عمران کی سکیورٹی کا ماہانہ خرچ 5 کروڑاورسالانہ 60 کروڑ


عمران خان پاکستان کے پہلے سابق وزیراعظم ہیں جن کی سکیورٹی دیگر سابق وزرائے اعظم سے کئی سو گناہ زیادہ ہے اور جس پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر ماہ 5 کروڑ روپے سے زائد اخراجات برداشت کر رہی ہیں جو سالانہ 60 کروڑ روپے سے بھی زائد بن جاتے ہیں۔ اس خصوصی سلوک کی بنیادی وجہ عمران خان کا اقتدار سے فارغ ہو جانے کے باوجود غیر مرئی طاقتوں کا لاڈلا ہونا ہے۔ اپنی ایک تازہ تحقیقی رپورٹ میں سینئر صحافی انصار عباسی کہتے ہیں کہ اگر چار سابق وزرائے اعظم عمران خان، شاہد خاقان عباسی، راجہ پرویز اشرف اور سید یوسف رضا گیلانی کو فراہم کردہ سرکاری سکیورٹی کو پرکھا جائے تو خان واقعی ’لاڈلے، منظور نظر اور چہیتے ثابت ہوتے ہیں۔ سرکاری معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ عمران خان کو قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں کی جانب سے 255 سکیورٹی اہلکار فراہم کیے گئے ہیں۔ موصوف کی حفاظت کے لیے سرکاری کے علاوہ پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز بھی تعینات ہیں۔ انہیں سکیورٹی کی پانچ گاڑیوں کے علاوہ جیمر سسٹم والی دو گاڑیاں بھی فراہم کی گئی ہیں جو ہر طرح کی دھماکہ خیز ٹائم ڈیوائس کو چلنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیتی ہیں۔

دوسری جانب شاہد خاقان عباسی اس حوالے سے ایک منفرد مثال ہیں کہ سابق وزیر اعظم ہونے کے باوجود ان کے ساتھ ایک بھی سرکاری سیکورٹی اہلکار تعینات نہیں ہے۔ دوسری جانب یوسف رضا گیلانی کو صرف تین گارڈز فراہم کیے گئے ہیں جو کہ ان کے گھر پر ڈیوٹی دیتے ہیں۔ گیلانی کو سفر کے دوران چار گارڈز پر مبنی حفاظتی دستہ بھی بار بار کے مطالبے پر ہی فراہم کیا گیا اور وہ بھی اس بنیاد پر کہ ماضی میں ان کا ایک بیٹا تحریک طالبان کے ہاتھوں اغوا ہو گیا تھا۔ اسی طرح یوسف رضا گیلانی کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی کے بعد ان کی جگہ وزیر اعظم بننے والے راجہ پرویز اشرف کو تین بندوق بردار اور دو ایف سی گارڈز فراہم کیے گے ہیں جو سفر کے دوران ان کی سکیورٹی کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔

دوسری جانب حیرت انگیز طورپرعمران خان کو اسلام آباد پولیس، خیبر پختون خواہ پولیس، گلگت بلتستان پولیس، آزاد کشمیر پولیس، ایف سی، رینجرز، اورعسکری گارڈز، سکیورٹی فراہم کر رہے ہیں جن کی مجموعی تعداد 255 بن جاتی ہے۔ عمران خان کی سیکورٹی کیلئے ایس پی لیول کا ایک پولیس افسر مقرر ہے حالانکہ اور کسی وزیراعظم کو یہ سہولت میسر نہیں، اسکے علاوہ چار انسپکٹرز، دو سب انسپکٹرز، 19 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز/صوبیدار، 179 کانسٹیبلز، دو لیڈی پولیس اہلکار، دو اسپیشل برانچ کے اہلکار، سی ٹی ڈی فورس کے 15 اہلکار، تین ڈرائیور اور 28 گارڈز بھی خان کی سکیورٹی پر تعینات ہیں اور ان کے بدستور لاڈلا ترین ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ عمران خان کی سکیورٹی پر مامور عملے میں اسلام آباد پولیس کے 77 اہلکار، کے پی کے 57، جی بی پولیس کے آٹھ، ایف سی کے 78، رینجرز کے چھ، عسکری گارڈ کے 9، اور آزاد کشمیر پولیس کے 20 اہلکار شامل ہیں۔ اسکے علاوہ عمران کو سیکورٹی کے لیے فراہم کی گئی سرکاری گاڑیوں میں ایک لینڈ کروزر، دو جیمرز گاڑیاں اور دو پک اپ گاڑیاں شامل ہیں۔

اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ وفاقی حکومت عمران خان کی سکیورٹی پر سالانہ 24 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں بتائی اور کہا کہ سابق وزیراعظم کو اتنی مہنگی سکیورٹی دینے کی وجہ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ انکی جان خطرے میں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران کے لیے سکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے کے احکامات وزیراعظم شہباز شریف نے جاری کیے تھے، لیکن پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں بھی انہیں علیحدہ علیحدہ سکیورٹی فراہم کر رہی ہیں جس پر اٹھنے والے اخراجات وفاق کے دو کروڑ روپے کے ماہانہ اخراجات میں شامل نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر صوبوں کی جانب سے عمران کو فراہم کردہ سکیورٹی پر بھی ماہانہ تین کروڑ روپے سے زائد خرچ ہو جاتے ہیں، یوں انکی ماہانہ سکیورٹی کا خرچہ پانچ کروڑ روپے سے زائد ہے جو سالانہ 60 کروڑ روپے سے زیادہ بن جاتا ہے۔ یعنی عمران خان اس وقت پاکستانی قوم کو 60 کروڑ روپے سالانہ میں پڑ رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button