نواز لیگ کو اپنی حکمت عملی بدلنے کی ضرورت کیوں ہے؟


چند ماہ پہلے تک سیاسی میدان میں دور کھڑی تحریک انصاف اب مسلم لیگ نون کو بظاہر کافی ٹف ٹائم دے رہی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن کو روایتی طریقوں سے نکل کر ایک نئی اور تخلیقی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آئندہ عام انتخابات سے قبل پی ٹی آئی سے سیاسی مقابلے کے لیے اپنی صفوں کو درست کر سکے۔ گذشتہ چار ماہ میں ہونے والے سیاسی واقعات سے مسلم لیگ نون کا ووٹر تذبذب اور کنفیوژن کا شکار نظر آتا ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق پارٹی نے گذشتہ حکومتوں میں ترقی اور استحکام کا جو بیانیہ قائم کر رکھا تھا اب اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلم لیگ ن اپنے ووٹرز کو یہ پیغام دینے میں ناکام رہی ہے کہ شہباز شریف سے منسوب خوشحالی و ترقی کا ماڈل عملی طور پر عوام کو کوئی فائدہ پہنچا رہا ہے۔

پاکستانی انتخابی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی ماجد نظامی بی بی سی کے لیے اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ پنجاب میں 20 سیٹوں پر ضمنی الیکشن کے نتائج سے ایسا لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی عوامی سطح پر پہلے سے مضبوط ہوتی نظر آ رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کے اس موقف کے باوجود کہ پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ان کی شکست کی وجہ تحریک انصاف کے امیدواروں کو ٹکٹ دینا تھی، ضمنی الیکشن کے نتائج سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ نواز لیگ روایتی سیاست تک محدود ہو گئی ہے جس سے اُن کی عوامی حمایت میں کمی اور سیاسی جوڑ توڑ، الیکشن انجینیئرنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ نئے تخلیقی اقدامات کی بجائے مسلم لیگ ن کیا ابھی تک نوے کی دہائی کی روایتی سیاست سے باہر نہیں نکل پا رہی؟

ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن، ہر سیاستدان کی تقریر اور تحریر میں ’نوے کی سیاست‘ کا تذکرہ ضرور ہوتا ہے۔ عموماً اسے 1988 سے 1999کے درمیان ہونے والے سیاسی واقعات سے جوڑا جاتا ہے۔
اگر ان برسوں میں ہونے والے واقعات کو سامنے رکھیں تو انتقامی سیاست، سیاسی جوڑ توڑ، جھوٹے مقدمے، پولیس اور مقامی انتظامیہ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا، دھڑوں اور برادریوں کی سیاست، الیکشن میں دھاندلی، سیاسی جماعتوں میں فارورڈ بلاک بنانا، اسمبلیوں میں ہنگامہ آرائی، الزام تراشی، جیلوں میں سیاسی قیدیوں کا ہونا اور اسمبلیوں کا مدت پوری نہ کرنا جیسی مثالیں سامنے آتی ہیں۔ انتمام برسوں میں مسلم لیگ ن پاکستانی سیاست کی مرکزی کھلاڑی رہی ہے۔ اسی لیے سیاستدان ’نوے کی دہائی کی سیاست‘ کو ایک محاروے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے زور دیتے ہیں کہ اب اس طرز کی سیاست سے آگے نکلنا چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف ایک مضبوط حریف بن کر مسلم لیگ ن کا سامنا کرے گی۔ اہم سوال ہے کہ کیا مسلم لیگ نون کی قیادت اپنی سیاسی حکمت عملی کو از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت محسوس کرتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو کن اُمور پر کام کیا جانا چاہیے؟ مسلم لیگ نون کے ذرائع کہتے ہیں کہ ہر الیکشن میں جانے سے پہلے نئی حکمت عملی بنائی جاتی ہے اور اصلاحات کی جاتی ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات میں بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے جن کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضرور حکمت عملی ازسر نو مرتب کی جائے گی۔‘

سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ سب سے اہم معاملہ یہ ہے کہ اگلے الیکشن میں مسلم لیگ نون کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملنی چاہیے تاکہ اس کی ساکھ بن سکے۔ اس معاملے پر لیگی رہنما رانا ثناءاللہ خان کا کہنا تھا کہ سب سیاسی جماعتوں پر ایک جیسے قانون کا اطلاق ہونا چاہیے۔ ہمارے ساتھ آرٹیکل باسٹھ، تریسٹھ اور توہین عدالت کی بنیاد پر پولیٹیکل انجینیئرنگ کی جاتی ہے جس کو ختم ہونا چاہیے۔ اگر اگلے الیکشن میں ہمیں سیاسی میدان میں یکساں مواقع نہیں ملیں گے تو مزید سیاسی عدم استحکام پیدا ہو گا۔‘

دوسری طرف سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کو نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انھیں حالیہ ضمنی انتخابات سے سیکھنا چاہیے اور از سر نو حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔ اگر یہ عام انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کرتے ہیں تو کیا یہ عوامی فلاح کے ایسے منصوبے لا سکتے ہیں جن سے عوام اُن کی طرف متوجہ ہو؟ اگر اب بھی اقتصادی متبادل نہیں تو ان کو آئندہ الیکشن میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

مسلم لیگ نون میں بیانیے کے معاملے پر اختلاف کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں لیگی رہنما طلال چوہدری کہتے ہیں کہ ’ووٹ کو عزت دو اور عوامی بالادستی مسلم لیگ نون کا بیانیہ ہے اور آج تحریک انصاف اور عمران خان اسی بیانیے پر کھڑی ہے۔ ہمیں بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ پانامہ درخواست سے لے کر نیب کی سزاؤں تک ہم گذشتہ چار پانچ سال میں اداروں کی عزت کی خاطر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیاں قبول کرتے رہے ہیں۔ ہم نے ان معاملات پر نرم رویہ رکھا جو آج ہماری کمزوری بنا ہوا ہے۔‘

تحریک انصاف کے لئے سافٹ کارنر رکھنے والے سابق نگران وزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق ’مسلم لیگ نون جب سے حکومت میں آئی ہے، ان کی کوئی مربوط پالیسی نہیں۔ مثال کے طور پر اگر عمران خان اپنے ساڑھے چار سال میں کچھ ڈیلیور نہیں کر سکے تو انھوں نے کیا کیا؟ یہ ابھی تک بہتر متبادل کے طور پر سامنے نہیں آئے۔ پارٹی کے اندر یکسوئی نہیں اور سوچ میں اختلافات ہیں۔‘

کیا یہ درست ہے کہ پارٹی میں بیانیے کے معاملے پر اندرونی اختلاف رائے موجود ہے جس کی وجہ سے واضح مؤقف نہیں اپنایا جا رہا؟ اس سوال کے جواب میں طلال چوہدری کہتے ہیں کہ ’ہمارا بیانیہ مضبوط ہے اور ہمیں بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ پورا پاکستان یہاں تک کہ عمران خان ہمارے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے۔‘ طلال ن لیگ کی مشکلات پر کچھ ایسے روشنی ڈالتے ہیں کہ ’ہم لیڈر کے بغیر لڑ رہے ہیں۔ آج بھی ہمارے لیڈر کو نااہل رکھ کر سیاست سے دور رکھا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود بھی ہمیں حکومت ملی ہے جس میں مشکل ترین اقتصادی حالات اور مشکل ترین اتحادی ہیں، اس طرح ہمیں مشکل ترین سیاسی و معاشی حالات کا سامنا ہے۔ ہم نے حکومت میں آ کر ایسے فیصلے کیے جن کا مقصد سیاست نہیں پاکستان بچانا تھا۔ مشکل معاشی فیصلوں اور منحرف ارکان کو ٹکٹ دینے کو ہمارے کارکنوں نے ضمنی انتخابات میں قبول نہیں کیا۔ اس کے باوجود ابھی بھی ہم پنجاب میں پیچھے نہیں۔‘

دوسری جانب ڈاکٹر حسن عسکری رضوی اسے یکسر مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ اُن کے مطابق ’مسلم لیگ نون کے اندر قیادت میں یکسوئی نہیں۔ لیڈ کون اور کس طرح کرے گا اس پر اختلافات موجود ہیں اور ابھی تک اس کا حل نہیں سامنے آیا۔ مریم نواز ایک طرف اور کئی دوسرے اہم رہنما دوسری طرف ہیں۔ اندرونی طور پر قیادت کا بحران موجود ہے۔‘

Related Articles

Back to top button