فارن فنڈنگ کیس میں PTI کالعدم بھی ہو سکتی ہے؟


الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کیے جانے کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر اکبر ایس بابر کی جانب سے لگائے گئے الزامات ثابت ہو گئے تو تحریک انصاف کالعدم بھی قرار دی جاسکتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹھ سال کی طویل سماعتوں کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے سنایا جانے والا فیصلہ تحریک انصاف کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں اکبر ایس بابر کی جانب سے لگائے گئے الزامات تقریبا ثابت ہو گے تھے۔ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں تحریک انصاف کی جانب سے چھپائے گئے ان تمام بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی شامل تھیں جو کہ پہلے ظاہر نہیں کیے گے تھے۔ ان اکاؤنٹس میں بھارت امریکا اور انگلینڈ سمیت کئی غیر ممالک سے غیر قانونی فنڈنگ آئی لہذا اگر الیکشن کمیشن اکبر ایس بابر کے الزامات کو سچ تسلیم کر لیتا ہے تو تحریک انصاف کالعدم قرار دی جا سکتی ہے اور عمران خان کا بطور پارٹی چیئرمین کی مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور محمد دلشاد کا کہنا ہے کہ میں نے جو سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹس پڑھی ہیں ان میں واضح شواہد موجود ہیں اور اگر فیصلے کے بعد آنے والا حکومتی ریفرنس مضبوط ہوا تو تحریک انصاف کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ انکا۔کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ ملک کے محفوظ ترین فیصلوں میں سے ایک ہے۔ موجودہ الیکشن کمیشن کا شاید ارادہ یہی ہے کہ بالاخر اس پر کوئی فیصلہ جاری کر ہی دیا جائے۔ اور ظاہر ہے کہ اگر فیصلہ میرٹ پر آیا تو عمران خان کا سیاسی کیریئر شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔

اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اس معاملے پر فیصلہ کیا ہوگا؟ اس بارے تو ابھی صرف قیاس آرائی ہی کی جا سکتی ہے لیکن ہم نے اب تک جو چیزیں دیکھی ہیں، جو سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ دیکھی ہے، اس کو پڑھ کر عام آدمی کو بھی اندازہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وکلا بھی یہ کہتے رہے ہیں کہ ایسے کچھ واقعات ہوئے ہیں جس میں ضابطگیوں کے شواہد نظر آئے ہیں تاہم زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ یہ وہ پیسہ بحق سرکار ضبط ہو جائے گا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کیس کے نتیجے میں یہ ثابت ہوگیا کہ فارن سورس سے فنڈنگ ہوئی ہے تو حکومت سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجے گی اور وہاں فیصلہ ہوگا۔ اور اگر حکومتی ریفرنس مضبوط ہوا تو پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ اس وقت تو یہ بات بہت دور افتادہ لگتی ہے لیکن اتنی بھی نہیں ہے کیونکہ میں نے جو سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ پڑھی ہے اس میں فارن فنڈنگ کے شواہد موجود ہیں۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کو آٹھ برس تک لٹکایا گیا تاہم اب الیکشن کمیشن نے اس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

Related Articles

Back to top button