محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیوں ملتوی کیا؟


اسلام آباد میں باخبر سفارتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی حکمران محمد بن سلمان نے صرف پاکستان کا دورہ ملتوی نہیں کیا بلکہ بھارت سمیت جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کا دورہ ملتوی کر دیا ہے جنکی نئی تاریخوں کا اعلان اگلے ماہ متوقع ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سعودی حکمران نے ایک ہی وقت میں جنوبی ایشیا کے 9 ممالک کا دورہ کرنا تھا لیکن انڈونیشیا میں ہونے والے جی ٹوئنٹی اجلاس کے باعث انہیں پاکستان اور دوسرے ایشیائی ممالک کا دورہ ملتوی کرنا پڑا ہے، ذرائع کے مطابق محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کی نئی تاریخ کے از سر نو تعین کے لیے ہوم ورک جاری ہے لہذا پریشانی والی کوئی بات نہیں۔

سعودی ولی عہد نے 21 نومبر کو پاکستان سمیت 9 ایشیائی ممالک کا دورے کا آغاز کرنا تھا۔ اس دورے میں پاکستان کو 4.2 ارب ڈالرز کے اضافی بیل آئوٹ پیکیج ملنے اور مضبوط سرمایہ کاری متوقع تھی جس وجہ سے حکومت پاکستان کو زیادہ پریشانی ہے۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ملتوی ہونے کی اور کوئی وجوہات نہیں اور اس حوالے سے بے بنیاد کہانیاں پھیلانے سے باز رہنا چاہیئے۔

اس معاملے پر سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید کہتے ہیں کہ محمد بن سلمان کے دورے کے التوا کی خبر منظر عام پر آئی تو عمران خان کے متعصب مخالفین کو فوراً2014 کا اسلام آباد ”دھرنا“یاد آ گیا جس کی وجہ سے چین کے صدر پاکستان تشریف نہیں لا پائے تھے۔ یاد رہے کہ دورہ پاکستان کے لیے جو دن انہوں نے مختص کر رکھا تھا اسے انہوں نے بھارت میں صرف کرنے کو ترجیح دی۔ ان کی جنوبی ایشیا آمد سے قبل طویل مشاورت کے بعد بھارت میں ان کے قیام کے ضمن میں جو بندوبست طے ہوا تھا اس میں چینی صدر کے مزید ایک دن قیام کی تیاری نہیں تھی۔چینی صدرکو مصروف رکھنے کے لئے بھارتی وزیر اعظم نے بالآخر انہیں اپنے آبائی گھر مدعو کر لیا۔ وہ دلی سے گجرات کے شہر احمد آباد چلے گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ چینی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کے مابین دور ہ گجرات کی وجہ سے ”گہری“ نظرآتی ”دوستی“ لداخ کے مسئلے کا حل ڈھونڈنے میں مددگار ثابت نہ ہوئی، بلکہ معاملہ مزید بگڑ گیا۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے التو کی کلیدی وجہ عمران خان کا لانگ مارچ ہرگز نہیں۔ اسے 2014ء میں چینی صدر کے دورہ پاکستان کی منسوخی سے جوڑنا درست نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محمد بن سلمان فقط پاکستان ہی نہیں آ رہے تھے بلکہ سعودی عرب سے روانگی کے بعد انہیں بھارت بھی جانا تھا۔ انکے مطابق بھارتی میڈیا نے کئی روز پہلے یہ خبر دے دی تھی کہ محمد بن سلمان فی الحال دہلی نہیں آ پائیں گے لیکن انکی بھارتی وزیر اعظم سے ان کی انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں ایک باہمی ملاقات ہو سکتی ہے۔ بالی میںG-20 نامی تنظیم کا سربراہی اجلاس ہورہا ہے۔ اس تنظیم میں دنیا کے امیر ترین ممالک کے علاوہ ”تیزی سے ابھرتی معیشت“ والے چند دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔

امریکی صدر بائیڈن بھی وہاں موجود ہوں گے۔ وہ ان دنوں سعودی عرب سے خوش نہیں ہیں۔ امریکہ کی خواہش تھی کہ روس-یوکرین جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کا جو بحران پیدا ہوا ہے اس کا اثر زائل کرنے کے لئے سعودی عرب اپنے تیل کی پیداوار بڑھائے اور اپنے ہاں جمع ہوئے ذخائر کو منڈی میں لاکر تیل کی قیمتوں کو بڑھنے نہ دے۔ ایسے میں اگر محمد بن سلمان انڈونیشیا میں ہونے والے جی ٹوئنٹی اجلاس میں نہ گئے تو امریکہ اور سعودی عرب میں مزید بدگمانیاں جنم لیں گی۔ چنانچہ سلمان انڈونیشیا کے مختصر دورے کے بعد وطن واپس لوٹ جائیں گے۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ فی الحال محمد بن سلمان کا ”دورہ پاکستان“ نہیں بلکہ ”دورہ جنوبی ایشیا “ ملتوی ہوا ہے۔

Related Articles

Back to top button