عمران گرفتار ہوئے تو بشریٰ بی بی پارٹی چیئرمین بنیں گی؟


اس وقت پاکستانی سوشل میڈیا پرسابق وزیراعظم عمران خان کی ممکنہ نااہلی اور گرفتاری کی صورت میں ان کی اہلیہ اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو پارٹی کا قائم مقام چیئرمین بنانے کی تجویز زیر بحث ہے۔ بشریٰ بی بی کا نام سامنے آنے کی بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ خان صاحب نہ تو پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی پر اعتماد کرتے ہیں اور نہ ہی پارٹی سیکرٹری جنرل اسد عمر پر بھروسہ کرنے کو تیار ہیں۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا جا رہا ہے کہ اسد عمر جنرل ریٹائرڈ عمر کے سگے بیٹے ہیں جب کہ شاہ محمود قریشی اسٹیبلشمنٹ کے لے پالک بیٹے ہیں۔ چنانچہ خان صاحب کے لئے دونوں ناقابل بھروسہ ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر جاری یہ بحث دراصل خان صاحب کے بنی گالہ ڈرائنگ روم سے باہر نکلی کیونکہ سابق وزیر اعظم کی ممکنہ نا اہلی اور گرفتاری کی صورت میں پارٹی کا لائحہ عمل طے کرتے ہوئے بشریٰ بی بی کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کے کم ازکم چار قریبی ساتھی پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور فواد چودھری سابقہ خاتون اول بشریٰ بی بی کو عمران کی نااہلی اور گرفتاری کی صورت میں چیئرمین بنائے جانے کی تجویز سے آگاہ ہیں اور چاروں نے اس تجویز پر پریشانی کا اظہار کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بشریٰ بی بی کو پارٹی چیئرمین بنانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کلثوم نواز شریف کی مثال دی گئی جنہوں نے نواز شریف کی گرفتاری کے بعد ان کی رہائی کے لئے تحریک کی قیادت کی تھی۔

سوشل میڈیا پر اس تجویز کے حوالے سے بحث جاری ہے اور ہر طرح کے تبصرے کیے جارہے ہیں۔ اکثر سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ بشری ٰبی بی کی ارسلان بیٹا کے ساتھ لیک ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو نے ایک بات تو واضح کر دی کہ وہ غیر سیاسی تو بالکل بھی نہیں ، جیسا کہ عمران خان دعویٰ کیا کرتے تھے۔ علی خان نامی سوشل میڈیا صارف کا کہنا ہے ایسا لگتا ہے پاکستان میں انڈین فلم ستہ یا پھر گنگو بائی کاٹھیا واڑی چل رہی ہے۔

انڈین فلم ستہ دراصل بھارتی سیاست پر بنائی گئی ہے جس میں ایک خاتون جرنلسٹ ایک روایتی سیاست دان کے قریب ہو جاتی ہے۔ سورج چوہان کی نااہلی پر انو رادھا چوہان میدان میں آتی ہے اور پارٹی کی باگ ڈور سنبھال لیتی ہے۔ اگر گنگوبائی کاٹھیاواڑی فلم دیکھی جائے تو بھی لگتا ہے کہ کچھ ایسا ہی سین چل رہا ہے۔ اس فلم میں ممبئی کے علاقے کماٹھی پورا میں گنگو بائی کا قحبہ خانے کی مالکن سے ایک سیاست دان بننے کا سفر دکھایا گیا ہے۔ گنگو بائی اتنی مضبوط ہو جاتی ہے کہ تب کے وزیراعظم کو گنگو بائی کی اجازت سے ممبئی میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا صارف علی خان لکھتے ہیں کہ ستہ اور گنگو بائی کاٹھیاواڑی نامی فلمیں دیکھیں اور بشریٰ بی بی کا سیاست میں آنے تک کا معاملہ دیکھیں تو لگتا ہے کہ وہی فلم دیکھ رہے ہیں۔ فلمی اسٹوری کی طرح بشریٰ بی بی بھی ایسی شخصیت ہیں جو آہستہ آہستہ حاوی ہوتی ہیں۔ بشریٰ بیگم سیاست میں ایک پراسرار شخصیت ہیں اور انکے بارے میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ عمران کے ہر بڑے فیصلے میں ان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ گنگو بائی کاٹھیا واڑی کی بشری ٰبی بی کے بھی فرح گوگی جیسے کئی کارندے ہیں۔

کئی تجزیہ کار تو پنجاب میں حمزہ حکومت کے خاتمے اور پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ بننے کو بشریٰ بی بی کی کوششوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی اور عمران خان کی ڈیل بشریٰ بی بی نے کروائی ورنہ وہ تو پی ڈی ایم کے وزیر اعلیٰ بننے کو تیار ہوچکے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ بشریٰ بی بی نے پرویز الٰہی کی اہلیہ سے دوستی ڈال رکھی تھی اور انہی کے ذریعے عمران خان اور پرویز الٰہی کو ایک دوسرے کے ساتھ چلنے پر آمادہ کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ پی ڈی ایم سے بیوفائی کر کے جب پرویز الٰہی بنی گالا پہنچے تو انہوں نے عمران سے پہلے بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اور خان کی جانب سے دھوکہ نہ دینے کی یقین دہانی حاصل کی۔ ایسے میں سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ عمران کی نااہلی اور گرفتاری کی صورت میں بشریٰ بی بی ہر صورت پارٹی کی سربراہ بنیں گی، اس ساری گیم میں نہ تو عوام کامیاب ہوں گے اور نہ ہی عمران۔ ہاں اگر کوئی کامیاب ہوگا تو وہ بشریٰ بی بی ہوں گی۔

Related Articles

Back to top button