نواز شریف اپنی پارٹی بچانے جلد ملک واپس آنے والے ہیں


معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف بہت جلد وطن واپس آرہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جتنا عرصہ ملک سے دور رہیں گے، ان کی پارٹی اتنی ہی کمزور ہوتی چلی جائے گی اور اگر اگلے عام انتخابات ان کے بغیر ہوئے تو پھر ن لیگ سمٹ کر اور بھی چھوٹی ہو جائے گی، جو نواز شریف کبھی نہیں چاہیں گے۔

لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بڑے صاحبزادے حسین نواز سے ایک ملاقات کی روداد بیان کرتے ہوئے جاوید چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمیں جہاں عمران کی دو خوبیوں کا اعتراف کرنا چاہیے وہیں نواز شریف کی خوبیوں کو بھی تسلیم کرنا چاہیے‘ عمران کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہار نہیں مانتے‘ اور ہارنے کے بعد بھی ہار نہیں مانتے۔ ان کی دوسری خوبی یہ ہے کہ ان میں بے انتہا انرجی ہے‘ وہ انرجی سے بھرے ہوئے ضدی انسان ہیں۔ لیکن بالکل اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے میاں نواز شریف کو توکل اور صبر کی نعمت سے نواز رکھا ہے‘ انکا صبر لاجواب ہے‘ وہ بڑے سے بڑا دکھ بھی برداشت کر جاتے ہیں اور حالات جیسے بھی ہوں، توکل کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے‘ شاید اسی لیے ﷲ ان پر کرم کرتا ہے اور وہ بار بار پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ واپس آ جاتے ہیں‘ جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ نواز شریف اب چوتھی مرتبہ واپس آ رہے ہیں‘ حالانکہ لندن ملاقات کے دوران وہ واپسی کے سوال کا جواب دینے کی بجائے مجھ سے بار بار یہی پوچھتے رہے کہ ’’ کیا میرے ساتھ ایسا سلوک ہونا چاہیے تھا؟‘‘ لیکن اس کے باوجود مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اب زیادہ دنوں تک ملک سے باہر نہیں رہ سکیں گے‘ نواز شریف جانتے ہیں کہ وہ جتنا عرصہ ملک سے دور رہیں گے ان کی پارٹی اتنی ہی کمزور ہوتی چلی جائے گی اور اگر اگلے الیکشن ان کے بغیر ہو گئے تو پھر ن لیگ سمٹ کر چھوٹی جماعت ہو جائے گی، اور نواز شریف یہ کبھی نہیں چاہیں گے‘ دوسرا یہ کہ ملک واقعی نازک دور میں داخل ہو چکا ہے۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ نواز شریف سے ملاقات کے بعد میری حسین نواز سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی جس کے دوران میں نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ چوہدری نثار خان کے بارے میں اپنی رائے پر آج بھی قائم ہیں؟‘‘ وہ سنجیدگی سے بولے ’’چوہدری نثار نے میاں صاحب اور انکی پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا‘‘۔ میں نے پوچھا ’’کیسے‘‘ وہ فوراً بولے کہ ’’میاں صاحب چوہدری نثار کی بہت عزت کرتے تھے‘ وہ انھیں خاندان حتیٰ کہ میاں شہباز شریف سے بھی زیادہ مقام دیتے تھے، لیکن چوہدری صاحب نے اس محبت کا بھرم نہیں رکھا‘ نواز شریف 2016 میں علیل ہوئے‘ اور آپریشن کے لیے لندن لائے گئے‘ آپریشن خراب ہو گیا‘ ﷲ تعالیٰ نے ان کی جان تو بچا لی لیکن وہ کمزور ہوتے چلے گئے۔ تب یہ خبر اڑنے لگی میاں صاحب نے شہباز شریف کو وزیراعظم بنا کر سیاست سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا ہے‘ یہ اطلاع چوہدری نثار تک پہنچی تو وہ مریم نواز کے پاس آئے اور ناراض لہجے میں کہا ’’میں شہباز شریف کو وزیراعظم نہیں مانوں گا‘‘ ان کا کہنا تھا ’’میں شہباز سے زیادہ ڈیزرو کرتا ہوں‘ میرا تجربہ بھی زیادہ ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بھی آئیڈیل ہیں لہٰذا میرا حق بنتا ہے‘‘ ان کا دعویٰ تھا چوہدری صاحب کی وجہ سے شریف خاندان کو ماضی میں بھی کئی بار نقصان پہنچا۔ صدر غلام اسحاق خان اور میاں صاحب کے ساتھ تعلقات بھی ان کی وجہ سے خراب ہوئے اور جنرل پرویز مشرف کے دل میں بھی انھی کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں‘ حسین نے کہا کہ نثار پاناما کیس کے دوران پنجاب ہاؤس میں اسٹیبلشمنٹ کے اہم لوگوں سے بھی ملتے رہے تھے‘ ڈان لیکس میں بھی ان کا کردار سمجھ سے بالاتر تھا اور انھوں نے دھرنے کے دوران عمران کو شاباش کا میسج بھی بھیجا تھا۔ عمران نے یہ پیغام کئی صحافیوں کو دکھایا جنہوں نے ہمیں بتایا‘۔

حسین کے بقول مجھے 12 اکتوبر 1999 کی وہ شام بھی اچھی طرح یاد ہے جب فوج وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہوئی‘ چوہدری صاحب کمرے میں لیٹے ہوئے تھے‘ فوج آئی اور اس نے سب کو گرفتار کر لیا لیکن چوہدری صاحب کمرے سے نکلے اور ہمیں ملے بغیر چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے جب کہ سیف الرحمن وزیراعظم ہاؤس سے باہر تھے مگر وہ آئے اور خود کو ہمارے ساتھ شامل کر لیا۔ حسین کہتے ہیں میں آج تک حیران ہوں کہ چوہدری نثار اس وقت ہمیں چھوڑ کر کیوں چلے گئے جب ہمیں ان کی ضرورت تھی اور فوج نے بھی انھیں کیوں نہ روکا؟ دوسرا وہ ہمیشہ کلیم کرتے تھے میں اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہوں‘ میں انھیں سب سے زیادہ جانتا ہوں لیکن یہ کسی بھی معاملے میں پارٹی اور نواز شریف کی مدد نہ کر سکے‘‘۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے حسین سے پوچھا ’’پارٹی اسحاق ڈار صاحب کو پاکستان کیوں بھجوانا چاہتی ہے؟‘‘ ان کا جواب تھا کہ ’’ڈار صاحب خود پاکستان جانا چاہتے ہیں‘ وہ اپنے کیس بھی فیس کرنا چاہتے ہیں اور معیشت کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں‘۔ میں نے پوچھا ’’یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ ڈار صاحب وزیر خزانہ کی بجائے چیئرمین سینیٹ بن رہے ہیں؟‘‘ لیکن حسین کا جواب تھا ’’نہیں ڈار صاحب وفاقی وزیر خزانہ کا قلمدان سنبھالنے پاکستان جا رہے ہیں اور ان شاء اﷲ جولائی کے آخری دنوں میں اسلام آباد لینڈ کر جائیں گے‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ اور حسن نواز کا کاروبار کیسا جا رہا ہے؟‘‘ حسین نواز کا جواب تھا ’’اﷲ کا کرم ہے لیکن ہمارے خلاف کمپیئن نے ہمارے بزنس کو بہت نقصان پہنچایا‘ سعودی عرب میں میری کمپنی کا آڈٹ بھی ہوا‘ سعودی اتھارٹیز کئی دن ہمارے دفتر اور فیکٹری میں رہیں لیکن الحمد للہ انھیں ایک ریال کی بھی گڑ بڑ نہیں ملی‘۔ میرا خیال ہے یہ کنٹرول عمران کی درخواست پر کیا گیا تھا جب کہ حسن نواز کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا‘۔ یوکے اور یورپ میں پراپرٹی کے بزنس بینکوں کے بغیر ممکن نہیں ہیں اور بینک معمولی سے منفی پروپیگنڈے سے بھی بھاگ جاتے ہیں جب کہ ہم مسلسل آٹھ برسوں سے منفی پروپیگنڈے کا شکار ہیں لہٰذا آپ خود اندازہ کر لیجیے ہمارے بزنس کی صورت حال کیا ہو گی؟ بہرحال اس کے باوجود اﷲ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ کرم ہے‘‘۔

جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ مجھے کندن میں دو مرتبہ نواز شریف کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا‘ مجھے محسوس ہوا پارٹی قیادت ضمنی الیکشنز کے بارے میں پرامید تھی‘ وہ مریم نواز کی کوششوں اور بھرپور جلسوں پر بھی خوش تھی لیکن 17 جولائی کے نتائج نے سب کو حیران کر دیا‘ کیونکہ وہ پارٹی کے لیے غیرمتوقع تھے‘۔ میری ضمنی الیکشن سے پہلے میاں صاحب سے ملاقات ہوئی تھی تو انھوں نے پوچھا ’’آپ کا اب تک کیا تخمینہ ہے؟‘‘ میں نے بتایا ’’میرا خیال ہے اسٹیبلشمنٹ سیاسی امور میں سو فیصد نیوٹرل ہو چکی ہے‘ وہ اب کسی کا بھی ساتھ نہیں دے گی‘ سیاسی فیصلے میدان اور گھوڑے کریں گے‘ آپ اگر اچھا الیکشن لڑیں گے تو آپ جیت جائیں گے اور اگر غلطیاں کریں گے تو آپ ہار جائیں گے‘ میری ذاتی معلومات کے مطابق فوج نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا ہے اور اگلے بیس سال تک کی قیادت اس فیصلے سے آگاہ ہے‘ یہ لوگ خود کو اب صرف جغرافیائی سرحدوں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی تک محدود کر رہے ہیں‘‘ میاں صاحب اطمینان سے میری بات سنتے رہے‘ وہاں موجود ایک صاحب بولے ’’کیا اب 20سال بعد سیاسی مداخلت ہو گی؟‘‘ جاوید کہتے ہیں کہ میں نے جواب دیا کہ ’میری اوپر نیچے عمران خان‘ اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف سے ملاقات ہوئی ہے‘ میرا خیال ہے تینوں لیول پر احساس موجود ہے‘ عمران نے بھی کہا تھا یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ ملک کس نے چلانا ہے‘ وزیراعظم اگر بے اختیار ہو گا تو پھر ملک نہیں چل سکے گا‘ آپ بھی یہ کہہ رہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے لیول پر بھی یہی سوچا اور کہا جا رہا ہے‘ یہ بھی مانتے ہیں سیاست ہمارے بس کی بات نہیں‘ ہم اگر فوج کی عزت برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں سیاست سے پرہیز کرنا ہوگا‘۔ سیاست دان جانیں اور سیاست جانے‘ ہمیں ہر حکومت کو چپ چاپ مان لینا چاہیے اور اسکی جائز اور قانونی مدد کرنی چاہیے‘ ہمیں اب حکومتیں بنانے اور توڑنے کا کام نہیں کرنا چاہیے ۔لہٰذا جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ملک میں گرینڈ ڈائیلاگ کا اب بہترین وقت آ چکا ہے‘ تمام اسٹیک ہولڈرز کو بیٹھ کر اب فیصلہ کرنا چاہیے ورنہ ہم فیصلہ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے‘‘۔

Related Articles

Back to top button