نواز شریف کا ایکسٹینشن کی بجائے نیا آرمی چیف لانے کا فیصلہ


سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ لندن میں مقیم نواز شریف موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید ایکسٹینشن دینے کے موڈ میں نہیں اور نئے آرمی چیف کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔

جاوید چودھری نے لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ایک حالیہ ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ پاکستان کو مس کر رہے ہیں اور واپس جانا چاہتے ہیں، لیکن عزت اور وقار کے ساتھ۔ لہذا جب تک انھیں جھوٹے مقدمات سے باعزت بری نہیں کیا جاتا وہ واپس نہیں آئیں گے۔ اسکے علاوہ میاں صاحب اپنی حکومت سے بھی خوش نہیں ہیں، وہ اپریل 2022 میں حکومت نہیں بنانا چاہتے تھے لیکن انھیں مجبور کر دیا گیا، اب انہیں اس مجبوری کی جتنی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے اس سے وہ بہت زیادہ پریشان ہیں۔ میاں صاحب سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومت نے اگر ڈیلیور نہ کیا تو ان کی پارٹی کے لیے 2023 کا الیکشن جیتنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ مجھے زندگی میں زیادہ تر حکمرانوں کو اقتدار سے پہلے‘ اقتدار کے دوران اور اقتدار کے بعد دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ لہٰذا میری عمومی رائے میں اقتدار سے پہلے اور اقتدار کے بعد ایسے لوگوں کی کمپنی زیادہ اچھی نہیں ہوتی‘ جنرل مشرف اس کی بدترین مثال ہیں‘ جب وہ اقتدار میں تھے تو ان کے دائیں بائیں سمجھ دار اور تجربہ کار لوگ نظر آتے تھے لیکن وہ جوں ہی دبئی اور لندن میں مقیم ہوئے تو سدا کے مایوس‘ فارغ اور نالائق لوگوں نے انکا محاصرہ کر لیا۔ ان لوگوں میں لندن کے ایک قصاب بھی شامل تھے‘ وہ سارا دن اپنی دکان میں گوشت بیچتا اور پھر شام کو جنرل پرویز مشرف کے گھر پہنچ جاتا تھا اور اپنے قصابی تجربات سے محفل کو رنگین بنا دیتا تھا‘ عمران خان بھی اقتدار سے پہلے ایسے ہی لوگوں کے محاصرے میں تھے اور وہ آج بھی ایسے لوگوں کے نرغے میں ہیں جو خان کے کان میں پھونک مار کر انھیں توہین عدالت پر مجبور کر دیتے ہیں‘ لند ن میں مقیم میاں نواز شریف بھی آج کل اسی المیے سے گزر رہے ہیں۔ ان کی صحبت میں زیادہ سمجھ دار لوگ نہیں ہیں‘ ان کے احباب ان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے سارا دن ان کے پرانے زخم کریدتے رہتے ہیں چناں چہ یہ ماضی سے باہر نہیں آ پا رہے‘ میاں صاحب کو سارا دن ’’نیگیٹو فیڈنگ‘‘ بھی کی جاتی ہے‘ اس کے اثرات ان کی شخصیت میں دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم میں یہ اعتراف کروں گا اللہ نے نواز شریف کو توکل اور برداشت کی بے تحاشا قوت دے رکھی ہے لہٰذا قدرت ان دونوں خوبیوں کے باعث انھیں ہر قسم کے کرائسیز سے نکال لیتی ہے۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ نواز شریف اس بار بھی اپنی قوت برداشت اور توکل کی وجہ سے اپنے برے حالات کو شکست دے رہے ہیں لیکن میرا مشورہ ہے میاں صاحب کو یہ وقت بے نظیر بھٹو کی طرح گزارنا چاہیے‘ شہید بے نظیر بھٹو نے اپنی نقل مکانی کا دور ہمیشہ اچھی کمپنی میں گزارا‘ وہ انٹرنیشنل جرنلسٹس‘ پروفیسروں اور دانشوروں کے ساتھ بیٹھتی رہیں‘ پرانے سیاست دانوں سے ملاقات کرتی رہیں اور یورپ اور امریکا کے اپوزیشن لیڈرز کے ساتھ ڈنر اور لنچ کا اہتمام کرتی رہیں چنانچہ وہ جب بھی اقتدار میں واپس آئیں تو ان کا عالمی پروفائل پہلے سے زیادہ بہتر تھا‘ پاکستان اس وقت شدید معاشی‘ نفسیاتی‘ سماجی اور سفارتی بحرانوں کا شکار ہے۔
میاں صاحب کو چاہیے یہ لندن میں بیٹھ کر دنیا کے سفارتی ماہرین‘ سوشل میڈیا ایکسپرٹس‘ اجتماعی نفسیات پر کام کرنے والے پروفیسروں اور معاشی ماہروں سے ملیں تاکہ جب یہ واپس آئیں تو یہ ملک کو نئی معاشی پالیسیاں بھی دے سکیں‘ قوم کی اجتماعی نفسیات پر بھی کام کر سکیں‘ ملک کا سفارتی قبلہ بھی ٹھیک کر سکیں اور یہ سوشل میڈیا کے لیے بھی ایسی پالیسیاں بنا سکیں جن سے ملک میں موجود کنفیوژن اور تقسیم کم ہو سکے۔ میں یہاں ایک بار پھر نیلسن مینڈیلا کی مثال دوں گا‘ مینڈیلا 27 سال جیل میں رہے‘ وہ اس دوران مطالعہ کرتے رہے اور اس مطالعے نے انھیں عام سے سیاسی قیدی سے عالمی لیڈر بنا دیا‘ میاں صاحب آکسفورڈ‘ کیمبرج اور لندن اسکول آف اکنامکس کے درمیان رہتے ہیں‘ یہ اگر ہفتے میں دو دن بھی ان اداروں میں گزار لیں تو ملک کا رخ بدل سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کا زیادہ تر وقت ججوں کی زیادتیاں‘ جرنیلوں کی سیاسی غلطیوں اور ساتھیوں کی بے وفائیوں کی داستانیں سننے میں ضائع ہو جاتا ہے جو کہ قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔جنوبی افریقہ سے پاکستان واپس آتے ہوئے لندن میں قیام کے دوران میں نے نواز شریف کے ساتھ چار گھنٹے گزارے‘ مجھے محسوس ہوا وہ پاکستان کو مس کر رہے ہیں‘ یہ پاکستان جانا چاہتے ہیں لیکن عزت کے ساتھ‘ ان کا خیال ہے جب تک انھیں مقدمات سے باعزت بری نہیں کیا جاتا وہ واپس نہیں آئیں گے‘ وہ حکومت سے بھی خوش نہیں ہیں‘ نواز شریف حکومت نہیں بنانا چاہتے تھے لیکن انھیں مجبور کر دیا گیا اور اب وی اس مجبوری کی سیاسی قیمت سے پریشان ہیں۔ میاں صاحب سمجھتے ہیں کہ حکومت نے اگر ڈیلیور نہ کیا تو ان کی پارٹی کے لیے 2023 کا الیکشن انتہائی مشکل ہو جائے گا اور وہ اپنی زیادہ تر سیٹیں ہار جائیں گے چنانچہ وہ وقت سے قبل الیکشن کے لیے بھی تیار نہیں ہوں گے اور انکی کوشش ہو گی کہ وہ الیکشن سے پہلے ملک کے معاشی حالات ٹھیک کر لیں۔ جاوید چوہدری کے بقول نواز شریف آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو ایکسٹینشن نہیں دینا چاہتے اور نیا آرمی چیف تعینات کرنا چاہتے ہیں‘ اب وہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی خاندان سے باہر کسی نیک نام سیاست دان کو دینا چاہتے ہیں‘ نواز شریف مریم نواز کے معاملے میں بھی بہت حساس ہیں۔ وہ انھیں ہر صورت اپنا سیاسی جاں نشین دیکھنا چاہتے ہیں۔

بقول جاوید چوہدری، لندن میں مقیم نواز شریف دن میں کم از کم ایک آدھ بار یہ تو ضرور سوچتے ہوں گے کہ اقتدار میں آ کر کہیں ہمارے ساتھ ہاتھ تو نہیں ہو گیا یا ہم بَلی کا بکرا تو نہیں بن گئے۔ اسکے علاوہ میاں صاحب لندن میں اپنے گھروں کے سامنے احتجاج اور نعرے بازی اور سڑک پر ہونے والی بد سلوکی سے بھی حیران اور پریشان ہیں اور لوگوں سے اکثر یہ پوچھتے رہتے ہیں کہ ’’ہم نے آخر کیا جرم کر دیا ہے جس کی ہمیں سزا مل رہی ہے؟‘‘ لوگ کیا جواب دیتے ہیں میاں نواز شریف اس کی پروا نہیں کرتے‘ ان کی تان ہمیشہ آسمان پر ٹوٹتی ہے‘ وہ چھت کی طرف دیکھتے ہیں اور آہستہ آواز میں کہتے ہیں ’’ہم سے شاید کوئی ایسی غلطی ہو گئی ہو گی جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آئی اور ہم اس کی پکڑ میں آ گئے ہیں‘‘۔ میں ان سے اتفاق کرتا ہوں‘ بے شک عزت‘ ذلت اور اختیار صرف اور صرف اسکے دست قدرت میں ہے اور وہ جب تک کسی کو خود نہ دے ہم میں سے کوئی شخص لے نہیں سکتا۔

Related Articles

Back to top button