فیض حمید کے شہر میں عمران کی ندیم انجم کو دھمکیاں

اسلام آباد کے با خبر حلقوں نے دعوی کیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو عہدے میں توسیع کی رشوت نما تجویز سے رام کرنے کی تازہ کوششں ناکام ہو گئی ہے جس کے بعد انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی توپوں کا رخ مسٹر ایکس اور مسٹر وائے کی جانب کرتے ہوئے سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید کے شہر سے موجودہ آئی ایس آئی چیف ندیم انجم کو کھلی دھمکیاں دے ڈالی ہیں۔ عمران کا چکوال کا جلسہ اس لحاظ سے اہم تھا کہ اس کے انتظامات کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بڑے بھائی سردار نجف حمید نے کیے تھے، سردار نجف بطور پٹواری ریٹائیر ہونے کے بعد اب باقاعدہ تحریک انصاف سے وابستہ ہیں اور 18 ستمبر کے جلسے میں عمران خان کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے۔
عمران نے اپنی فراغت کے بعد اب تک جتنے بھی جلسے کیے ہیں ان میں سب سے ذیادہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ تقریر انہوں نے چکوال کے جلسے میں کی اور براہ راست آئی ایس آئی پر حملہ آور ہو گئے۔ بظاہر سخت غصے اور برہمی کے عالم میں کی گئی تقریر میں عمران نے الزام لگایا کہ ان کے ساتھیوں کو فون پر دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ ہم ایسے کر دیں گے اور ویسے کر دیں گے، لہذا میں بھی اپنے ساتھیوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ وہ دھمکیاں دینے والوں کو جوابی دھمکیاں دی۔ عمران نے کہا کہ پاکستانیوں، خوف کے بت توڑ دو گمنام نمبروں سے دھمکیاں دینے والوں سے ڈرنے کے بجائے انہیں ڈراؤ، مسٹر ایکس دھمکیاں دینے والے اور ڈرانے والے کون ہوتے ہیں۔ ہم نے کافی تماشہ دیکھ لیا، دھمکیاں دینے والے جو کر سکتے ہیں کر کے دکھائیں، ہم بھی انہیں بھرپور جواب دیں گے۔
تاہم یہ تقریر کرتے ہوئے عمران بھول گئے کہ خفیہ نمبروں سے دھمکیوں اور انتقامی کارروائیوں کی روایت انکے دور حکومت میں عروج پر پہنچی جب آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ایماء پر اپوزیشن رہنماؤں کو ڈرایا اور دھمکایا جاتا تھا۔ اتفاق کی بات ہے کہ مسٹر ایکس اور مسٹر وائے کو جوابی دھمکیاں بھی عمران نے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے آبائی شہر چکوال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دیں۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کیلئے عمران خان کا اچانک بدلہ ہوا لہجہ حیران کن تھا کیونکہ چند روز پہلے ہی انہوں نے پرو اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپناتے ہوئے جنرل قمر باجوہ کو اگلے الیکشن تک ان کے عہدے پر برقرار رکھنے کی تجویز پیش کی تھی۔
اس دوران یہ اطلاع بھی آئی کہ انکی آرمی چیف جنرل باجوہ سے ایوان صدر میں خفیہ ملاقات بھی ہوئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خا نے اپنے لہجے میں اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے جو نرمی پیدا کی تھی اسکا بنیادی مقصد اپنے خلاف زیر سماعت کیسز میں ممکنہ نا اہلی سے بچنا تھا لیکن 18 ستمبر کے روز الیکشن کمیشن کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں فیصلہ محفوظ کیے جانے کے بعد انہیں اپنے خلاف فیصلہ آنے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر انہوں نے اداروں پر دباؤ بڑھانے کے لیے چکوال میں اسٹیبلشمنٹ پر سیدھی فائرنگ کر دی۔
عمران خان نے اپنے چند روزہ مفاہمتی بیانیے سے یو ٹرن لے کر دوبارہ اینٹی اسٹیبلشمنٹب بیانیہ تو اپنا لیا ہے لیکن انکو اس کا کوئی فائدہ اس لیے نہیں ہونے والا کہ اداروں نے ان کے حوالے سے ذہن سازی کر لی ہے جس کی بنیادی وجہ بھی ان کا جارحانہ رویہ ہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی چکوال تقریر نے صدر عارف علوی کی جانب سے شروع کی جانے والی مفاہمتی کوششوں پر بھی پانی پھیر دیا ہے اور اب ایسے شخص کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھانے سے پہلے دوسرے فریقین کو سو مرتبہ سوچنا ہوگا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے چکوال کے جلسے میں اسٹیبلشمنٹ کو کھلی وارننگ کی ایک علامتی حیثیت بھی ہے۔ چکوال وہ شہر ہے جہاں سے فوج میں صوبہ پنجاب سے سب سے زیادہ لوگ بھرتی ہوتے ہیں۔ سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید کے علاوہ کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹینینٹ جنرل ساحر شمشاد کا تعلق بھی چکوال سے ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاک فوج میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجیوں کے پرو عمران دھڑے کی قیادت بھی چکوال سے تعلق رکھنے والے جرنیلوں کے پاس ہے اور اسی لیے عمران نے اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے کے لیے چکوال شہر کا انتخاب کیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پچھلے چار برس سے عمران مسلسل فیض حمید کو نیا آرمی چیف بنانے کے لیے تیار کر رہے تھے حالانکہ وہ سیاسی تاریخ کے متنازعہ ترین جرنیل کہلاتے ہیں، تاہم عمران چاہتے تھے کہ اگلے الیکشن بھی فیض حمید کی نگرانی میں ہوں اور آر ٹی ایس دوبارہ سے بیٹھ جائے تاکہ وہ ایک مرتبہ پھر پانچ سال کے لیے وزیراعظم بن جائیں۔ لیکن عمران کی اقتدار سے چھٹی کے بعد اب فیض کی تقرری کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں۔ حالانکہ عمران کی پوری کوشش ہے کہ نئے انتخابات جنوری اور فروری میں ہو جائیں تاکہ اپریل 2023 میں فیض حمید کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ان کو نیا آرمی چیف لگایا جا سکے، لیکن اب ایسا ممکن نظر نہیں آتا اور شہباز شریف نومبر میں نیا فوجی سربراہ تعینات کرنے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عمران کی اس وقت زیادہ چیخیں اس لیے بھی نکل رہی ہیں کہ انکا پہلا گھوڑا فیض حمید دوڑ سے باہر ہو گیا ہے جبکہ دوسرا گھوڑا ساحر شمشاد فوجی حلقوں میں عمرانڈو قرار دیے جانے کے بعد متنازعہ ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ فیض حمید کی طرح ساحر شمشاد کا تعلق بھی چکوال سے ہے اور انکا بھی سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام سے گہرا تعلق ہے۔ پاشا اور ظہیر کو عمران کا سیاسی گرو بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ظہیر الاسلام پہلے ہی تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں جب کہ فیض کے بڑے بھائی نجف حمید بھی پی ٹی آئی کا حصہ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد فیض حمید بھی تحریک انصاف سے وابستہ ہو جائیں گے کیونکہ وہ حاضرسروس جرنیل ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا لہرانے سے گریز نہیں کرتے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر ساحر شمشاد نئے آرمی چیف لگ گے تو وہ فیض حمید کو اپریل میں ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی دوبارہ آئی ایس آئی چیف تعینات کر سکتے تاکہ انہیں تین سال اور مل جائیں۔
دوسری جانب ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ عمران کی جانب سے آرمی چیف کی تقرری کو متنازع بنانے کے بعد پی ڈی ایم حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اہم ترین تعیناتی میں بھی چیف جسٹس سپریم کورٹ کی طرح سنیارٹی کا اصول اپنایا جائے تاکہ کسی قسم کا تنازعہ ہی کھڑا نہ ہو۔

Related Articles

Back to top button