نواز لیگ کی اے ٹیم اور بی ٹیم میں سرد جنگ تیز کیوں ہو گئی؟

ن لیگ کے قائد نواز شریف کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کی معاشی پالیسیوں پر اظہار عدم اطمینان کی بھر پور تردید کئے جانے کے باوجود شہباز حکومت کے معاشی جادوگر وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اس وقت نواز کیمپ کی جانب سے شدید گولہ باری کی زد میں ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف سی قرض ملتے ہی انہیں فارغ کر دیا جائے گا تاکہ اسحاق ڈار کی واپسی کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ مفتاح اسماعیل غیر منتخب وزیر خزانہ ہیں اور ابھی تک انہیں سینیٹ یا قومی اسمبلی سے منتخب کروانے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔
قانون کے مطابق کوئی بھی غیر منتخب وزیر چھ ماہ سے ذیادہ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتا، یوں مفتاح اسماعیل کے پاس اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک کا وقت موجود ہے کیونکہ وہ اپریل میں وزیر بنے تھے۔ لیکن اگر وہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک سینٹ یا قومی اسمبلی کے رکن نہیں بنتے تو ان کی وزارت بھی ختم ہو جائے گی۔ دوسری جانب سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اب بھی سینٹ کے رکن ہیں اور مفتاح اسماعیل کی فراغت کی صورت میں قوی امکان موجود ہے کہ وہ پاکستان واپس آ کر وزارت خزانہ سنبھال لیں گے تاہم اس سے پہلے ضروری ہے کہ انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس مل جائے۔ اسحاق ڈار کی ملک واپسی کے راستے میں بڑی رکاوٹ مفتاح اسماعیل ہیں جنہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی سلیکشن سمجھا جاتا ہے، شہباز شریف کا ووٹ بھی ان کے ساتھ ہے لیکن نواز شریف کا ووٹ اسحاق ڈار کے ساتھ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگی حلقوں میں اسحاق ڈار اور مفتاح اسماعیل کے لیے اے ٹیم اور بی ٹیم کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، اے ٹیم کا تعلق نواز کیمپ سے ہے جب کہ بی ٹیم کا تعلق شہباز کیمپ سے ہے۔ لیگی ذرائع کہتے ہیں کہ اس وقت وفاقی حکومت نواز لیگ کی وہ بی ٹیم چلا رہی ہے جسے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سیکیورٹی کلیئرنس ملی تھی جبکہ پارٹی کی اے ٹیم کے ابھی تک سکیورٹی کلیئرنس نہیں مل پائی اور اسی لئے نواز شریف اور اسحاق ڈار بھی ابھی تک وطن واپس نہیں آئے۔ لیکن اے ٹیم کی واپسی کی کوششوں کا آغاز بھی ہو چکا ہے اور اسی لئے اب نواز شریف نے لندن سے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو یہ سوال کیا ہے کہ ان کے کیسز کو کب سنا جائے گا اور انہیں اور مریم کو انصاف کب دیا جائے گا؟
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز لیگ کے دونوں دھڑوں میں جاری سرد جنگ تیز تر ہو چکی ہے جس کے بعد وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل پر نواز دھڑے سے تعلق رکھنے والے لیگی رہنماؤں نے تابڑتوڑ حملے شروع کر دیے ہیں۔ نواز لیگ کی جانب سے حالیہ دنوں میں جن رہنماؤں نے کھل کر تنقید کی ہے ان میں مریم نواز، جاوید لطیف، طلال چودھری، عابد شیر علی اور حنیف عباسی شامل ہیں اور عمومی تاثر یہی ہے کہ انہیں میاں نواز شریف کی آشیرباد حاصل ہے جو اپنی حکومت سے زیادہ پارٹی بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ نواز شریف کے قریبی رشتے دار ہیں عابد شیر علی نے مفتاح اسمٰعیل کو ان کی عوام دشمن پالیسیوں پر نشانہ بنایا تھا، جبکہ طلال چوہدری نے وزیر خزانہ کو عوام پر رحم کھانے کا کہا تھا۔ جاوید لطیف نے مفتاح اسماعیل کے فیصلوں کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا تھا جبکہ حنیف عباسی نے وزیر خزانہ پر شہباز شریف کے وژن کے خلاف چلنے کا الزام لگایا تھا۔ تاہم پارٹی قیادت کی جانب سے سے کسی ایک بھی ناقد لیڈر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ حکومتی اور جماعتی معاملات کو علیحدہ علیحدہ لے کر چلا جائے گا اور حکومت جہاں بھی غلطی کرے گی پارٹی کی جانب سے اس پر اصلاح کی خاطر تنقید کی جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے نواز شریف سے ملاقات کے بعد بعد انکے شہباز حکومت بارے جو خیالات بیان کیے ہیں وہ پارٹی میں دو دھڑوں کی تیز ہوتی جنگ کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہیں۔ تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے بھی شہباز شریف کی بطور وزیراعظم اور مفتاح اسماعیل کی بطور وزیر خزانہ ناکامی کے ثبوت کے طور پر نواز شریف کے بیان کو دہرایا ہے۔ یہ اور بات کے نواز شریف نے شہباز شریف بارے خود سے منسوب گفتگو کی تردید کی ہے جبکہ سہیل وڑائچ اپنے موقف پر قائم ہیں۔ سینئر صحافی نے لندن میں نواز شریف سے ملاقات کے بعد جیو ٹی وی پر بتایا تھا کہ سابق وزیراعظم اپنے چھوٹے بھائی اور ان کے وزیر خزانہ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔
دودری جانب مسلم لیگ (ن) کے چند سینئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر گہرے اختلاف کا تاثر درست نہیں ہے۔ لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں کیا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت خصوصا نواز شریف عوام کو کوئی خاطر خواہ ریلیف نہ دینے پر پریشان ہیں، کیوں کہ اس کے نتیجے میں ان کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے اور عمران کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں نواز شریف اور ان کے قریبی ساتھیوں کے بیانات بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں کے تناظر میں ہونے والے سیاسی نقصان پر قابو پانے کی ایک کوشش نظر آتے ہیں۔ لیگی رہنماؤں کے مطابق نواز شریف عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ انکے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں اور پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر اتحادی حکومت کے ساتھ نہیں ہیں۔ یہ ایک طرح کی ‘پرانی حکمت عملی’ ہے لیکن پارٹی کے ووٹ بینک کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی سیاست کرنا بھی ضروری ہے۔

Related Articles

Back to top button