نوبل امن انعام کے لیے نامزد ڈاکٹر امجد ثاقب کی کہانی


نوبل انعام کے لیے نامزد ہونے والی فلاحی تنظیم اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب بلحاظ تعلیم ڈاکٹر اور پیشے سے ایک سرکاری ملازم تھے، جنہوں نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر 2001 میں اخوت کی بنیاد رکھی۔ ادارے کے ابتدائی دنوں میں وہ 10 ہزار روپے تک کی رقم ہی قرض کی مد میں فراہم کر سکتے تھے اور ان کی پہلی قرض خواہ چند خواتین تھیں جو لاہور کی ایک چھوٹی سی آبادی سے تعلق رکھتی تھیں اور اکثر اپنے سینے پرونے کا کام شروع کرنے کے لیے پیسوں کی تلاش میں رہتی تھیں۔ دو بچوں کے باپ امجد ثاقب نے 2003 میں سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر خود کو اس ادارے کے لیے ہمہ وقت مختص کرنے کا فیصلہ کیا۔ دو دہائیوں بعد آج اس ادارے کے 826 سے زائد دفاتر ملک کے 400 چھوٹے بڑے شہروں میں موجود ہیں اور اخوت کے اپنے 7000 ملازمین ہیں۔
‘اخوت’ اب تک تقریباً 30 لاکھ لوگوں کو قرض فراہم کر چکا ہے۔ یہ قرضہ جات صرف گھروں کی تعمیر ہی کے لیے نہیں بلکہ تعلیم اور اسکے علاوہ مرد، خواتین اور خواجہ سراؤں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی بھی مد میں ہوتے ہیں۔
نوبل انعام کے لیے نامزد ہونے والے ڈاکٹر ثاقب کا کہنا ہے کہ ان کو ملنے والے عطیات میں سے محض پانچ فیصد ادارے کے انتظامی معاملات چلانے کی مد میں جاتے ہیں جبکہ باقی غریب لوگوں کو غربت کی دلدل سے باہر نکالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی دنوں میں بھی ہم اس رقم کو بطور خیرات استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے بلکہ اسے بلا سود قرض حسنہ کے طور پر دینا چاہتے تھے۔ وقت کے ساتھ اس بلا سودچھوٹے قرضے فراہم کرنے والے ادارے میں غربت کے خاتمے کے مزید منصوبے بھی شامل ہوتے گئے۔
پاکستان کے علاقے فیصل آباد کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لینے کے بعد سول سروس میں جانے کا فیصلہ کیا اور ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے ایک اچھے افسر کے طور پر اپنی انتظامی صلاحیتوں کو منوایا۔ سرکاری ملازمت کے دوران انہیں پنجاب رورل سپورٹ پروگرام کے جنرل مینجر کے طور پر بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ یہی وہ لمحہ تھا، جب ڈاکٹر امجد کو غربت کے مسئلے کی سنگینی کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنی زندگی دوسروں کی غربت کے خاتمے کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے غیر سرکاری فلاحی تنظیم اخوت کی بنیاد رکھی اور سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے دس ہزار روپے کے معمولی سرمائے سے غریب لوگوں کو بلا سود قرضے دینے کا آغاز کیا۔ آج ان کا ادارہ سود کے بغیر چھوٹے قرضے دینے والا دنیا کا ایک بہت بڑا ادارہ بن چکا ہے۔ اخوت تنظیم بلا سود قرضوں اور پیشہ وارانہ رہنمائی کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے غریب لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ اخوت نادار اور ضرورت مند لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے کے لیے بیس سے پچاس ہزار تک کے بلا سود قرضے فراہم کرتا ہے۔ یہ قرضے بغیر کسی لمبی چوڑی تفتیش کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک سادہ درخواست اور شخصی ضمانت کے ذریعے دیئےجاتے ہیں۔
اخوت کا ادارہ کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کے غریب لوگوں کی مدد کے لیے گرجا گھروں میں خصوصی فلاحی تقریبات کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں اخوت تنظیم اربوں روپے مالیت کے بلا سود قرضے غریب اور پسماندہ لوگوں میں تقسیم کر چکی ہے اور لاکھوں غریب خاندان مستفید ہو چکے ہیں۔ اخوت پاکستان کے صوبوں کے علاوہ فاٹا، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے کئی علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ اس سلسلے میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اخوت کے قرضوں کی واپسی کی شرح تقریبا ًننانوے فیصد ہے۔ اخوت کی طرف دیئے گئے قرضوں سے خواتین اور ملک کی اقلیتی برادریاں بھی مستفید ہوئی ہیں۔ اخوت کا ادارہ کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کے غریب لوگوں کی مدد کے لیے گرجا گھروں میں خصوصی فلاحی تقریبات کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ اس فلاحی ادارے کو پاکستانی مخیر حضرات کی بڑی تعداد سپورٹ کرتی ہے۔ یہ ادارہ کاروبار کرنے کے متمنی خواتین و حضرات کی مدد کرنے کے علاوہ گھر بنانے، بچوں کی تعلیم یا بچوں کی شادی کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریات کے لیے قرضے حاصل کرنے کے خواہش مند نادار افراد کی بھی مدد کرتا ہے۔ اخوت کے ماڈل کو دنیا کے کئی ملکوں اور کئی یونیورسٹیوں میں سٹڈی کیا جا رہا ہے۔ اخوت نے پاکستان کی قومی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے غریب لوگوں کی مدد کے لیے شروع کی جانے والی کئی سرکاری فلاحی سکیموں کی شفاف تکمیل کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔
اس وقت اخوت کے بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد ثاقب کی زیر نگرانی قرضوں کی فراہمی کے کور پراجیکٹ کے علاوہ متعدد فلاحی منصوبے بھی چلائے جا رہے ہیں۔ ان میں اخوت کلاتھ بنک، اخوت ہیلتھ سروسز، اخوت ڈریمز پراجیکٹ، اخوت ایجوکیشن اسسٹنس پروگرام اور اخوت فری یونیورسٹی کے علاوہ یہ ادارہ خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود اور ان کی دیکھ بھال کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
گزشتہ چودہ برسوں میں اخوت تنظیم سولہ ارب اور پچہتر کروڑ روپے مالیت کے بلا سود قرضے غریب اور پسماندہ لوگوں میں تقسیم کر چکی ہے۔ ڈاکٹر امجد کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کی معاشی مشکلات کا پائیدار حل غیر ملکی امداد سے ممکن نہیں۔ ان کے بقول بھیک مانگنے والی اقوام کبھی ترقی نہیں کر سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اقتصادی حالات کی بہتری کے لیے پاکستانیوں کو ہی اٹھنا ہوگا۔

Related Articles

Back to top button