عمران کے پاپولزم اور فاشزم میں فرق کرنا مشکل کیوں ہو گیا؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد عمران خان نے زبردست سیاسی کھیل کھیلا اور اپنا خالی خولی امریکی سازش کا بیانیہ خوب بیچا، لیکن ایسا کرتے ہوئے انہوں نے ایک پوری نسل کو مغلظات کے کلچر کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ بقول امتیاز، عمران کے پاپولزم اور فاشزم میں فاصلہ بہت کم رہ گیا ہے، بس اب مخالفین کے گھروں پر حملے باقی رہ گے ہیں۔ ایسے میں بہتر ہوگا کہ عمران اور حکومتی اتحادی کوئی درمیانی سیاسی راستہ نکالنے پر متفق ہوجائیں، ورنہ کھیل سیاستدانوں کے ہاتھ سے ایک بار پھر نکل جائے گا۔انکا کہنا ہے کہ ویسے بھی حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں عمران کی نا اہلی اور ناکامی کا بوجھ کیوں اُٹھائیں اور کیوں نہ خود انتخابات کی مناسب تاریخ کا اعلان کردیں۔ بس ڈر یہ ہے کہ کہیں سیاسی افراتفری اور معاشی بحران کسی بڑے قومی سانحہ میں نہ بدل جائے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ سیاسی سونامی اور معاشی بھونچال سری لنکا کو لے بیٹھا ہے۔ پاکستان بھی اپنی تاریخ کے بدترین سیاسی و معاشی بحران سے دوچار ہے۔25 مئی کو آئی ایم ایف سے معاشی ضمانت یعنی بیل آئوٹ پیکیج ملتا ہے یا نہیں اور شہباز حکومت اپنے گلے میں کانٹوں کا ہار ڈالنے پر تیار ہوتی ہے یا نہیں؟ یہ ابھی دیکھنا یے۔ تاہم اگر ایک جانب شہباز حکومت آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط مان لے اور پٹرولیم کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کر دے اور دوسری طرف عمران 25 مئی کو اپنا لانگ مارچ لیکر اسلام آباد میں داخل ہو جائے تو صورتحال خطرناک ہو جائے گی۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ اسٹیبلشمنٹ کیا پوزیشن لیتی ہے۔ اگر لانگ مارچ کے وقت عمران کے تازہ مطالبے کے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہی رہتی ہے تو شہباز حکومت شدید ترین مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔ مریم نواز نے پہلے ہی حکومت چھوڑنے کی وارننگ دے دی ہے اور کہا یے کہ ہم گزشتہ حکومت کا ملبہ کیوں اُٹھائیں۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ اپنی منفرد نیوٹریلیٹی کو برقرار رکھے ہوئے ہے جس کی بدولت پی ڈی ایم اور پی پی پی عمران حکومت کو فارغ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ایسے میں عمران اُسی نیوٹریلیٹی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے وزیراعظم شہباز سے اسمبلیاں توڑنے اور نئے الیکشن کی تاریخ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

امتیاز عالم کے بقول اگر خان صاحب کو پیغام رسانوں نے کوئی خفیہ پیغام دیا ہے کہ قبل از وقت انتخابات کے لیے انتخابی شیڈول پر اتفاق رائے ہوسکتا ہے تو پھر شہباز حکومت اور اس کے اتحادی خاص طور پر نواز شریف ایک ایسی قلیل مدت حکومت پہ کیوں راضی ہوں گے جو صرف عوامی رسوائی کی ذمہ دار ہوگی؟ ایسی صورت میں شہباز حکومت آئی ایم ایف سے کوئی سخت معاہدہ کیوں کرے گی اور اس کے باوجود کہ امریکہ، چین، ترکی، سعودی عرب اور آئی ایم ایف سے مثبت اشارے مل رہے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی بھی سیاستدان آئی ایم ایف کے غیر مقبول پروگرام پر انگوٹھا لگائے، ایک سخت گیر بجٹ پیش کرے اور عوام کی لعنت ملامت لے کر گھر لوٹ جائے۔ اب جبکہ ایک کھلاڑی اقتدار سے فارغ ہوا تو کھلاڑیوں کی پوری ٹیم بھی پچ چھوڑنے کو تیار بیٹھی ہے اور بار بار آزمائے ہوئے نام نہاد ٹیکنوکریٹس کے لیے راستہ ہموار ہوتا لگتا ہے۔ لیکن اگر آئی ایم ایف پیکیج کے ساتھ ایک پورے مالی سال کے لیے پالیسی کے تسلسل کی شرط عائد کردی گئی تو ٹیکنوکریٹس کا باپ بھی یہ شرط پوری نہیں کر سکتا، جب تک کہ نظریۂ ضرورت کے مُردے کو قبر سے نکال کر پھر زندہ نہ کردیا جائے۔

امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ ویسے بھی آئی ایم ایف کے پاس کوئی ایسا نسخہ نہیں ہے جو پاکستانی دست نگر اور قرضوں کی لت کا شکار معیشت کو اس کے بھنور سے نکال دے، لیکن مریض کو ایمرجنسی وارڈ میں آئی ایم ایف کے مالیاتی ٹیکے کی ضرورت ہے۔ اور بیساکھیوں کے سہارے کی عادی جماعتیں کریں بھی کیا جن کی باہم سرپھٹول میں عطار کے اُسی لونڈے سے دوا لینی پڑتی ہے جو جمہوریت کے کوڑھ پن کا ذمہ دار ہے۔ اب ذرا خودمختار نیوکلیئر مملکت خداداد کی حالتِ زار پہ بھی اِک نگاہ ڈال لی جائے۔ خیر سے پاکستان کا قرضہ 53.5 کھرب روپے ہوچکا ہے۔ ہمارے قومی غیرت اور قومی آزادی کے نعرہ زن کپتان کی ساڑھے تین برس کی حکومت میں اس میں 23.7 کھرب روپے یعنی 80 فیصد اضافہ ہوا، جو اُن سے قبل دو حکومتوں کے لیے گئے قرضوں سے دوگنا ہے۔ بجٹ خسارہ 5.5 کھرب روپے اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ 14 ارب ڈالرز تک پہنچنے کو ہے۔ جس مجموعی قومی آمدنی کے 6 فیصد تک پہنچنے پر سابق وزیر خزانہ شوکت ترین بہت اترا رہے ہیں، اس کی بنیادی وجہ درآمدات ہیں جو ادائیگی کے توازن میں خرابی کی بنیادی وجہ ہیں۔ عارضہ یہ ہے کہ جب بھی قومی آمدنی بڑھتی ہے تو دونوں خسارے بڑھتے ہیں، پھر آئی ایم ایف کا نسخہ آتا ہے تو قومی آمدنی گھٹائی جاتی ہے اور خسارے سنبھل جاتے ہیں، لیکن مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، بیروزگاری اور سرمایہ کاری کم ہوجاتی ہے۔
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا نسخہ نہ تو آئی ایم ایف کے پاس ہے اور نہ ہی اس کے چیلے چانٹے ٹیکنوکریٹس کے پاس۔ عمران حکومت کا سارا زور کرایہ خوری کے اسٹیٹ بزنس پر رہا جسے تین ٹیکس چھوٹیں اور عام معافیاں دی گئیں لیکن یہ سیکٹر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کرتا جسے برآمد کیا جاسکے بلکہ اس کا انحصار ایک حد تک درآمد پر ہے۔

لہذا بقول امتیاز عالم، اصل بحران پیداواری استطاعت کے نہ بڑھنے اور غیر پیداواری اخراجات و مراعات کا ہے۔ اب اسے ٹیکنوکریٹس تو حل کرنے سے رہے، لیکن سیاست سے بیزار مقتدر ادارے ان کی زلفوں کے ہمیشہ سے اسیر رہے ہیں۔ ایسے میں پردہ گرنے کو ہے اور ڈر یہ ہے کہ کہیں ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی افراتفری اور معاشی بحران کسی بڑے قومی سانحہ میں نہ بدل جائے؟

Related Articles

Back to top button