قاسم سوری کا عمران کو اسلامی چورن بیچنے کا مشورہ

اپنا لانگ مارچ لے کر اسلام آباد پہنچنے والے عمران خان نے جب پی ٹی آئی مظایرین کے سامنے آدھی سے زیادہ تقریر کر دی تو آئین شکن قاسم سوری نے ان کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ ‘سر اپنی تقریر کو تھوڑا اسلامی ٹچ بھی دے دیں’۔ تب عمران کی تقریر کی دوران مسلسل پی ٹی آئی کے ترانے چل رہے تھے۔ لیکن قاسم سوری کا عمران کو مشورہ مائک نے بھی کیچ کر لیا جس کے بعد عمران نے اسلامی چورن بیچتے ہوئے کہا کہ ‘میری بات غور سے سنو، میں وہ ہوں جو خود کو عاشق رسول کہتا ہے اور اپنے نبی کا فالور ہوں’۔ تاہم قاسم سوری کے مشورے کی فوٹیج میڈیا پر چلنے کے بعد عمران تنقید کی زد میں ہیں اور ان پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ عوام کے جذبات سے کھیلنے کے لئے اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں اسلام کا نام سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ اس سلسلے کا آغاز فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے کیا تھا جس نے ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹنے اور انہیں پھانسی دینے کے بعد اسلامائزیشن کا عمل شروع کیا۔ لیکن جنرل ضیاء کے بعد عمران وہ شخص ہے جو پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا دعوی کر کے برسر اقتدار آیا اور پھر چار برس بعد اسے معاشی اور سیاسی بحران میں مبتلا کر کے پارلیمنٹ کے ہاتھوں فارغ ہو گیا۔ لیکن موصوف اب بھی بڑی بے شرمی سے اپنی تقاریر میں اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں اور مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

25 مارچ کی رات عمران خان اپنا لانگ مارچ لے کر اسلام آباد پہنچے تو جناح ایونیو میں کارکنوں سے خطاب کیا۔اسی دوران پی ٹی آئی کا ترانہ چلایا گیا، اس مختصر وقفے میں عمران کے دائیں جانب کھڑے سابق ڈپٹی اسپکر قاسم سوری نے ان کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ ‘سر اہنی تقریر کو تھوڑا اسلامی ٹچ بھی دے دیں، لوگ خوش ہو جائیں گے۔ عمران خان نے قاسم سوری کی بات پر سر ہلایا ور پھر تقریر دوبارہ شروع کرتے ہوئے کہا کہ میری بات غور سے سنو میں وہ ہوں جو اپنے آپ کو عاشق رسول کہتا ہوں، میں اپنے نبی ﷺ کا فالوور ہوں۔ عمران خان اور قاسم سوری کی یہ ویڈیو اب وائرل ہو گئی ہے اور سیاست میں مذہب کے استعمال پر تبصرے کئے جارہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا یے کہ پاکستان کی اکثریتی آبادی مذہبی ہے جو مذہب کو ہر چیز پر ترجیح دیتی یے۔ اس کی وجہ چاہے جو بھی ہو لیکن مذہب کی خاطر کسی بھی دنگل میں کودنے سے دریغ نہیں کرتے۔ ان کی اسی محبت کو عمران خان جیسوں نے بارہا استعمال کیا ہے۔ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد میں مذہب کا ایسا چورن بیچا کہ لوگ جوق در جوق انخے ساتھ شامل ہوتے گئے چاہے وہ لبرل ہوں یا پھر مذہبی۔ ناقدین کے مطابق یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عمران کی زیر قیادت ایک ایسا منہ پھٹ، بدتمیز اور شرم و حیا سے عاری عمرانڈو بریگیڈ تیار ہو چکا ہے جو خان کی بات کو حرف آخر سمجھتا ہے اور اس کے دفاع کے لیے اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ بھی لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ یوتھیا ایک ایسی مخلوق بن چکی ہے جو ہر اس بندے کی تذلیل کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے جو عمران سے اختلاف رکھتا ہو۔ المختصر عمران نے ریاست مدینہ کے نام پہ ایک گھناؤنا کھیل کھیلا جو اب آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button