ملک ریاض کو اربوں روپے لوٹانے پر نیب چیف پھنس گیا


قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچانے اور قومی خزانے کواربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے الزامات پر انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ نیب چئیرمین نے برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کی کارروائی کے نتیجے میں ملک ریاض سے پاکستان کو وصول ہونے والے 14 کروڑ پاؤنڈز سپریم کورٹ میں ملک ریاض کو ہی بطور جرمانہ واپس کرنے کی اجازت دے دی تھی جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔
اس کیس کی انکوائری شروع کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 14 اپریل کو چیئرمین نیب کو طلب کیا اور ان سے سوالات کیے جن کے وہ تسلی بخش جواب نہ دے پائے۔ کمیٹی کا اجلاس مسلم لیگ (ن) کے رانا تنویر حسین کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ نیب کے ڈائریکٹر جنرل حسنین احمد نے برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ ملک ریاض کے عدالت سے باہر تصفیہ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ نومبر 2019 میں لندن میں ملک ریاض کے خاندان سے وصول ہونے والی رقم تقریباً 14 کروڑ پاؤنڈز تھی جو سپریم کورٹ کے زیر انتظام اکاؤنٹ میں منتقل کردی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 19 کروڑ پاؤنڈز کے تصفیے میں سے نیشنل کرائم ایجنسی نے 14 کروڑ پاؤنڈز واپس کر دیے جبکہ باقی رقم ملک ریاض سے ضبط کی گئی غیر منقولہ جائیداد کی ہے جو ابھی وصول ہونا باقی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے سوال کیا کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے حاصل ہونے والی مجرمانہ رقم ملزم کو اسکے جرمانے کی ادائیگی کے لیے کیسے دی جا سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ رقم کرائم ایجنسی نے بطور لانڈرڈ منی ضبط کی تھی اور یہ پاکستان واپس بھی آ گئی تھی اس لیے یہ سرکاری خزانے سے تعلق رکھتی تھی اور اسے صرف عوام کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا جب کہ نیب نے یہ رقم ملک ریاض کو انہی کا جرمانہ ادا کرنے کے لئے واپس لوٹا دی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ‘نیب نے ایک مجرم سے رقم وصول کرنے کے بعد کس قانون کے تحت اسی مجرم کو واپس کردی؟۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے استفسار پر جسٹس (ر) اقبال نے اس معاملے پر لاعلمی کا اظہار کیا، اور کہا کہ چونکہ یہ رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع ہوئی تھی اس لیے وہ عدالت عظمیٰ سے حقائق کی تصدیق کے بعد 15 روز میں جواب دے سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ پچھلے پونے چار برس میں ملک ریاض سابق وزیر اعظم عمران خان کے کافی قریب آچکے تھے اور ان کے مالی مفادات بھی ایک ہو چکے تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملک ریاض بشری بی بی کی فرنٹ پرسن فرح خان کے شوہر احسن جمیل گجر کے ذریعے عمران کے قریب ہوئے تھے۔ دوسری جانب باخبر ذرائع نے بتایا کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے موصول ہونے والی رقم اس وقت کی وفاقی کابینہ کی منظوری سے سپریم کورٹ کے زیر انتظام اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی تھی۔ عمران خان کے سابق معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے 2019 میں برطانوی ایجنسی سے موصول ہونے والی رقم ٹھکانے لگانے کے لیے کابینہ سے منظوری حاصل کی تھی۔
یاد رہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی منی لانڈرنگ اور برطانیہ اور بیرون ملک مجرمانہ سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی غیر قانونی مالیات کی تحقیقات کرتی ہے اور بعد کی صورت میں، چوری شدہ رقم متاثرہ ریاستوں کو واپس کرتی ہے۔ تاہم اس کیس میں الزام عائد کیا جاتا ہے کہ شہزاد اکبر اور جاوید اقبال نے عمران خان کے ہدایت پر ملک ریاض کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا، بتایا جاتا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور بحریہ کے مالک کے کافی قریبی تعلقات تھے جس کی بنیادی وجہ سابقہ خاتون اول بشریٰ بی بی کی ملک ریاض کے خاندان سے قربت تھی۔
خیال رہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین کی برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ سیٹلمنٹ یا تصفیہ 2019 میں ہوا تھا۔ تب این سی اے نے بتایا رھا کہ اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاست پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کر دیا جائے گا۔ این سی اے نے تو اپنا وعدہ پورا کیا مگر یہ رقم پاکستان کے قومی خزانے میں پہنچنے کے بجائے سیدھی سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 بلین روپے کی ایک تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے تھے۔ یعنی جو رقم ریاست پاکستان کی ملکیت تھی وہ ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ ہوئی۔ ملک ریاض سے این سی اے نے جو معاہدہ کیا اس کی تفصیلات نیب اور کپتان حکومت کی جانب سے قومی مفاد کے نام پر رازداری میں رکھی گئیں۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ریاست پاکستان کا پیسہ ملک ریاض کو کس قانون کے تحت لوٹا دیا گیا تاکہ وہ سپریم کورٹ میں اپنا جرمانہ ادا کر پائیں۔

Related Articles

Back to top button