وفاق اور پنجاب حکومت کے مابین تنازعے میں شدت آ گئی


شہباز شریف کی وفاقی حکومت اور پرویزالٰہی کی پنجاب حکومت کے مابین ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اب دو وفاقی وزرا کے خلاف انتقامی بنیاد پر دہشت گردی کا کیس درج کرنے پر سنگین تنازعے کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ اس حرکت کے ردعمل میں وفاقی حکومت نے سی سی پی او لاہور غلام محمد ڈوگر کو ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن چودھری پرویز الٰہی نے انہیں کام جاری رکھنے حکم دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ سی سی پی اوکی تقرری اور تبادلہ وزیراعلیٰ کا اختیار ہے، مرکزی حکومت کا نہیں۔ اس حکم کے بعد غلام محمد ڈوگر نے وفاقی حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے سی سی پی او کے عہدے پر کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

خیال رہے کہ سی سی پی او لاہور 21 ویں گریڈ کے سی ایس پی افسر ہیں جو وفاق کے ڈسپلن میں آتے ہیں اور انکی خدمات پنجاب حکومت نے مستعار لے رکھی ہیں۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بی ایس 21 کا پولیس افسر غلام محمود ڈوگر، جو اس وقت پنجاب حکومت کے ماتحت خدمات انجام دے رہے ہیں، اس کا تبادلہ کر دیا گیا ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرے۔ ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل سروس کا ملازم ہونے کی وجہ سے پولیس اہلکار کو تبادلے کے احکامات جاری ہونے کے 7 روز کے اندر ای ڈی اسلام آباد کے احکامات پر عمل کرنا ہوگا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وفاقی حکومت نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ قواعد کے مطابق مقررہ مدت کے اندر رپورٹ نہ کرنے پر غلام محمود ڈوگر کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے غلام محمود ڈوگر نے پی ٹی آئی کے 25 مئی کے لانگ مارچ کے شرکاء کے خلاف کارروائیاں کرنے پر عمران کی خواہش پر لاہور کے 100 سے زائد ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کے خلاف کارروائی کی تھی۔ بطور پولیس آفیسر کرپشن الزامات کا سامنا کرنے والے غلام محمد ڈوگر کو مونس الٰہی کا خاص چماٹ بھی کہا جاتا ہے۔

دوسری جانب ترجمان وزیر اعلٰی پنجاب کی پریس ریلیز کے مطابق پرویز الٰہی نے سی سی پی او لاہور کو چارج چھوڑنے سے روک دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت انتقام میں اندھی ہو چکی ہے اور اب پنجاب حکومت اس کی آنکھیں کھولے گی۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سی سی پی او لاہور کو نہ تو وفاقی حکومت ہٹا سکتی ہے اور نہ ہی انکا تبادلہ کرنے کی مجاز ہے۔ وزیر اعلٰی پنجاب نے کہا کہ پنجاب کی حکومت وفاقی حکومت کے ہر غیر قانونی اقدام کو ماننے سے انکار کرتی ہے۔ آئی جی آفس پنجاب کے ایک سینیر افسر نے بتایا کہ اس تبادلے کی بنیادی وجہ حال ہی میں لاہور میں درج ہونے والا مسلم لیگ ن کے رہنماؤں جاوید لطیف، مریم اورنگ زیب اور پی ٹی وی کی انتظامیہ کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ ہے۔ اس کیس کے اندراج کے لیے وزیر اعلٰی آفس نے آئی جی آفس پر دباؤ ڈالا، تاہم آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے اس کیس کو سیاسی اور انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے درج کرنے سے انکار کیا۔ لیکن سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے کیس درج کرنے کی حامی بھری اور تھانہ گرین ٹاؤن میں مقدمہ درج کروا دیا۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف مذہبی حوالے سے تنقید کی تھی۔ یہ پریس کانفرنس سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہوئی تھی جس کے بعد نہ صرف جاوید لطیف بلکہ ٹی وی انتظامیہ پر بھی دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا اور ایف آئی آر کی کاپی پنجاب کے وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی۔

ایف آئی آر میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف کے ساتھ ساتھ کیس میں پاکستان ٹیلی ویژن کے منیجنگ ڈائریکٹر سہیل خان اور کنٹرولر پروگرام راشد بیگ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ادھر وزیر داخلہ پنجاب کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر نے بھی ایک سرکاری ٹوئیٹ میں اعلان کیا ہے کہ پنجاب حکومت سی سی پی او کی خدمات وفاق کے سپرد نہیں کرے گی۔ انہوں نے لکھا کہ ایڈیشنل آئی جی پولیس غلام محمود ڈوگر سی سی پی او لاہور کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھیں گے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھی رپورٹ نہیں کریں گے۔ غلام محمد ڈوگر کی جانب سے کیس درج کیے جانے کے بعد پرویزالٰہی نے انہیں دفتر بلا کر شاباش دی اور تھاپڑا دینے کی ویڈیو میڈیا پر چلوائی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے احکامات تسلیم نہ کرنے پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن وفاق کے ملازم سی سی پی او لاہور غلام محمد ڈوگر کے خلاف کیا ایکشن لیتی ہے؟

Related Articles

Back to top button