مریم نواز خاموش کیوں؟ چپ کا روزہ کب توڑیں گی؟

شہباز شریف کی جانب سے مقتدر حلقوں کے ساتھ اقتدار کے حصول کے لیے سازباز کی کوششوں کے اعتراف پر نون لیگ میں اندرونی اختلافات کے باوجود مریم نواز کی مسلسل خاموشی پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ مقتدر حلقوں کے ساتھ کسی انڈرسٹینڈنگ کی وجہ سے لب کشائی نہیں کر رہیں؟
نواز شریف کی بیماری اور سروسز ہسپتال منتقلی کے بعد اپنی ضمانت پر رہائی کے بعد سے مریم نواز کی پراسرار خاموشی طویل ہو رہی ہے۔ گزشتہ برس نومبر کے اوائل میں ضمانت کے حصول کے بعد مریم نواز جیل سے باہر، نواز شریف ملک سے باہر اور شہباز شریف سیاسی میدان سے باہر نظر آئے۔ اگرچہ چھ مہینے پہلے شہباز شریف نے تُرپ کے پتے اچھے کھیلے۔ عین اُس وقت جب اُن کے مخالف کپتان مستقل کسی بھی طرح کے این آر او کے سامنے دیوار بنے کھڑے تھے اور مخالفین کے چھکے چھڑا رہے تھے، شہباز شریف نے ہواؤں کے مخالف پرواز کی اور وہ جیل میں قید اپنے بھائی کو چارٹرڈ ایمبولینس پر لندن لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔
اسی دوران مریم نواز بھی قید و بند کی صعوبتوں سے آزاد ہو گئیں لیکن انہیں والد کے ساتھ بیرون ملک جانے کی اجازت نہ مل سکی۔ پہلے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ کہ مریم نواز اس لئے خاموش ہیں کہ ان کو بھی اپنے والد کے پاس لندن جانے کی اجازت مل سکے۔ تاہم ایسا نہ ہو سکنے کے باوجود مریم نواز پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔۔ اس دوران وہ صرف ایک مرتبہ منظر عام پر آئیں جب وہ اسلام آباد گیئں اور شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔ ایسا بھی مریم نے بڑی مجبوری کی حالت میں کیا جب حکومت نے نواز شریف کے خلاف ایک بھر پور پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ وہ بیمار نہیں ہیں اور دھوکا دے کر ملک سے باہر گئے لہٰذا ان کو گرفتار کرکے واپس لانا چاہیے۔ اس دوران ملک میں کرونا کی وبا پھیل گئی اور نواز مخالف حکومتی کیمپین بھی رک گئی لہٰذا مریم نواز بھی دوبارہ خاموش ہوگئیں۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سی ناگزیر وجوہات ہیں جن کی وجہ سے مریم نواز رہائی کے بعد سے مسلسل خاموش ہیں۔ مریم اس وقت رائیونڈ کے فارم ہاؤس تک محدود ہیں اور ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب ساری دنیا کرونا وائرس کے باعث گھروں تک محدود ہے تو مریم نواز کس طرح باہر آکر سیاسی سرگرمیاں شروع کرسکتی ہیں۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ جب کرونا کی وبا نہیں پھیلی تھی اور جماعت کے سنیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی اور سیکرٹری جنرل احسن اقبال بھی گرفتار کرلیے گئے تھے، مریم نواز تب بھی مسلسل خاموش اور غیر فعال رہیں۔
آرمی چیف کے نوٹیفیکشن کے معاملے پر مطلوبہ قانون سازی کے معاملے میں نون لیگ کی جانب سے غیر مشروط حمایت پر بھی ن لیگ میں خاصی لے دے ہوئی اور جماعت تقسیم نظر آئی۔شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے از خود اس قانون سازی سے کنارہ کشی اختیار کی یہاں تک کہ خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی میں اختلافات منظر عام پر آئے، اس نازک موقع پر بھی مریم نے بدستور خاموشی اختیار کئے رکھی۔ دو چار مہینے پہلے جب شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، سعد رفیق اور رانا ثناءاللہ جیسے رہنما پابند سلاسل تھے نون لیگی قیادت اور شریف خاندان کی مستقل غیر حاضری نے جماعت میں قیادت کے خلا کو جنم دیا۔ اہم قومی معاملات، نیب کی آئے روز حاضریوں، پارلیمانی سیاست میں غیر واضح پالیسیوں نے نون لیگ کو عملی سیاست اور حقیقی اپوزیشن سے دور کر دیا۔ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے ضمانت کے بعد قومی معاملات پر واضح پالیسی سے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی تاہم کرونا سے ہیدا کردہ حالات اور غیر یقینی صورتحال نے شریف خاندان کو عوامی سیاست سے دور کر دیا ہے۔
ایک مہینہ پہلے مسلم لیگ کی اندرونی سیاست میں کچھ وقتی ہل جل ہوئی۔ شہباز کی گزشتہ مہینے اچانک لندن سے پاکستان واپسی کے بعد حالیہ انکشافات پر مبنی انٹرویو نے سیاسی پُتلی تماشے کی کچھ جھلکیاں پیش کی ہیں۔ اُن کے انٹرویو کے بعض اقتباسات نے ن لیگ میں بھی کسی حد تک بے چینی پھیلائی ہے۔ بقول شہباز شریف عام انتخابات 2018 سے قبل مقتدر حلقوں کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ کے نتیجے میں اُن کی کابینہ کی تشکیل اور نواز شریف کی بیٹی سمیت گرفتاری نے پارٹی لیگی کارکنوں کو نہ صرف الجھا دیا ہے بلکہ اُس خلا کو خاصا وسیع بھی کر دیا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ شہباز شریف نہ تو پارٹی کو جواب دے پا رہے ہیں اور نہ ہی خود کو۔ سیاسی منصوبہ بندی میں اب اُن کا کردار کب اور کہاں آئے یہ اُن کو سوچنا ہو گا۔ ان گھمبیر حالات میں شاید خاقان عباسی اپنے پارٹی صدر کی سیاست کو چیلنج کر رہے ہیں۔ وہ شہباز شریف کے حالیہ انٹرویو کے بعد مختلف چینلز پر اپنی رائے دے چکے ہیں کہ کسی بھی قسم کی خفیہ ڈیل سے نواز شریف کے بنائے گئے عوامی امیج کو نقصان ہو گا۔
ن لیگ کی اندرونی صورتحال اور مریم نواز کی مسلسل خاموشی کو دیکھتے ہوئے بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نون لیگی قیادت نے اگر ماضی کی سیاست دہرانے کی کوشش کی تو شاہد خاقان عباسی اسکے کیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔ تاہم اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت مریم نواز کو ایک خاص وقت تک کے لیے خاموش رہنے کا کہا گیا ہے تاکہ جب بولنے کی ضرورت پڑے تو خاندانی سیاست کو ووٹ بنک کے طور استعمال کیا جا سکے۔
اس معروضی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی پارٹی پالیسی ہے تو اس وقت جب ملک میں اپوزیشن اور خاص طور پنجاب کی سیاست کا خلا وسیع ہو رہا ہے، اور جب پنجاب کی گورننس خصوصا ناکامی سے دو چار ہے، پنجاب کی دوسری بڑی جماعت کی قیادت، خصوصا مریم اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی بجائے خاموش کیوں ہے؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button