نئے آرمی چیف کے اعلان میں تاخیر کی بنیادی وجہ کیا ہے؟


75 برس پہلے اپنے قیام کے بعد سے بندوقوں کے سائے تلے پروان چڑھنے والے پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ کیا جانے والا سوال یہ ہے کہ حکومت نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان کیوں نہیں کر رہی خصوصاً جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے الوداعی ملاقاتوں کا آغاز بھی کردیا ہے؟

29 نومبر کو ریٹائر ہونے والے جنرل قمر باجوہ خود بھی دو مرتبہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ مدت ملازمت میں مزید توسیع نہیں لیں گے۔ آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم بھی ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کر چکے ہیں کہ جنرل باجوہ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تاحیات اپنے عہدے پر برقرار رہنے کی پیشکش مسترد کردی تھی۔ ایسے میں ہر جانب سے یہی سوال کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نئے آرمی چیف کا اعلان کیوں نہیں کر رہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ضروری ہے کہ سبکدوش ہونے والے سربراہ کی ریٹائرمنٹ سے فقط ایک یا دو روز پہلے ہی نئے آرمی چیف کا اعلان کیا جائے؟ پاکستان میں آرمی چیف کی تعیناتی ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی پارلیمانی نظام میں براہ راست یا بلاواسطہ مداخلت ہمیشہ سے رہی ہے اور 75 برس کی تاریخ کا بیشتر حصہ باقاعدہ آمریت کا دور بنا رہا۔ ایک اور وجہ نرم مداخلت یا ’سوفٹ کُو‘ جیسی اصطلاحات ہیں جو حالیہ برسوں میں جمہوری نظام کے تسلسل کے بیچ اپنا راستہ بناتی رہی ہیں۔ سونے پر سہاگہ سوشل میڈیا ہے جہاں ہر کوئی ہر سیاسی مسئلے کی جڑ آرمی چیف کی تعیناتی اور توسیع کو قرار دیتا نظر آتا ہے۔

اگرچہ ماضی قریب میں حزب اختلاف کے رہنما عمران خان نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کو فی الحال روکتے ہوئے جنرل باجوہ کو ہی مخصوص مدت کے لیے توسیع دی جائے، نئے عام انتخابات کروائے جائیں اور نیا آنے والا وزیر اعظم یہ اہم تعیناتی خود کرے۔ تاہم جنرل باجوہ اور حکومت دونوں کی جانب سے یہ تجویز رد کیے جانے کے بعد اب خان صاحب اپنا موقف تبدیل کر چکے ہیں اور فرماتے ہیں کہ آرمی چیف جو بھی تعینات ہو جائے، انھیں اور ان کی پارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ نومبر میں لانگ مارچ کی بڑی وجہ جلد انتخابات کے ساتھ ساتھ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر دباؤ ڈالنا ہے۔ موجودہ حکومت کے مطابق وہ کسی قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر حکومت جلد از جلد نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا اعلان کیوں نہیں کر دیتی؟

یاد رہے کہ پاکستان میں فوجی سربراہ کی تعیناتی کا طریقہ آئین میں درج ہے اور یہ تعیناتی خود وزیراعظم نے کرنی ہوتی ہے۔ مسلح افواج کے سربراہان کی تعیناتی کا اعلان عام طور پر سبکدوش ہونے والے سربراہان کی ریٹائرمنٹ سے کم از کم ایک دن جبکہ زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ پہلے کیا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ آئین کے تحت یہ وزیر اعظم کی صوابدید ہے کہ وہ کب نئے چیف کا اعلان کریں۔ اگر تاریخ دیکھی جائے تو گذشتہ چند دہائیوں میں ایک مخصوص طریقہ کار تو نظر آتا ہے مگر یہ بھی ہوا کہ فوجی سربراہ کی تعیناتی چند گھنٹوں سے چند مہینوں کے وقفے تک کے دوران بھی کی گئی ہے۔ اب تک صرف ایک بار ایسا ہوا ہے جب نئے آرمی چیف دو ماہ پہلے تعینات کر دیے گئے تھے۔ 1991 میں جب نواز شریف کی ہی حکومت تھی تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز کی تعیناتی کا اعلان پرانے آرمی چیف کی سبکدوشی سے دو ماہ پہلے کر دیا گیا تھا مگر نواز شریف نے ہی ایئر فورس کے سربراہ ایئرچیف مارشل ریٹائرڈ سہیل امان کی تعیناتی سبکدوش ہونے والے ایئرچیف کی ریٹائرمنٹ سے چند گھنٹے پہلے کی تھی۔ لیکن یہاں ہم فی الحال صرف آرمی کی بات کرتے ہیں۔ یہ روایت بن گئی ہے کہ بحریہ اور فضائیہ کے چیفس کی تعیناتی کے برعکس پاکستان آرمی سے ہر تین سال بعد پاکستان آرمی سے دو فور سٹار جنرلز ترقی پاتے ہیں۔ ان میں سے ایک چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر تعینات ہوتا ہے جبکہ دوسرا آرمی چیف بنتا ہے۔

سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کے لیے اصولی طور پر تینوں مسلح افواج سے افسر تعینات ہونے چاہئیں جو اس عہدے کا مقصد بھی تھا اور ایسا ماضی میں ہوا بھی تاہم اب یہ روایت بن گئی ہے کہ یہ عہدہ بھی پاکستان آرمی کے حصے میں آتا ہے۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ 28 نومبر کو نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جبکہ 29 نومبر کو نئے آرمی چیف اپنا عہدہ سنبھالیں گے کیونکہ جنرل قمر باجوہ کے علاوہ جنرل ندیم رضا بھی ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اس طرح اب تک کی ان تعیناتیوں کے اعلان میں چند دن ہی نظر آتے ہیں۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے نئے آرمی چیف کے اعلان میں کوئی تاخیر نہیں کی جا رہی۔ انکے مطابق ماضی میں بھی نئے چیف کی تقرری کا اعلان چند روز پہلے ہی کیا جاتا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ جانے والے چیف کا احترام ہے، کیونکہ عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ نیا آرمی چیف نامزد ہو جائے تو سبکدوش ہونے والے سربراہ کی پوزیشن کمزور ہو جاتی ہے۔ جانے والے فوجی سربراہ آخری دنوں میں اپنی الوداعی تقریبات میں شرکت کر رہے ہوتے ہیں لہذا اسی احترام میں ادارے کی بھی خواہش یہی ہوتی ہے کہ نئے سربراہ کا اعلان ریٹائرمنٹ کی تاریخ کے قریب ہی کیا جائے۔

لیکن عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی ایک اور بڑی وجہ ’آپریشنل‘ ہے۔ فوجی سربراہ کا عہدہ کمانڈنگ آفس ہے اور پالیسی تیار کرتا ہے۔ اس لیے ایک وقت میں دو فوجی سربراہ ہونا ملکی مفاد میں نہیں۔ اس سے یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ پالیسی معاملات پر افسران نئے آرمی چیف کی رائے کو زیادہ وقعت دے سکتے ہیں کہ اب آئندہ تین سال تو نئے سربراہ کی پالیسی اور سوچ نمایاں ہو گی۔ اسی وجہ سے اس عہدے پر نامزدگی میں جان بوجھ کر آخری لمحات تک تاخیر کی جاتی ہے، اور کوشش کی جاتی ہے کہ سبکدوش ہونے والے سربراہ کی الوداعی ملاقات مکمل ہونے کے بعد اعلان کیا جائے۔

سابق لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین کے مطابق آئین میں آرٹیکل 243 سروسز چیفس کی تعیناتی سے متعلق ہے اور ’کہیں بھی کوئی ٹائم فریم نہیں۔ جیسا کہ تاریخ میں ریٹائرمنٹ سے تین ماہ سے چند گھنٹے پہلے تک بھی نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ تو سبکدوشی سے ایک گھنٹہ پہلے بھی یہ اعلان ہو تو یہ غیر آئینی نہیں ہو گا۔ ان کے مطابق اس سارے عمل میں یہ روایت بھی موجود ہے کہ عام طور پر ایک آسامی کے لیے تین نام بھیجے جاتے ہیں اور اگر دو عہدے ہیں تو پانچ نام بھیجے جاتے ہیں مگر ماضی میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جب نواز شریف نے سمری میں شامل ناموں کی بجائے خود فیصلہ کیا کہ کس افسر کو سربراہ کے عہدے پر تعینات کرنا ہے۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ موجودہ سیاسی انتشار میں نئے آرمی چیف کی نامزدگی کا اعلان جلد از جلد کر دینا چاہیے۔ میرے خیال میں تو یہ کل ہی ہو جانا چاہیے تھا۔ آرمی کو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ یہ تنازع ختم ہونا چاہیے کیونکہ جنرل باجوہ نے تو کہہ دیا ہے کہ انھیں توسیع نہیں چاہیے۔

Related Articles

Back to top button