فروغ نسیم اور بابر اعوان میں کرسی کی جنگ تیز ہو گئی

وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر بابر اعوان اور وفاقی وزیر برائے قانون بیرسٹر فروغ نسیم کے مابین اختیارات کی رسہ کشی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بابر اعوان چونکہ ماضی میں وزیر قانون رہ چکے ہیں اس لیے وہ بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح فروغ نسیم کی چھٹی کروا کر ایک مرتبہ پھر یہ وزارت حاصل کرلیں۔ تاہم دوسری جانب بیرسٹر فروغ نسیم کے اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے ہونے کی وجہ سے بابر اعوان کو کافی زور لگانا پڑ رہا ہے اور ان کی کامیابی کا امکان تب ہے جب وہ وزیراعظم کو اس حوالے سے قائل کرلیں۔
سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے وزیراعظم عمران خان کے قریبی سمجھے جانے والے بابراعوان معاون خصوصی برائے پارلیمانی امور بننے کے باوجود زیادہ دلچسپی وزارت قانون کے معاملات میں دکھا رہے ہیں۔ اس وقت بابر اعوان کی دو کوششیں ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ وفاقی وزیر بن جائیں اور دوسری یہ کہ ان کو وزارت بھی قانون کی ملے۔ بابر اعوان سمجھتے ہیں کہ وہ تجربے اور عمر میں فروغ نسیم سے زیادہ سینئر اور قابل ہیں لہذا وفاقی وزیر قانون کا عہدہ ان کے پاس ہونا چاہیے۔
دوسری طرف وزیراعظم بھی بابر اعوان پر بے انتہا اعتماد کرتے ہیں اور نئے آرڈینسز کی تیاری اور قوانین بنانے کے لیے بھی بابر اعوان سے مشورہ کیا جارہا ہے۔ بابر اعوان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ فروغ نسیم ان سے زیادہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہیں لہذا وہ ان پر اتنا اعتماد نہیں کرتے جتنا ایک وزیراعظم کو اپنے وزیرقانون پر کرنا چاہیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم کی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے قربت کی بنیادی وجہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے وہ کیس بھی ہے جو ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اور جس کے حوالے سے سے عسکری حلقے فروغ نسیم سے گاہے بگاہے مشورہ بھی لیتے رہتے ہیں۔
بابر اعوان کے قریبی ذرائع کا یہ دعویٰ ہے کہ گذشتہ چند ماہ سے فروغ نسیم وزیراعظم کی گڈبکس میں نہیں رہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فروغ نسیم اسٹیبلشمنٹ کے خاص مہرے ہونے کی حیثیت سے تگڑی پوزیشن میں ہیں اور جب تک آرمی چیف کی توسیع کے حوالے سے حکومت کی طرف سے کی گئی قانون سازی کی سپریم کورٹ منظوری نہیں دے دیتی، وزیر قانون کو انکے عہدے سے ہٹائے جانے کے امکانات معدوم ہیں۔
تاہم وزارت قانون کے حصول کے لیے ڈاکٹر بابر اعوان کی فروغ نسیم سے اندرونی رسہ کشی جاری ہے۔ بابر اعوان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں معاون خصوصی ہونے کی وجہ سے اپنی تمام سمریوں کی منظوری وزیراعظم آفس سے لینا پڑتی ہے جبکہ وفاقی وزیر اپنی سمریوں کی خود منظوری دے سکتا ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر بابر اعوان کو اراکین اسمبلی کے فنڈز کی مد میں اربوں روپے کا بجٹ دیا گیا ہے تاہم کہا جاتا ہے کہ ان کے اصل خواہش وفاقی وزیر قانون بننا ہے اور وہ اس حوالے سے اپنی خواہش کا اظہار وزیراعظم سے بھی کر چکے ہیں۔
دوسری جانب فروغ نسیم بھی ڈاکٹر بابر اعوان کی تمام تر کارروائیوں سے اچھی طرح واقف ہیں اور وہ بھی دن رات اپنی وزارت پکی کرنے کے لیے زور لگائے ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ فروغ نسیم پہلے سے زیادہ مستعدی کے ساتھ وزارت کے معاملات چلا رہے ہیں۔ جہاں تک بابراعوان کا تعلق ہے تو انہیں سیاست اور سرکاری دربار میں اثرورسوخ کے حوالے سے فروغ نسیم پر واضح برتری حاصل ہے اس وقت زلفی بخاری کے بعد بابر اعوان ہی وزیراعظم کے زیادہ قریب ہیں۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم کے عدلیہ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اگر فروغ نسیم اپنی کرسی بچانا چاہتے ہیں تو انہیں عدلیہ کے ساتھ تعلقات کو بروئے کار لانا ہوگا ورنہ جلد یا بدیر بابراعوان کی سازش کا شکار ہو سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button