فوج کے تراشے ہوئے بت اسکے خلاف کھڑے کیوں ہو جاتے ہیں؟


قیام پاکستان کے بعد سے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے جتنے بھی بت تراشے ہیں وہ بالآخر اسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہی مزاحمت کی علامت بنتے ہیں جن میں نیا اضافہ عمران خان ہیں۔ لیکن اس پورے عمل کا پاکستان کے علاوہ جس ادارے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے وہ فوج ہے جس کی سیاست میں مداخلت نے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے بعد اب تحریک انصاف کے ووٹرز کو بھی اپنے خلاف کر لیا ہے۔

مشہور انقلابی نظم ‘میں باغی ہوں’ لکھنے والے شاعر اور معروف تجزیہ کار خالد جاوید جان نے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج پاکستان معاشی، سیاسی اور قومی بحران کی جس جان لیوا کیفیت میں مبتلا ہے اسی سے بچنے کے لیے ملک کی جمہوری اور عوامی پارٹیوں، روشن خیال دانشوروں اور شاعروں ،ادیبوں نے ہمیشہ پاکستان میں جمہوری ادارے مضبوط کرنے پر زور دیا تھا اور ایسا کرتے ہوئے نہ صرف ریاستی تشدد کو برداشت کیا بلکہ اپنی جانوں کے نذرانے بھی دیے۔ اس کا آغاز یوں ہوا کہ جنرل ایوب خان کے پہلے پاکستانی کمانڈر انچیف بنتے ہی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے سیاست میں مداخلت شروع کردی جسکی بابائے قوم نے سختی سے ممانعت کی تھی۔ لیکن جناح کی رحلت کے بعد جنرل ایوب خان نے ہر طرح کے اخلاقی اور آئینی انحراف کا سلسلہ شروع کردیا اور کمانڈر انچیف کے عہدے میں توسیع کے ساتھ ساتھ وہ ملک کا وزیرِ دفاع بھی بن بیٹھا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔

خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ جمہوریت کے فقدان کی وجہ سے مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوگیا۔ یہ تھا فوج کی سیاست میں مداخلت کا پہلا نتیجہ اور پیغام کہ اگر بقیہ پاکستان کو بچانا ہے تو ملک میں حقیقی سیاسی لیڈر شپ کومضبوط ہونے دیں جو صرف ایک آزاد، شفاف اور منصفانہ الیکشن کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ جبکہ سیاست دانوں کا امیج داغدار بنا کر پیش کرنے کی بجائے انہیں قوم کا حقیقی نمائندہ سمجھا جائے کیونکہ سیاست کی باریکیاں صرف سیاستدان ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان بھی ایک شفاف الیکشن کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا تھا اور اس کا بانی بھی ایک سیاستدان تھا مگر اس بھیانک انجام اور وارننگ بھرے پیغام کے باوجود اسٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی کردار کشی کرنے اور انہیں اپنے راستے سے ہٹانے کے لیے غداری اور سکیورٹی تھریٹ جیسے الزام لگانے بند نہ کئے اور صرف چھ سالہ جمہوری حکومت کے بعد پھر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اپنی مرضی کی لیڈر شپ کو اقتدار پر مسلط کرنے کے لیے حقیقی جمہوری جماعتوں کو کچلنے کا سلسلہ پھر سے شروع کردیا۔

خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ 1947میں آزاد ہونے والا ملک محض اس لیے ایک قوم نہ بن سکا کہ طاقت کے زور پر اقتدار حاصل کرنے والے ڈکٹیٹر وں نے ملک گیر پارٹیوں کو توڑنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ پہلے مسلم لیگ کو کئی دھڑوں میں تقسیم کیا اور پھر پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کی کوششیں کیں۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو جیسے پائے کے عالمی لیڈر کو ایک آئین شکن آمر ضیا نے جسمانی طور پر تو ختم کر دیا لیکن تاریخ کے صفحات اور عوام کے ذہنوں سے ان کا نام نہیں مٹا پایا۔ بھٹو کے عدالتی قتل سے وفاق پاکستان مزید کمزور ہوا کیونکہ ملک گیر سیاسی لیڈر اور سیاسی جماعتیں کسی بھی قوم کی وحدت کی نشانی ہوتی ہیں۔ انہیں کمزور کرنے کا مطلب قومی وحدت کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ اگر ایک پارٹی پورے ملک میں اپنا موثر وجود رکھتی ہو تووہ عوام کو قریب لانے کا باعث بنتی ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ کے خاتمے کے بعد کوئی ایسی سیاسی جماعت باقی نہیں تھی جو ملک کے دونوں حِصّوں میں مقبول ہوتی۔ عوامی لیگ کا مغربی پاکستان اور پیپلز پارٹی کا مشرقی پاکستان میں کوئی وجود نہ تھا۔

خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ پاکستان کی پوری تاریخ کے دوران ایک طرف اسٹیبلشمنٹ اپنے بت تراشتی رہی اور دوسری طرف وہی بت اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کی علامت بنتے۔ اس پورے عمل کے دوران ملک کے ساتھ سب سے زیادہ کمزور اسٹیبلشمنٹ ہوئی ہے جو اب پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے بعد اب تحریک انصاف کی مخالفت کا سامنا کر رہی ہے۔ دراصل فوج کی کمزوری بذاتِ خود ملک کے استحکام اور سالمیت کے لیے ایک خطرہ ہے لیکن اس کمزوری کی وجہ بھی فوج خود ہے جو کہ سیاست میں مداخلت سے باز نہیں آتی۔ عمران خان کو جس طرح کھلے عام اسٹیبلشمنٹ نے بے انتہا سپورٹ کیا، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ یہ بھی ہر کوئی جانتا ہے کہ اسے 10 سال تک اقتدار میں رکھنے کا وعدہ کیا گیا۔ ویسے بھی جسے اقتدار اپنی صلاحیت کی بجائے کسی ڈیل کے تحت ملا ہو وہ وقت سے پہلے اقتدار چھوڑنا وعدہ خلافی سمجھتا ہے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے عمرانی تجربے نے معیشت کے ساتھ ساتھ ہر ادارے کو تباہ کر دیا ہے۔ لیکن سلیکٹڈ کی کئی سالوں تک جو امیج بلڈنگ کی گئی تھی اسکی وجہ سے وہ اقتدار سے باہر رہنے پر تیار ہی نہیں۔ اب اسٹیبلشمنٹ سمیت پورا پاکستان ایک بند گلی میں پھنسا ہوا ہے جس سے باہر نکلنے کا راستہ کسی کو دکھائی نہیں دے رہا اور یہ سب سیاست میں فوج کی مداخلت کی وجہ سے ہوا ہے۔

Related Articles

Back to top button