سینیٹ نے زینب الرٹ بل 2020 کثرت رائے سے منظوری دے دی

ایوان بالا سینیٹ نے بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سزا سے متعلق زینب الرٹ بل 2020ء کی منظوری دے دی۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے بل کے خلاف ووٹ دیا۔
چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹر اعظم سواتی نے زینب الرٹ بل پیش کیا۔ اپوزیشن نے بل میں ترامیم تجویز کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں قصاص اور سزائے موت سے متعلق مزید تین دفعات شامل کی جانی چاہئیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ فی الحال بل منظور کرلیں ترامیم بعد میں شامل کرلیں گے. سینیٹ میں زینب الرٹ بل منظوری کیلئے پیش کیا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے اس موقع پر کہا کہ ’زینب الرٹ بل بہت اچھا ہے، ہمارے پاس اس بل کے حوالے سے کچھ ترامیم ہیں، اس بل میں عمر قید کم سزا ہے، اگرثابت ہوکہ بچے کو ریپ یا قتل کیلئے اغوا کیا گیا تو اس کی سزا موت ہونی چاہیے۔
بل پر بحث کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ بل میں سزائے موت کی سیکشن شامل نہیں کی گئی، بل میں قصاص سے متعلق سیکشن کو شامل کیا جائے، قصاص کو دباؤ کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس موقع پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ بل کے حوالے سے ترامیم آپ سینیٹ سیکرٹریٹ میں دیتے۔
جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق اور سینیٹر سراج الحق نے بل کی مخالفت کردی۔ سراج الحق نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ میں 3 ہزار بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی، اس بل میں دفعہ 201 اور 302 کو شامل کیا جائے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ قتل کی سزا تو پہلے ہی قصاص ہے، آپ نے بچوں کے قتل کی سزا کو صرف جیل تک محدود کردیا ہے۔اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ زینب الرٹ بل کو ابھی پاس کرلیں، ترامیم بعد میں شامل کردیں۔
حکمران جماعت تحریک انصاف کے سینیٹر شفقت محمود نے کہا کہ بہت سی باتیں کی جارہی ہیں جن میں وزن بھی ہے، بل پہلے قومی اسمبلی اور پھر سینیٹ کمیٹی میں زیر غور رہا، بل کو پاس کردیں، ترامیم بعد میں شامل کردیں۔ حکومت کے ایک اور سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ بل کو منظور کردیں، میں ترامیم لے کر آؤں گا۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ زینب الرٹ بل پر ہم نے سات آٹھ اجلاس منعقد کیے، بل میں ہم نے کچھ ترامیم کی ہیں۔ مصطفی نوا ز کھوکھر نے کہا کہ بچہ گم ہو تو پولیس فوری ایف آئی آر درج نہیں کرتی،ایف آئی آر درج نہ ہونے سے بچے کے لاپتہ ہونے پر شروع کا وقت ضائع ہوتا ہے، بل میں کہا گیا ہے پولیس دو گھنٹے کے اندر ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہو گی۔ پی پی سینیٹر نے مزید کہا کہ پولیس اگر ایف آئی آر درج نہ کرے تو دو سال سزا ایک لاکھ جرمانہ ہو گا، خصوصی عدالت تین ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ کرے گی، بچوں کے خلاف سارے جرائم کو اس بل میں شامل کر دیا ہے، قانون میں مزید بہتری کی تجویز دیں تو اسے شامل کرنے کو تیار ہیں۔
جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے ایک بار پھر کہا کہ سیکشن 201 ، 302 شامل کرنے سے بل مزید مؤثر ہو جائے گا، اگر ریپ اور قتل ثابت ہو جائے تو قصاص کو شامل کیا جائے۔ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سینیٹر مولوی فیض محمد نے کہا کہ کوئی کسی کو قتل کرے تو اس کے لیے شریعت میں قصاص ہے، ریپ اور قتل کی سزا میں قصاص کو شامل کریں۔ سراج الحق نے کہا کہ ہم قصاص کے بغیر اس بل کو ووٹ نہیں دیں گے، ہم واک آؤٹ کریں گے جس پر جاوید عباسی نے کہا کہ اس میں بل پر واک آؤٹ کی کیا بات ہے، آپ واک آؤٹ کیوں کریں گے؟ بعد ازاں سینیٹ نے زینب الرٹ بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ کم عمر لڑکیوں کی شادی کا بل لے کر آئے، وہ ایجنڈے میں کیوں شامل نہیں کیا جارہا۔ شیری رحمان نے مزید کہا کہ آج نئے وزراء بھی ایوان میں موجود ہیں جو ہمارے لیے نئی بات ہے۔
علاوہ ازیں سینیٹ نے یونیورسٹی آف اسلام آباد کے قیام کا بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
خیال رہے کہ 22 فروری 2020 کو ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے زینب الرٹ بل ترامیم کے ساتھ منظور کیا تھا جس کے بعد اس قانون کا اطلاق ملک بھر میں ہو سکے گا۔ اس سے قبل قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے زینب الرٹ بل کا اطلاق صرف اسلام آباد میں ہونا تھا۔ بل کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے گمشدہ اور لاپتہ بچوں کے حوالے سے ایک ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا جائے گا، ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ افسران اور اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔ بل کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل زینب الرٹ، رسپانس و ریکوری بچوں کے حوالے سے مانیٹرنگ کا کام کرے گا اور ہیلپ لائن 1099 کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔ منظور بل کے مطابق زینب الرٹ، ریسپانس اینڈ ریکوری بل کی نگرانی وفاقی چائلڈ پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ کرے گا، کسی بھی بچے کے لاپتہ ہونے کی صورت میں پی ٹی اے اتھارٹی فون پر بچے کے بارے میں پیغامات بھیجے گی اور بچہ گم ہونے کی صورت میں دو گھنٹے کے اندر مقدمہ درج ہو گا۔ بل کے متن کے مطابق تین ماہ کے اندر ٹرائل مکمل کر کے ملزم کو سزا دی جائے گی اور مقدمے کے اندراج میں تاخیر کرنے والے کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 182 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ قومی اسمبلی سے منظور بل کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچے کے اغوا کار کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button