاف نے پرویز الہٰی پر انگلیاں اٹھانی تھیں کہ وزیر اعلیٰ ایف آئی آر درج نہیں ہونے دے رہا۔ لیکن اب چار روز کے بعد جب ایف آئی آر درج ہو چکی ہے تب بھی خان صاحب راضی نہیں کیونکہ ان کے نامزد کردہ تینوں افراد میں سے ایک بھی نام ایف آئی آر میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ناکامی کی ذمہ داری بھی پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے چونکہ وہاں عمران کے ساتھی پرویز الہی وزیراعلٰی اور وفاق کا کوئی لینا دینا نہیں۔

ایک سوال پر اعزاز سید کا کہنا تھا کہ عمران پر حملے کی ایف آئی آر درج کرانے میں تاخیر کی بنیادی وجہ عمران کی جانب سے ایک سینئر آئی ایس آئی افسر کا نام شامل کرنے پر اصرار تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ان کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی اور پھر ضیاء کی فوجی بغاوت کے بعد اسی کیس میں انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ لہذا فوج کسی صورت نہیں چاہتی تھی کہ اس کے سینئر افسر کو اقدام قتل کے مقدمے میں بطور ملزم نامزد کیا جائے۔ اگر ایسا ہو جاتا تو پھر پی ٹی آئی نے پورے ملک میں جرنیلوں کے خلاف پرچے درج کروانے نکل پڑنا تھا۔ اعزاز سید کا کہنا تھا کہ پاک فوج سیاست سے تو دور ہو ہی رہی ہے، لیکن اسے چاہیے کہ انتظامی معاملات سے بھی خود کو دور کر لے۔

پروگرام میں اس دلچسپ نکتے پر بھی بحث ہوئی کہ ایک جانب عمران خان ملک کو امریکہ کی غلامی سے نکالنے کی بات کرتا ہے، جب کہ دوسری جانب وہ اپنی ہی حکومت والے ایک صوبے میں اتنا بے بس نظر آ رہا ہے کہ اس سے اپنی مرضی کی ایف آئی آر نہیں درج کروائی گئی۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پنجاب پولیس نے عمران پر وزیر آباد میں قاتلانہ حملے کی جو ایف آئی آر درج کی ہے اس میں صرف ملزم نوید احمد کا نام ہے حالانکہ عمران خان اپنے سیاسی مخالف شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور میجر جنرل فیصل نصیر کو بھی بطور ملزم نامزد کرنا چاہتے تھے۔

Related Articles

Back to top button