عمران کی امریکی سازش کے بیانیے کو ایک اور دھچکا

سابق وزیراعظم عمران خان کے امریکی سازش کے بیانیے کو تب ایک بڑا دھچکا لگا جب ان کے قریبی ساتھی اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے اعتراف کیا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ نے قومی سلامتی کمیٹی کو بتایا تھا کہ انہیں عمران خان حکومت کے خلاف کسی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کے پاس اپنے اس دعوے کے کوئی ثبوت نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے موقف کی تائید میں کوئی دستاویز پیش نہیں کی، انکا موقف زبانی تھا۔

اسد عمر نے دنیا نیوز پر آئی ایس پی آر کے سربراہ میج جنرل بابر افتخار کی جانب سے عمران خان کے امریکی سازش کے بیانیے کی تردید سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فوج کے ترجمان نے صرف یہ کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں تمام سروسز چیفس موجود تھے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی کیا رائے تھی۔ اسد عمر نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں تینوں سروسز چیف نے یہ نہیں کہا کہ سازش ہوئی اور یہ بھی نہیں کہا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی۔ وہ خاموش تھے۔ اسد عمر نے کہا کہ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے بھی یہی کہا تھا کہ انہیں حکومت کے خلاف کوئی سازش نظر نہیں آئی۔ لیکن اسد عمر کا کہنا تھا کہ ندیم انجم نے این ایس سی کے اجلاس میں اپنے موقف کے حق میں کوئی تفصیلی رپورٹ یا دستاویز پیش نہیں کی۔ اس میٹنگ میں خط کے علاوہ کوئی دستاویز پیش نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ 31 مارچ کو اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت اور وفاقی وزراء اور اعلیٰ فوجی حکام نے شرکت کی ،این ایس سی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ سلامتی کمیٹی نے مبینہ دھمکی کے جواب میں سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بعد میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ موقف بار بار دہرایا کہ اس اجلاس میں امریکی سازش کے حوالے سے نہ تو کوئی گفتگو ہوئی اور نہ ہی کسی دھمکی کا ذکر کیا گیا۔ تاہم پاکستانی معاملات میں مداخلت کا ذکر کیا گیا تھا۔

لیکن سابق وزیراعظم عمران خان کا مسلسل اصرار ہے کہ انکے خلاف عدم اعتماد اور پھر ان کی برطرفی حکومت کی تبدیلی کی سازش تھی کیونکہ وہ ایک آزاد خارجہ پالیسی لیکر چل رہے تھے۔

عمران کے جانے کے بعد نئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت این ایس سی کے اجلاس نے غیر ملکی سازش کے الزام کو مسترد کر دیا تھا۔ بعد میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی پریس کانفرنسوں میں واضح کیا کہ 31 مارچ کے این ایس سی کے بیان میں “سازش” کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ کامران خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے موقف کو رد کرتے ہوئے یہ بیان داغا تھا کہ فوجی ترجمان کو سیاسی معاملات پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ان کا کام نہیں ہے۔

Related Articles

Back to top button