عمران کو فوج کے بغیر اپنی کامیابی کا یقین کیوں ہوگیا

معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرہ نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تقرری شریف خاندان اور عمران خان کے درمیان ویسی ہی صورت حال پیدا کر چکی ہے جو فلم “مغل اعظم“ میں اکبر بادشاہ اور شہزادہ سلیم کے مابین پیدا ہوگئی تھی۔ اکبر بادشاہ نے انارکلی کو کہا تھا کہ سلیم تمہیں مرنے نہیں دے گا اور ہم تمہیں جینے نہیں دیں گے، بالکل اسی طرح شریف کہتے ہیں کہ ہم ہر صورت نیا چیف لگائیں گے جبکہ خان کہتا ہے کہ وہ کسی صورت ایسا نہیں ہونے دے گا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرہ کہتے ہیں کہ ارشد شریف کے بہیمانہ قتل کے بعد عمران خان کے لانگ مارچ پر ہونے والے حملے نے بھی ان کے حامیوں کے غم وغصہ میں اضافہ کیا ہے۔ اسی لیے عمران خان بھی سلو ہونے کے موڈ میں نہیں، انہیں لگتا ہے کہ ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں۔ وہ اپنی کشتیاں جلائے بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف شریف خاندان نے اپنی بیٹھک لندن میں سجالی ہے جہاں خاندان کے چند گنے چنے افراد نئے آرمی چیف کا انتخاب کر رہے ہیں۔ یہ اہم ترین فیصلہ کرتے وقت شریف خاندان کی ہمیشہ سے ترجیح اپنا بندہ لانا رہی ہے۔ انکے نزدیک پروفیشنل ازم یا کریکٹر سے زیادہ وفاداری اہم رہی ہے اور وہ ہمیشہ درمیان میں ضامن ڈال کر آرمی چیف لگاتے ہیں۔

رؤف کلاسرا کے مطابق اسے شریفوں کی خوش قسمتی کہیں یا بد بختی کہ نواز شریف نے سب سے زیادہ آرمی چیف لگائے۔ ان کا ایک ہی معیار کوتا تھا کہ چیف ان سے کتنا وفادار رہے گا۔ لیکن کوئی بھی آرمی چیف تمام کوشش کے باوجود شریف خاندان کے طے کردہ وفاداری کے معیار پر پورا نہ اتر پایا۔ اسی لیے نواز شریف کو اپنے ہی لگائے ہوئے آرمی چیف کے ہاتھوں دو مرتبہ جیل جانا پڑا۔ آرمی چیف لگانے کا موقع تو قدرت نے آصف زرداری اور عمران خان کو بھی دیا تھا لیکن انہوں نے نیا چیف لگانے کے بجائے پرانوں کو توسیع دینے میں اپنا بھلا سمجھا۔ آصف زرداری اس معاملے میں شریفوں اور عمران خان سے زیادہ سمجھدار نکلے اور اپنے چیف سے وفاداری کی توقع بھی نہیں رکھی لہٰذا پی پی پی نے حکومت کے پانچ سال پورے کر لیے چاہے اسے ایک وزیر اعظم کی قربانی دینا پڑی۔

رؤف کلاسرا کے خیال میں دراصل آصف زرداری، شریف برادران اور عمران خان میں جو بڑا فرق ہے وہ سیاسی اپروچ کا ہے۔ زرداری صبر کر سکتے ہیں اور ماہر شکاری کی طرح وہ شکار کا انتظار کر سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے 2003 میں جب میں سیاست دانوں کے پروفائل لکھ رہا تھا تو اس سلسلے میں زرداری سے پنڈی کی احتساب کورٹ میں ملا تھا۔ وہ نیب کی قید میں تھے اور پیشی پر آئے ہوئے تھے۔ میں نے جہاں زرداری صاحب سے دیگر باتیں پوچھیں وہاں ان سے یہ بھی پوچھا کہ جیل سے انہوں نے کیا سیکھا؟ انہوں نے ایسا جواب دیا جس کی میں توقع نہیں کر رہا تھا۔

آصف زرداری اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ بولے: جیل آپ کو کچھ اور سکھائے نہ سکھئے لیکن صبر کرنا سکھا دیتی ہے۔ جیل آپکو ان لوگوں کے ساتھ گزارہ کرنا سکھا دیتی ہے جنہیں آپ سخت ناپسند کرتے ہیں۔ میری آنکھوں میں ابھرتی حیرانی دیکھ کر زرداری نے کہا: جب آپ کو بڑے عہدے سے اتار کر جیل میں ڈال دیا جائے تو چند روز تو آپ کی اکڑ آپ کا ساتھ دیتی ہے لیکن پھر آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ چھوڑ، آپ تو اپنے سیل کے باہر پہرہ دینے والے عام سپاہی کے رحم و کرم پر ہیں۔ کھانا، پین جاگنا، سونا یا لائٹ بجھانا، یہ سب کچھ اس کے کنٹرول میں ہے لہٰذا اگر آپ نے اپنی اکڑ ختم نہ کی تو وہ سپاہی رات آپ کو سونے نہیں دے گا، چاہے آپ کتنے ہخ بڑے پھنے خان کیوں نہ ہوں۔ وہ اور کچھ کرے نہ کرے رات کو جب آپ گہری نیند میں ہوں تو وہ آپ کے سیل کے آگے سے گزرتے ہوۓ اپنا بوٹ زور سے فرش پر مار دے یا باہر سے سیل کے اندر تیز لائٹ کا سوئچ آن کر دے تو آپ اس کا کیا بگاڑ لیں گے؟ اس لیے آپ کو جیل میں صبر سیکھنا پڑتا ہے جو دھیرے دھیرے آپ کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسکے بعد آپ نا پسندیدہ لوگوں کے ساتھ بھی گزارہ کر لیتے ہیں اور کئی بار تو انہیں دوست بھی بنا لیتے ہیں۔

بقول رؤف کلاسرہ، میں حیرانی سے زرداری صاحب کے فرمودات سن رہا تھا لیکن سچ یہی ہے کہ آپ کو عمران خان اور نواز شریف کا اپنے آرمی چیف کے ساتھ ڈیل کرنے میں صبر کم نظر آئے گا۔ نواز شریف دو بار جیل میں رہے ہیں لیکن وہ جب وزیراعظم بنے تو جرنیلوں کے ساتھ گزارہ نہ کر سکے جیسے زرداری اور گیلانی نے کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ نواز شریف آصف زرداری اور گیلانی کی نسبت کم عرصہ جیل میں رہے لہٰذا ان کا جیل سے سیکھنے کا وقت کم تھا یا کچھ لوگوں میں سبق سیکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔

ہاں جیل پہنچ کر نواز شریف نے صبر ضرور دکھایا۔ لیکن عمران میں دوسرے سیاسی کھلاڑیوں کی نسبت صبر کی کمی ہے ۔ وہ نہ کھیڈاں گے ناں کھیڈن دیاں گئے کی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں، یعنی اگر میں وزیر اعظم نہیں رہا تو پھر کسی اور کو بھی نہیں رہنے دوں گا۔ یوں اس سوچ پرعمل کرتے ہوئے وہ ان قوتوں سے ٹکر لے بیٹھے ہیں جنہوں نے سیاستدانوں کو اقتدار میں لانا ہوتا ہے۔ لیکن شاید عمران خان کو یقین ہو چکا ہے کہ وہ اب ان کی حمایت کے بغیر بھی وزیراعظم بن سکتے ہیں کیونکہ عوام ان کے ساتھ ہیں۔

Related Articles

Back to top button