وزیر اعلیٰ KPکا ترجمان سیف دہشت گردوں کا ساتھی قرار

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف ایک مرتبہ پھر تنازع کا شکار ہونے کے بعد طالبان کے ترجمان کہلائے جا رہے ہیں ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن کے امن جرگے نے متفقہ طور پر ایک قرارداد کے ذریعے خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے سرکاری ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹائے کیونکہ وہ ’دہشت گردوں کے ساتھی‘ ہیں۔ متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ محمود خان کے معاون خصوصی بیرسٹر سیف مسلسل کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں اور اب انکے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سردار حسین بابک کے بارے میں دیے گئے ریمارکس تصدیق کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کی نمائندگی کر رہے ہیں اور انہی کی زبان بول رہے ہیں۔

 

یاد رہے کہ بیرسٹر محمد علی سیف کو ترجمان کے عہدے سے ہٹانے کی قرارداد سوات قومی جرگہ کے زیراہتمام گرینڈ جرگہ کے اجلاس میں منظور کی گئی۔ اس موقع پر ملاکنڈ ڈویژن کے عمائدین اور سیاستدانوں نے کہا کہ وہ کسی بھی ضلع میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ خیال رہے کہ  بیرسٹر سیف کو ان کے مخالفین ‘طالبان ترجمان’ کے نام سے پکارتے ہیں۔ بیرسٹر سیف شاید پاکستان کے واحد سیاست دان ہیں جو کھلے عام یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ بیک وقت ریاست اور پختون خوا حکومت دونوں کے نمائندے ہیں۔ اگرچہ اصولاً یہ ممکن ہی نہیں لیکن چونکہ پی ٹی آئی کی خیبر پختون خوا حکومت نے طالبان سے مذاکرات کے ضمن میں خود کو مکمل طور پر لاتعلق رکھا تھا۔ حالانکہ اصولی طور پر وزیر اعلیٰ کا معاون خصوصی اپنے باس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شہر کا دورہ کر سکتا ہے اور نہ کوئی بیان جاری کر سکتا ہے لیکن بیرسٹر سیف کے مسلسل پرو طالبان بیانات نے لوگوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ حال ہی میں بیرسٹر سیف نے کالعدم تنظیموں بالخصوص حافظ گل بہادر کا نام لے کر انہیں پیش کش کی تھی کہ اگر ان کی ٹی ٹی پی سے کوئی کشیدگی ہے تو وہ ان کے مابین ثالثی کرانے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے اس تازہ ارشاد کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ انہوں نے دہشت گرد تنظیموں کے مابین ثالثی کی پیشکش کس حیثیت سے کی اور کیا انہیں اس معاملے میں وزیر اعلیٰ کی حمایت حاصل تھی۔

اس سے پہلے اسی برس جون میں بیرسٹر محمد علی سیف دو مرتبہ قبائلی جرگہ لے کر کابل گئے اور ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی دو نشستیں کیں۔ لیکن انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ اب تین مہینے کی جنگ بندی کے بعد ایک مرتبہ پھر سے طالبان نے سیز فائر ختم کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ایک صحافی نے بیرسٹر سیف سے پوچھا کہ ان کو تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا اختیار کس نے دیا تو جواب میں بیرسٹر سیف نے ارشاد فرمایا کہ ان کی حیثیت کے بارے میں سراج الدین حقانی سے پوچھا جائے کہ وہ کون ہیں۔ وہ ان کو میری حیثیت بتا دیں گے۔ یاد رہے کہ خلیفہ سراج الدین حقانی طالبان حکومت کے وزیر داخلہ اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ ہیں۔

Related Articles

Back to top button