عمران کا ہدف بننے والے میجر جنرل فیصل ولن ہیں یا ہیرو؟


سابق وزیراعظم عمران خان کے الزامات کا نشانہ بننے والے انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹرجنرل “سی” میجر جنرل فیصل نصیر اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے عسکری حلقوں میں ’سپر سپائی‘ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ تاہم عمران خان امریکی سائفر بارے لیک ہونے والی اپنی آڈیوز سے لے کر وزیر آباد میں قاتلانہ حملے تک کا الزام انہی پر عائد کر رہے ہیں کیونکہ ان کے آنے کے بعد سے سے تحریک انصاف کی ساری قیادت “سی سی” کرتی سنائی دیتی ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ فیصل نصیر عمران کے سرپرست فیض حمید کی جگہ آئی ایس آئی چیف بننے والے لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کے رائٹ ہینڈ مین ہیں۔ یہ وہی ندیم انجم ہے جنکی تعیناتی کا نوٹی فکیشن عمران نے دو ماہ تک روکے رکھا تھا چونکہ وہ فیض حمید کو آئی ایس آئی سربراہ برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی میجر جنرل فیصل نصیر کے خلاف ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ پچھلے ڈی جی “سی” میجر جنرل کاشف کی طرح فیض حمید کی سربراہی میں ان کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے سے انکار کر چکے ہیں اور فوجی قیادت کی جانب سے ادارے کو مکمل طور پر غیر سیاسی کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

پاکستانی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سیاستدان بالخصوص سابق وزیراعظم نے آئی ایس آئی کے سینئر ترین افسران پر اتنے سنگین الزامات عائد کیے ہوں۔ یاد رہے کہ عمران نے 4 نومبر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا تھا کہ میجر جنرل فیصل نصیر کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے، تاہم جواب میں فوجی ترجمان نے ایک ایک دھواں دھار پریس ریلیز جاری کی جس میں واضح کیا گیا کہ فوج کا ادارہ اپنے افسران اور جوانوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوگا اور جھوٹے الزامات لگانے والے عمران خان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔

حال ہی میں آئی ایس آئی میں بطور ڈی جی “سی” تعیناتی کے بعد سے میجر جنرل فیصل نصیر عمران کے الزامات کی زد میں ہیں اور وہ اپنی تقاریر میں ان کے لیے ’ڈرٹی ہیری‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک تقریب کے دوران انھوں نے کہا تھا: ’اسلام آباد میں ایک ڈرٹی ہیری آیا ہوا ہے، اسے لوگوں کو ننگا کرنے کا شوق ہے۔‘ ان کے اس بیان کے بعد اسلام آباد کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ سرگوشیاں ہونے لگ گئیں کہ آخر ان کا اشارہ کس طرف ہے۔ ان کے یہ بیانات سامنے آنے سے کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والے کچھ صارفین نے ایسی ٹویٹس کیں جن میں اس پوسٹنگ کا حوالہ دیا گیا جو حال ہی میں آئی ایس آئی میں ہوئی تھی۔ بعدازاں عمران نے خود بھی یہی حوالہ دیا تاہم نام لینے سے گریز کرتے رہے۔ لیکن پھر سیاسی حالات تبدیل ہو گے اور عمران اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری لفظی جنگ میں اب نام لے کر بات کی جا رہی ہے۔ عمران ’ڈرٹی ہیری‘ کا لقب استعمال کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے حاضر سروس افسر میجر جنرل فیصل نصیر کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ہالی وڈ میں ڈرٹی ہیری ایک فکشنل کردار ہے جسے 1971 میں ریلیز ہونے والی ہالی وڈ فلم میں مشہور اداکار کلنٹ ایسٹوڈ نے نبھایا تھا اور پھر بعد میں اسی نام سے دو فلمیں اور بھی بنیں۔
ڈرٹی ہیری ایک انسپکٹر ہے جسے ہر وہ مجرم ٹھکانے لگانے کا ٹاسک دیا جاتا ہے جو کسی کے قابو نہیں آتا۔ ہیری خطرناک مجرموں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالنے کی بجائے موقع پر ختم کر کے انصاف فراہم کرنے کا قائل تھا۔ لیکن عمران نے شاید درٹی ہیری نامی کوئی فلم نہیں دیکھی کیونکہ ڈرٹی ہیری تو جرائم پیشہ اور قاتل صفت افراد کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی رکھتا تھا اور ماورائے عدالت انکا کام تمام کرنا بہتر سمجھتا تھا تا کہ دیگر مجرم بھی عبرت پکڑیں۔ مختصر یہ کہ ڈرٹی ہیری کا کردار کوئی ولن نہیں ہے بلکہ ہیرو ہے، لیکن چونکہ عمران سنی سنائی باتوں پر چلتے ہیں لہٰذا وہ ڈرٹی ہیری کو ولن سمجھتے ہیں اور اسی لیے اس کا نام منفی پیرائے میں لیتے ہیں۔

فیصل نصیر کو حال ہی میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی جس کے بعد وہ اگست 2022 میں آئی ایس آئی میں بطور ڈی جی “سی” تعینات ہوئے۔ وہ آئی ایس آئی کی انٹرنل ونگ جسے ’پولیٹیکل ونگ‘ کی سربراہی بھی کر رہے ہیں۔ اس عہدے کو عام طور پر ’ڈی جی سی‘ کہا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے مراد کاؤنٹر انٹیلیجنس نہیں، بلکہ یہ محض ایک حرف کے طور استعمال ہوتا ہے۔ آئی ایس آئی میں ان کے علاوہ ڈی جی اے، بی وغیرہ جیسے مخفف بھی استعمال ہوتے ہیں جبکہ کاؤنٹر انٹیلیجینس یا سی آئی بیورو ایک علیحدہ ڈائریکٹوریٹ ہے جس کے ماتحت سیاسی ونگز سمیت دیگر کئی شعبہ جات ہیں۔

جہاں تک میجر جنرل فیصل نصیر کے کیرئیر کا تعلق ہے تو انہعں نے فوج کی پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیریئر کے ابتدائی حصے میں ہی وہ کور آف ملٹری انٹیلیجنس میں چلے گئے جس کے بعد ان کا کیریئر انٹیلجنس اسائنمنٹس تک رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ وہ اپنے کیریئر کے دوران شورش زدہ علاقوں میں تعینات رہے اور اہم انٹیلیجنس آپریشنز کا حصہ رہے ہیں۔ ایک بہادر افسر ہونے کے ناطے انھوں نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران درجنوں انتہائی مطلوب دہشتگردوں کو مقابلوں میں پار کیا ہے اور درجنوں کو گرفتار کیا ہے۔ وہ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے فوجی حلقوں میں ’سپر سپائی‘ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ بھاری بھرکم آواز اور شخصیت والے فیصل نصیر اب تک کے کیریئر میں تمغہ بسالت اور امتیازی بہادری کے اعزازات حاصل کرنے کے علاوہ بھی کئی فوجی اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ میجر جنرل فیصل نصیر فوجی حلقوں میں ایک سخت گیر اور پروفیشنل انٹیلجنس افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان سے قبل اس عہدے پر میجر جنرل کاشف تعینات تھے۔

لیکن فیصل نصیر وہ پہلے ’ڈی جی سی‘ نہیں جن کا ذکر سیاستدانوں کی زبانوں پر اور میڈیا کی خبروں میں مل رہا ہے۔ ان سے پہلے موجودہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام اس وقت بار بار سامنے آیا جب وہ ڈی جی سی تھے۔یہاں تک کہ فیض آباد کے مقام پر تحریک لبیک اور مسلم لیگ ن کی حکومت کے درمیان معاہدے کی دستاویز پر ثالث کے طور پر فیض حمید کے دستخط تھے اور معاملہ عدالت پہنچنے پر ان کا نام ہر طرف سنائی دیا تھا۔بعدازاں فیض حمید آئی ایس آئی کے سربراہ بھی بنے اور مسلم لیگ ن کے قیادت بشمول سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے متعدد بار جنرل فیض حمید کا نام لیا اور ان پر ’سیاسی انجنیئرنگ‘ کے الزامات لگائے تھے۔ ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ مسلم لیگ ن کے عہدیداروں اور لیڈران کو دھمکیاں دی جاتی ہیں، ڈرایا دھمکایا جاتا ہے کہ وہ نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دیں۔ یہ اسی قسم کے الزامات ہیں جو آج عمران موجودہ ڈی جی سی پر لگا رہے ہیں۔اسی طرح جنرل فیض حمید کے بعد تعینات ہونے والے میجر جنرل عرفان ملک تھے جن کا نام مریم نواز نے لیا اور ان پر بھی سیاسی مداخلت کے الزامات لگائے گئے۔

آئی ایس آئی کا ’سیاسی ونگ‘ مختلف ادوار میں متنازع بنتا رہا ہے اور اس پر ’پولیٹیکل انجینیئرنگ‘ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ اگرچہ اس ونگ کا بنیادی کام سیاسی سرگرمیوں اور لیڈران پر نظر رکھنا ہے کہ وہ کسی ملک دشمن سرگرمی کا حصہ نہ بنیں لیکن مختلف حلقے یہ الزامات لگاتے رہے ہیں کہ یہ کردار مبہم اور مشکوک ہے۔ اس عہدے پر تعینات افسر وسیع اختیارات کا مالک ہوتا ہے اور وہ سیاسی جماعتوں سے رابطے اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق آئی ایس آئی میں یہ عہدہ اتنا اہم ہے کہ ماضی قریب میں اس عہدے پر تعینات رہنے والے افسران بعدازاں اس ادارے کے سربراہ بھی بنے۔ ان میں لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام، اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید شامل ہیں۔ لیکن یہ عہدہ اتنا ہی حساس بھی ہے جسے دو دھاری تلوار کہا جاتا ہے۔ اس عہدے پر رہنے والے افسران بعض اوقات ترقی نہیں پاتے۔ ماضی میں ایسے موقع بھی آئے جب اس ونگ کو ختم کرنے کی بات کی گئی لیکن ایسا نہ ہو پایا۔

Related Articles

Back to top button