مسلم لیگ ن انتخابی سیاست میں کیسے واپس آ سکتی ہے؟


برسراقتدار ہونے کے باوجود اس وقت مسلم لیگ نواز اس مخمصے سے دوچار ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد تیزی سے غیر مقبول ہونے کا تاثر کیسے ختم کیا جائے اور الیکشن 2023 میں عمران خان کی تحریک انصاف کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ مسلم لیگ نواز اس وقت چوتھی مرتبہ اقتدار میں ہے۔ اس سے پہلے اپنے قیام کے بعد تین مرتبہ اس نے حکومت کی اور تینوں مرتبہ اس کے قائد نواز شریف کو وزارت عظمٰی سے برخاست کیا گیا۔ لیکن اس وقت مسلم لیگ جتنی غیر مقبول ہے شاید ہی پہلے کبھی ہو۔ رواں سال اپریل میں تحریک انصاف کی حکومت گرانے اور خود وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد شہباز شریف کی جماعت نہ صرف بیشتر ضمنی انتخابات ہار چکی ہے بلکہ عوامی سطح پر ان کے حریف عمران خان کو بھی بہت زیادہ پذیرائی ملی ہے جو سیاسی مبصرین کے مطابق ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کے علاوہ شاید حکومت سے نکالے جانے والے کسی دوسرے سیاسی رہنما کو نہیں ملی۔

اردو نیوز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق اس وقت صورتحال یہ ہے کہ انتخابات میں کچھ ہی ماہ رہ گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کی جانب سے آئے روز جلد انتخابات کروانے کے لیے دباؤ بڑھ رہی ہے اور سیاسی ہنگامہ خیزی کے اس دور میں امکان ہے کہ فیصلہ ساز قوتیں حکومت کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے پر مجبور کریں لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ نواز بظاہر ان انتخابات کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔بہر حال انتخابات تو ہونے ہیں، آج ہوں یا کل، جلد یا بدیر۔ ایسے میں مسلم لیگ ن ایسا کیا کر سکتی ہے جس سے وہ حریف جماعت تحریک انصاف کی نشستوں کو کم کر کے خود زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کر سکے؟مسلم لیگ نواز کے ہر سطح کے قائدین اس بات کا سر عام اعتراف کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے کہ ان کی مقبولیت کم ہوئی ہے اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر حکومت سنبھالنے اور اس کے بعد عوامی مشکلات کا ازالہ نہ کر سکنے کی وجہ سے انہیں اپنے فیصلے کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں لیکن اندرون خانہ وہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اس سال کے آخر تک نواز شریف کی وطن واپسی ان کے لیے رستے کھول دے گی۔ سینیٹر افنان اللہ خان عام انتخابات کے حوالے سے پارٹی کے اندر پنپنے والے خیالات کی عکاسی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 2018 کی انتخابی مہم کے دوران نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سرگرمیوں کی اجازت دی گئی اور نہ ہی تقاریر کی۔ لیکن اس مرتبہ جب وہ ملک واپس آ کر انتخابی مہم چلائیں گے تو حالات بدل جائیں گے۔ ان کی واپسی پر ہم انتخابات جیتنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی بھی بنائیں گے۔

تاہم افنان اللہ خان یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ آنے والے انتخابات بہت سخت اور چیلنجنگ ہوں گے۔ اگرچہ وہ اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ مسلم لیگ نواز کی مقبولیت میں بے پناہ کمی ہوئی ہے لیکن انہیں اس بات کا ادراک ہے اور وہ مانتے ہیں کہ ہر حکومت وقت کی طرح ان کی جماعت پر بھی حکومتی پالیسیوں کے نتائج منفی طور پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ شہباز حکومت کی جانب سے مسلسل دعوئوں کے بارے مہنگائی پر قابو نہیں پایا جا سکا، مسائل حل کرنے اور کارکردگی دکھانے کے لیے وقت کم ہے اور مشکل فیصلوں کی سیاسی قیمت ہے جو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

چنانچہ سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت ایسا کیا کر کے دکھائے جس سے مسلم لیگ نواز انتخابی سیاست میں واپس آ سکے؟ اس سوال کا سب سے پہلا جواب تو نواز شریف کی واپسی اور انتخابی مہم میں بھرپور شرکت ہے۔ افنان اللہ خان اور ان کے دیگر ساتھی سمجھتے ہیں کہ ابھی تحریک انصاف صرف اس وجہ سے ضمنی انتخابات جیت رہی ہے کیونکہ ان کی جماعت کو مشکل فیصلے کرنا پڑے ہیں اور ان فیصلوں کو عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔

پھر انتخابی مہم عمران خان تنِ تنہا چلا رہے ہیں اور ان کے مقابلے میں کوئی بیانیہ نہیں ہے۔ لہٰذا جب عام انتخابات کا بگل بجے گا اور چھ ماہ پہلے تمام سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم شروع کریں گی تو صورتحال تبدیل ہو جائے گی اور عام انتخابات کی مقابلہ ساز سائنس نافذ العمل ہوکر عمران خان کے مقبول بیانیے کو نیوٹرلائز کر دے گی۔

نواز لیگ کے قائدین کے خیال میں عمران خان کے خلاف آنے والا توشہ خانے کا بیانیہ اور اس کے بعد آنے والے ’کئی دیگر سکینڈلز‘، فیصل واوڈا اور ان جیسے دوسرے منحرف ساتھیوں کے ’ڈیلز‘ کے بارے میں انکشافات اور اس پر مستزاد مریم نواز اور نواز شریف کی تقریریں ان کی رہی سہی مقبولیت پر بھی جھاڑو پھیر دیں گی۔

اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ نواز کو تب تک اتنا وقت مل جائے گا کہ وہ چین اور سعودی عرب سے کچھ سرمایہ کاری لے آئے، 1800 ارب کا کسان پیکیج اپنے اثرات دکھانا شروع کر دے، اگلے سال مارچ تک عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہو جائیں اور اس کے ساتھ ہی یہاں بھی نیچے آ جائیں اور روپیہ جو ڈالر کے مقابلے میں اب قدرے مستحکم ہو گیا ہے، مہنگائی کو مزید نہ بڑھنے دے۔

جو قلیل وقت میسر ہے اس میں مسلم لیگ نواز امیدواروں کے درست انتخاب کی بھی کو شش کر رہی ہے اور ووٹرز اور سپورٹرز سے رابطے بحال کرنے کے لیے مقامی تنطیموں کو پیغامات بھیجے جا چکے ہیں اور متوقع امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے کوائف تیار کریں اور ان میں یہ بھی لکھیں کہ وہ کتنے اور کس سائز کے جلسے منعقد کروا سکتے ہیں۔ جو جتنے زیادہ اور بڑے جلسے کروا سکے گا، وہی امیدوار بنے گا۔ مگر مبصرین آنے والے وقت کو مسلم لیگ نواز کے لیے مشکل سمجھتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button