نیا آرمی چیف شہباز کی مرضی سے لگے گا یا عمران کی خواہش پر؟


اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے اپنے حواس کھو دینے والے سابق وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازعہ بنا کر جو مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اس کا حصول اس لیے ممکن نہیں کہ آئینی طور پر نئے آرمی چیف کی تقرری کا صوابدیدی اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے اور خان صاحب شاید بھول رہے ہیں کہ اب وزیراعظم وہ نہیں ہیں بلکہ شہباز شریف ہیں۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں بزرگ لکھاری سینیٹر عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک تحریری آئین رکھتا ہے۔ یہ آئین غیر مبہم الفاظ میں ہر جمہوری پارلیمانی ملک کی طرح فوجی سربراہوں کی تقرری کا اختیار وزیراعظم کو دیتا ہے۔ وزیراعظم کس سے رائے لیتا، کس سے مشاورت کرتا اور کس سے استخارہ نکلواتا ہے، یہ بھی اسی کی صوابدید ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آئین زندہ و سلامت بھی ہے اور نافذ العمل بھی۔
جس طرح ایوان میں اکثریت کی بدولت ایک زمانے میں خان صاحب وزیر اعظم تھے، اب اسی طرح ایوان کی اکثریت کا اعتماد رکھنے والے شخص کا نام شہباز شریف ہے اور وہ وزیراعظم پاکستان ہیں۔ لہذا اگلا آرمی چیف کون ہو گا؟ یہ اب خان صاحب کا درد سر نہیں۔ جب یہ واقعی ان کا درد سر تھا تو انہوں نے نواز شریف کے تعینات کردہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو بطور آرمی چیف توسیع دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایسے میں اب خان صاحب اپنے دل کو سمجھائیں اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی جن کا درد سر ہے انہیں فیصلہ کرنے دیں۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ عجیب اتفاق ہے کہ گزشتہ 24 برس کے دوران جمہوری ادوار کے تمام آرمی چیفس کی تقرریاں مسلم لیگ نون کے ادوار میں ہوئیں۔ باقی جمہوری حکمرانوں نے توسیع کے سائبان میں ہی عافیت جانی۔ پونے چار سال تک ”ایک پیج“ کو اپنی سیاسی حکمت کاری کا اعجاز، اپنی مدبرانہ سیاست کا طرہ امتیاز اور خود اپنی دانش و بصیرت کے لئے ”سرمایہ اعزاز“ سمجھنے والے عمران خان کے ہنستے بستے چمن پر، عین موسم بہار میں، پت جھڑ کی ایسی رت آئی کہ وہ ابھی تک اپنے حواس پر قابو نہیں پا سکے۔ پاکستانی فوج کے سیاسی کردار پر تنقید ہمیشہ سے ہوتی رہی ہے اور اس پرانی روش کا دوبارہ آغاز ہوا تو آئندہ بھی تنقید ہو گی۔ لیکن سر دست ہمیں فوج کے نہایت واضح اعلان پر یقین کر لینا چاہیے کہ وہ سیاست سے دوری اختیار کر کے اپنی آئینی ذمہ داریوں تک محدود ہو چکی ہے۔ یہ تبدیلی لائق تحسین ہے۔ جس طرح فوج کا سیاست میں دخیل ہونا ایک نا پسندیدہ عمل ہے اسی طرح جمہوریت کے دعویدار کسی سیاستدان کی طرف سے فوج کو تختہ مشق بنا لینا، اسکو اکسانا، اس سے اپنے سیاسی حریفوں کی گردن زنی کی توقع رکھنا، اس کے غیر سیاسی کردار پر طعنہ زنی کرنا، اسے غیر ضروری تنازعات میں گھسیٹنا اور اٹھتے بیٹھتے سوکنوں کی طرح کوسنا انتہائی افسوس ناک رویہ ہے۔ عمران خان نے تو فرط غضب میں اعلیٰ فوجی قیادت کی حب الوطنی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کے لہجے کی زہرناکی ”جانور“ قرار دینے کے بعد میر جعفر اور میر صادق جیسے نامطلوب استعاروں تک جا پہنچی ہے۔ وہ یہ جملہ بھی بڑے تسلسل سے دہرانے لگے ہیں کہ ”میں خطرناک ہو جاؤں گا“ ۔ ان کے نورتنوں میں سے کسی کو بتانا چاہیے کہ ”عالیٰ مقام! آپ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی کچھ کم خطرناک نہ تھے۔“

عمران صدیقی کہتے ہیں کہ خان صاحب نے ابھی تک کھلے لفظوں میں نہیں بتایا کہ ان کے خطرناک ہو جانے سے کس کو خطرات لاحق ہو جائیں گے؟ لیکن نومبر میں نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے ان کی تازہ شعلہ بیانی نے اتنا پیغام ضرور دے دیا ہے کہ وہ واقعی خطرناک ہو چکے ہیں۔ خطرناک ہوجانا دراصل ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جو ہوش و خرد کے بندھنوں سے آزاد ہو جاتی ہے۔ جن میں مبتلا خطرناک شخص یہ نہیں دیکھتا کہ اس کا پھینکا ہوا پتھر، کس کا سر پھوڑے گا۔ وہ تو صرف زخم سے پھوٹتے خون کی لکیر سے لطف لیتا اور لہو میں لتھڑے چہرے سے آسودگی پاتا ہے۔ عمران زندگی کے کسی دور میں بھی اظہار خیال کی نفاستوں، زبان و بیان کے سلیقوں، حرف و صوت کے قرینوں اور لب و لہجہ کی نزاکتوں کے قائل نہیں رہے۔ ان کی خود تراشیدہ ”ریاست مدینہ“ میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو پذیرائی نہیں مل سکی کہ ”لوگوں کے ساتھ اچھے پیرائے میں بات کیا کرو“ ۔ وہ ایک اکھڑ کھلاڑی کی طرح دھمکی آمیز اور بدزبان لہجے میں ہر منہ آئی بات کہہ ڈالتے ہیں بلکہ شعوری کوشش کرتے ہیں کہ ان کی گفتگو کا پیرایہ ”حسن کلام“ سے کوسوں دور اور ممکنہ حد تک تلخ و زہر ناک ہو۔ انہی صفات کے حامل فواد چوہدری اور شہباز گل جیسے رفقا ان کے دربار خاص تک رسائی پاتے اور مقربین میں شمار ہوتے ہیں۔ خان صاحب کی یہ شعلہ فشانی جب ریاست کے نہایت حساس معاملات تک جا پہنچتی ہے تو پھر وہ واقعی بہت خطرناک بلکہ خوفناک دکھائی دینے لگتے ہیں۔ نئے آرمی چیف کے حوالے سے ان کے ارشادات اس کی تازہ مثال ہیں۔

عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ یہ اسی سال، 14 اپریل کا ذکر ہے۔ خان صاحب کا خطرناک عہد حکمرانی تمام ہو چکا تھا۔ نئی مخلوط حکومت قائم ہو چکی تھی جب آئی۔ ایس۔ پی۔ آر کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل افتخار بابر نے ایک نہایت جامع پریس کانفرنس میں بڑی نپی تلی گفتگو کی۔ جنرل صاحب نے کہا کہ ”میں اس بات کو ہمیشہ کے لئے طے کر دینا چاہتا ہوں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نہ تو ایکسٹینشن مانگیں گے اور نہ ہی ایسی کوئی پیشکش کسی بھی صورت قبول کریں گے۔ وہ نومبر 2022 میں ریٹائر ہو جائیں گے۔“ اتنے واضح اور دو ٹوک اعلان کے بعد اس قدر حساس معاملے کی پٹاری سر راہ رکھ کر بین بجانا گلیوں، بازاروں، چوکوں اور چوپالوں ہی کا نہیں، دنیا بھر کے تماش بینوں کی تفریح طبع کے لئے تماشا لگانا، حب الوطنی کا کون سا قرینہ ہے؟ اگلے دن، معروف برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی تجزیاتی خبر پہ سرخی جمائی ”ڈوبتے پاکستان میں اپنے چیف کی تلاش“ ۔ ہمارے پڑوس میں بھی تمسخر کی پھلجھڑیاں چھوٹ رہی ہیں۔اندرون خانہ بھی ایک بے ذوق سرکس لگ گیا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کروڑوں پاکستانیوں کی زندگیوں، ان کے مال اسباب، ان کے آشیانوں اور ان کی لہلہاتی کھیتیوں سے کھیلتے سیلاب پر نگاہیں مرکوز کیے ، ہماری دست گیری کی تدبیریں کر رہی ہے اور یہاں خان صاحب اپنی خطرناکی کے جوہر دکھاتے ہوئے بے ہنگم سنگ باری کیے جا رہے ہیں۔

عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ 1998 میں وزیراعظم نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف تعینات کیا تھا۔ پندرہ برس بعد 2013 میں نواز شریف ہی نے منتخب جمہوری وزیراعظم کے طور پر جنرل راحیل شریف کی تقرری کی۔ پیپلز پارٹی کو 2010 میں یہ موقع ملا، لیکن آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی نے مصلحت کیشی کے تحت جنرل کیانی کو توسیع دے دی۔ 2016 میں ایک بار پھر نواز شریف ہی نے اپنی یہ آئینی اور منصبی ذمہ داری پوری کی۔ آج آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے انگاروں پہ لوٹنے والے عمران کو جب 2019 میں ایسا ہی موقع ملا تو ان کی خطرناکی، بھیگی بلی بن کر جانے کس گوشے میں جا دبکی، لہذا تاریخ نے ایک بار پھر یہ ذمہ داری مسلم لیگ نون کے کندھوں پہ ڈال دی ہے۔ ایسے میں اب گلا آرمی چیف کون ہو گا؟ خان صاحب کو یاد دلانا ضروری ہے کہ یہ فیصلہ اب ان کا درد سر نہیں۔ یہ جنکا درد سر ہے، انہیں سوچنے اور فیصلہ کرنے دیں۔

Related Articles

Back to top button