مصطفیٰ نوازکا اگلا الیکشن بطورآزاد امیدوارلڑنے کاامکان


حال ہی میں پارٹی قیادت کے حکم پر سینٹ کی سیٹ سے مستعفی ہونے والے پیپلزپارٹی کے رہنما اور بلاول بھٹو کے سابق ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے فوری طور پر کسی دوسری سیاسی جماعت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اگلے عام انتخابات میں بطور آزاد امیدوار حصہ لیں گے۔ تاہم جیت کی صورت میں وہ تحریک انصاف اور نواز لیگ میں سے کسی ایک جماعت میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ فوری طور پر کسی جماعت میں نہیں جانا چاہتے اور حتمی فیصلے کے لئے مناسب وقت کا انتظار کریں گے۔

اس سے پہلے ایسی اطلاعات آ رہی تھیں کہ مصطفیٰ نواز کھوکھر تحریک انصاف کے ساتھ بالواسطہ رابطے میں ہیں اور عمران خان کو اپنا نیا لیڈر تسلیم کر سکتے ہیں۔ لیکن مصطفیٰ نواز کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان جس حد تک فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جا چکے ہیں، انکا اپنا سیاسی کیرئیر خطرے میں لگتا ہے لہذا فوری طور پر تحریک انصاف میں شمولیت کی بجائے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنانا ہو گی۔ دوسری جانب مصطفی ٰنواز کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آزادی برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفی ٰنواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ میری ٹویٹس سب کے سامنے ہیں۔ اب جبکہ میں سینٹ کی رکنیت چھوڑ چکا ہوں تو کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتا جو مزید خفگی کی وجہ بنے۔ اچھے نوٹ پر بات ختم کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ ان کےاستعفے کی وجہ پارٹی قیادت کی انکے سیاسی بیانات سے ناراضی ہے اور اسی لیے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ مصطفی نواز کھوکھر کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب تحریک انصاف کی جانب سے خفیہ اداروں پر تشدد کروانے، مبینہ ویڈیوز اور سیاست دانوں کی نجی گفتگو لیک کروانے کے الزامات کا ایک سلسلہ جاری ہے جس کی تازہ ترین مثال سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے ان کی اہلیہ کو مبینہ طور پر ایک ذاتی ویڈیو بھجوانے کا الزام لگایا گیا۔ ایف آئی اے کی جانب سے اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا گیا تاہم مصطفیٰ نواز کھوکھر ان چند سیاست دانوں میں شامل تھے جنہوں نے یہ معاملہ سامنے آتے ہی اعظم سواتی کی حمایت میں بیان دیا کہ ’اعظم سواتی صاحب کا یہ کلپ چیئرمین سینیٹ اور تمام پارلیمان کے منہ پر طمانچہ ہے۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ہماری انٹیلی جنس والے اس حد تک جائیں گے اور ہماری دینی، معاشرتی اخلاقیات کی اس طرح دھجیاں بکھیر دیں گے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت کا موقف ہے کہ اعظم سواتی کی نازیبا ویڈیو کو ایف آئی اے پہلے ہی جعلی قرار دے چکی ہے اور خود تحریک انصاف کے رہنما بھی اس معاملے پر روزانہ اپنا بیان بدل رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے مصطفی نواز کھوکھر نے عمران کے چیف آف سٹاف شہباز گل پر تشدد کے الزامات کی بھی فوری طور پر تصدیق کر دی تھی حالانکہ جن تصاویر کی بنیاد پر انہوں نے ایسا کیا وہ بعد میں جعلی نکلیں۔

تاہم مصطفیٰ نواز کھوکھر کو جاننے والے زیادہ تر لوگ انھیں ’اپنے خاندان سے الگ‘ شخص بتاتے ہیں۔ مصطفیٰ نواز حاجی نواز کھوکھر کے بیٹے ہیں جو 1985 میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بھی رہ چکے ہیں۔ حاجی نواز کھوکھر بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ تمام عمر پی پی پی کے حمایتی رہے۔ حاجی نواز کے بھائی امتیاز علی کھوکھر جو اسلام آباد اور گرد و نواح میں حاجی کھوکھر کے نام سے مشہور تھے اور ایک متنازع شخصیت رہے۔ ان کے خلاف مختلف جرائم کی بنیاد پر مقدمات درج ہوئے جن میں زمینوں پر قبضوں سے لے کر اقدام قتل تک کے الزامات شامل تھے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر کے والد اور چچا تاجی کھوکھر کا جنوری 2021 میں ایک ہی ہفتے میں انتقال ہوا تھا جس کی وجہ کرونا بتائی گئی تھی۔

سینئر صحافی حامد میر نے مصطفیٰ نواز کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مصطفیٰ کو آپ انکے خاندان سے الگ دیکھیں۔ انکی پڑھائی برطانیہ میں ہوئی، جہاں سے انھوں نے انسانی حقوق میں سپشیلائیزیشن کی اور پھر پاکستان آئے۔‘ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے 2002 کے عام انتخابات میں اسلام آباد کے این اے 49 کے دیہی علاقے سے انتخابات میں حصہ لیا لیکن وہ ہار گئے۔ اسی نشست سے پی پی پی کے رکن نیئر بخاری جیت گئے جو بعد میں چیئرمین سینیٹ بھی رہے۔ سال 2008 میں مصطفیٰ نواز کھوکھر پیپلز پارٹی کی حکومت میں بطور انسانی حقوق کے ایڈوائزر کے طور پر شامل ہوئے۔ اسی دوران انھوں نے جبری طور پر گمشدہ افراد کے معاملے کو بھی اٹھایا۔ ’آج کی طرح ان معاملات پر اس وقت بھی کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ لیکن مصطفی ٰنواز کھوکھر اس پر پارٹی پالیسی کے برعکس بات کیا کرتے تھے۔‘

حامد میر کہتے ہیں کہ مصطفیٰ نواز کا خاندان دیہی علاقوں میں جانا جاتا ہے۔ ’اس وقت مصطفیٰ نواز کو نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کو ان کی ضرورت ہے۔ ان تمام تر سیاسی جماعتوں میں یکساں اصول ہیں جو بالکل جمہوری نہیں۔ پارٹی پالیسی ہر چیز پر غالب ہو جاتی ہے۔ اور بطور رکن آپ کو انھیں ماننا پڑتا ہے ورنہ نوٹس جاری ہو جاتا ہے۔‘ اس کی مثال حالیہ دنوں میں ہونے والے چند واقعات سے ملتی ہے جہاں مسلم لیگ نواز کے جاوید لطیف کو جماعت کی جانب سے موجودہ حکومت میں کسی وزارت کا چارج نہیں دیا گیا۔ یا پھر سابق وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ جنھوں نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے انعقاد میں اپنا کردار ادا کرنے کے بعد اپنی رکنیت ’ذاتی وجوہات‘ کی بنا پر چھوڑ دی۔ حامد میر نے کہا کہ مصطفیٰ نواز ’پی ٹی آئی پر خاصی تنقید کر چکے ہیں جس کے نتیجے میں وہ بمشکل ہی اس جماعت کو اپنے لیے چنیں گے۔ لیکن آخر یہ پاکستان ہے اور یہاں کچھ بھی ہونا ممکن ہے۔

Related Articles

Back to top button