فیض حمید نے عمران کے اقتدار کی کشتی کیسے ڈبوئی؟

اکثر سیاسی تجزیہ کار عمران خان کو اپنے اقتدار کی مدت پوری ہونے سے پہلے نکالنے کے فیصلے کو پی ڈی ایم کی بڑی غلطی قرار دیتے ہیں چونکہ اس طرح عمران حکومت کی پونے چار سالہ ناکامیاں شہباز حکومت کے کھاتے میں پڑ گئیں تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عمران کو تب اقتدار سے نہ نکالا جاتا تو آج وہ سیاسی تاریخ کے متنازعہ ترین جرنیل فیض حمید کو نیا آرمی چیف لگانے کا اعلان کر چکے ہوتے جس کے بعد ان کے 15 سال مزید اقتدار میں رہنے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع ہو جانا تھا یہی وہ منظرنامہ تھا جس کی وجہ سے تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ ہوا۔ ذرائع کہتے ہیں کہ نومبر میں آرمی چیف کی تقرری سے پہلے عمران خان نے جس طرح اس حساس ترین معاملے کو عوامی جلسوں میں متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے اس سے ان کی تکلیف صاف ظاہر ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ڈان اخبار کے سابق ایڈیٹر اور سینئر صحافی عباس ناصر کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے انہیں بتایا تھا کہ نواز شریف عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے حق میں نہیں تھے لیکن جماعت میں ہونے والی بحث میں ان کے سامنے بھر پور دلائل پیش کیے گئے جن میں دو منظرناموں پر بحث کی گئی۔ انکا کہنا ہے کہ معاشی بحران عمران دور میں ہی شروع ہوچکا تھا اور بڑھتا ہوا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ خطرے کی نہیں بلکہ موت کی گھنٹیاں بجا رہا تھا۔ آئی ایم ایف کا پیکج بھی تعطل کا شکار تھا۔
ایسے میں پی ٹی آئی کے معاشی منتظم یہ سوچ رہے تھے کہ عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود انہوں نے ایندھن کی قیمتوں میں جو سبسڈی دی ہے وہ اس کے لیے کہیں نہ کہیں سے پیسے حاصل کرلیں گے۔ اس پس منظر میں ایک احساس یہ تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو مداخلت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور یہ کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنی ہی نااہلی کے بوجھ تلے دب جائے گی۔ اس رائے کو کئی ضمنی انتخابات کے نتائج سے بھی تقویت مل رہی تھی اور یہ بات سامنے آرہی تھی کہ حکمران جماعت کی مقبولیت کم ہورہی ہے۔
لیکن عباس ناصر کہتے ہیں کہ اگر عمران کو سال کے آخر تک حکومت کرنے دی جاتی تو یہ بات طے تھی کہ وہ اپنے من پسند فیض حمید کو آرمی چیف تعینات کر یں گے، ایسی صورتحال میں حزبِ اختلاف کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اور شاید اپوزیشن کو اگلی دو مدت تک اقتدار سے دُور رکھا جاتا، یہی وہ منظرنامہ تھا جس کی وجہ سے تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ ہوا۔
عباس ناصر کہتے ہیں کہ جس شخص کو عمران نے نیا آرمی چیف لگانا تھا اسے انکے سیاسی مخالفین کی جانب سے ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جارہا تھا جسکا ریکارڈ میڈیا کی زبان بندی، 2018ء کے انتخابات میں مداخلت اور پھر آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈالنے پر مبنی تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے حوالے سے آنے والے عدالتی فیصلوں میں بھی اسی شخص کا عمل دخل سمجھا جاتا تھا کیونکہ وہ اعلی عدلیہ کا ہینڈلر بھی تھا۔ جب عمران کو وزیرِاعظم بنانے کے صرف 3 سال بعد ہی دیگر جرنیلوں کا ان پر سے اعتماد اٹھ گیا تھا تب بھی وہ شخص ‘پروجیکٹ عمران’ کے ساتھ وابستہ رہا۔ عمران خان کی جگہ جیسے ہی شہباز شریف وزیرِاعظم بنے تو مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم میں شامل ان افراد کی تعداد کم ہوگئی جو فوری انتخابات چاہتے تھے۔ شہباز شریف گروپ اقتدار میں رہنا چاہتا تھا اور اس کے جواز کے طور پر یہ کہا گیا کہ ملک کو معاشی بدحالی سے بچانے کے لیے قومی مفاد میں سخت فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عمران خان نے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد جارحانہ رویہ اختیار کرلیا اور امریکی سازش اور امپورٹڈ حکومت کا بیانیہ لے کر نکل پڑے۔ انہوں نے عدلیہ سے فوج اور پھر امریکہ تک تک ہر کسی کو اپنے نشانے پر لے لیا۔ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے گود سے اتارے جانے پر نالاں عمران خان کُھل کر اس خواہش کا اظہار کیے چکے جا رہے ہیں کہ فوج اور دیگر ریاستی ادارے اس لڑائی میں غیر جانبداری چھوڑ کر ان کا ساتھ دیں حالانکہ یہ آئین کے منافی عمل ہے۔ عمران نے کرسی کی اس لڑائی کو ‘حق اور باطل’ کی لڑائی قرار دے دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ ان کی حکومت کو نکالنے والے غداروں کو اللہ بھی معاف نہیں کرے گا۔
عباس ناصر کا کہنا ہے کہ عمران خان ان اداروں اور افراد پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں جنہوں نے اچانک ‘غیر جانبداری’ اختیار کر لی جس کے نتیجے میں انکی حکومت گرانے کی کوشش کامیاب ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں جو غیر یقینی پھیلی اسکی وجہ سے ہر قیاس آرائی اور افواہ پر مکمل یا جزوی یقین کیا جاتا رہا۔ ایسی صورتحال میں وہ استحکام جاتا رہا جو معاشی بحالی کے لیے ضروری تھا۔ لیکن جو بھی تاریخ پر نظر ڈالے گا وہ یہ جان لے گا کہ آرمی چیف کوئی بھی بنے لیکن ایک بار اس عہدے پر آنے کے بعد وہ اس وزیرِاعظم کی احسان مندی میں کام نہیں کرتا جس نے اس کا انتخاب کیا ہوتا ہے بلکہ اس کے پیچھے دیگر عوامل ہوتے ہیں۔
بقول عباس ناصر، وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تین سینئیر لیفٹیننٹ جنرلز کو نظر انداز کرکے جنرل ضیا کا انتخاب کیا جس نے بھٹو حکومت کا تخت الٹا دیا اور انہیں ایک جھوٹے مقدمہ قتل میں تختہ دار تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد جنرل عبدالوحید کاکڑ کو صدر غلام اسحٰق خان نے آرمی چیف تعینات کیا اور انہوں نے غلام اسحٰق اور وزیرِاعظم نواز شریف کو گھر بھیجا۔ 1999 میں نواز شریف نے ایک جونیئر جرنیل جنرل مشرف کو آرمی چیف بنایا لیکن اس نے نہ صرف میاں صاحب کی حکومت ختم کی بلکہ ان کو جیل میں ڈال دیا۔ پھر نواز شریف نے سنیارٹی نظر انداز کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف تعینات کیا جنہوں نے توسیع کی خاطر انکی زندگی مشکل بنائے رکھی۔ راحیل شریف کے بعد نواز شریف نے جنرل قمر باجوہ کو سنیارٹی نظر انداز کرتے ہوئے آرمی چیف بنایا لیکن انہیں ایک مرتبہ پھر اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اگست 2019 میں عمران خان نے نیا آرمی چیف تعینات کرنے کی بجائے جنرل قمر باجوہ کو تین سال کی توسیع دی لیکن پھر خان کو گھر جانا پڑ گیا۔ شاید اسی لیے عمران کی جانب سے جنرل باجوہ کو مزید توسیع دینے کی تجویز کے باوجود حکومت اس میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
عباس ناصر کے بقول، ان تمام مثالوں سے یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ جو بھی شخص آرمی چیف بنتا ہے وہ اس منصب پر آنے کے بعد یہ بھول جاتا ہے کہ اسے یہاں کون لے کر آیا۔ اس کے بعد وہ صرف اپنے ذاتی اور ادارے کے مفادات کے تحت ہی کام کرتا ہے۔ ایسے میں سیاسی جماعتوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ مؤثر حکمرانی پر توجہ دیں اور عوام کی خدمت کریں۔ یہی وہ چیز ہے جو انکی مقبولیت اور طاقت میں اضافہ کرے گی نہ کہ کسی خاص عہدے پر بیٹھا شخص۔

Related Articles

Back to top button