وفاق کا بنی گالا سے صوبائی سکیورٹی فورسز فوری ہٹانے کا حکم

وفاقی وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ پر تعینات سیکیورٹی دستے واپس بلا لیں کیوں کہ انہیں وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر وہاں بھجوایا گیا تھا جو کہ ایک غیر قانونی عمل ہے۔ یہ مطالبہ وزارت داخلہ نے خیبر پختون خوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کو لکھے گئے خطوط کے ذریعے کیا یے۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی منظوری سے جاری ہونے والے خط میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختون خوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مسلح اہلکاروں کو پی ٹی آئی سربراہ کی بنی گالہ رہائش گاہ پر غیر قانونی طور پر تعینات کیا گیا جو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا باعث بن سکتا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر سفارش کی ہے کہ مذکورہ بالا محکموں کی متعلقہ کمانڈ سے ان مسلح اہلکاروں کو اسکام آباد کی حدود سے نکالنے کے لیے رابطہ کیا جائے کیونکہ وفاق میں صوبائی پولیس اہلکار وزارت داخلہ کی اجازت کے بغیر تعینات نہیں ہو سکتے۔
اس دوران یہ اطلاعات بھی آ رہی ہے کہ وزارت داخلہ نے اسلام آباد پولیس کو ہدایت کردی گئی ہے کہ اب اگر کسی صوبے سے مسلح اہلکاروں کی نفری بن گالہ کی طرف جانے کی کوشش کرتی ہے تو اسے راستے میں ہی روک کر واپس بھجوا دیا جائے۔ یہ حکم نامہ تب جاری ہوا جب چند روز پہلے اسلام آباد پولیس نے خیبر پختونخوا پولیس کے ایک دستے کو روکا جو ایک صوبائی رکن اسمبلی کے ساتھ بنی گالا کی جانب جا رہا تھا۔ انکوائری سے معلوم ہوا کہ خیبر پختونخوا پولیس کی اس نفری کو عمران خان کی بنی گالا والی رہائش گاہ کی سیکیورٹی بڑھانے کے لیے لایا جا رہا تھا۔ اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے ممکنہ قانونی کارروائی بارے خبردار کیے جانے کے بعد خیبر پختونخوا پولیس کا دستہ اسلام آباد سے واپس پشاور روانہ ہوگیا۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا یے کہ عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ پر سیکورٹی بڑھانے کیلئے پنجاب پولیس کے دستے تعینات کرنے کا فیصلہ وقتی طور پر موخر کر دیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ خدشہ ہے کہ اسلام آباد پولیس ان دستوں کو بنی گالہ پہنچنے سے روکے گی تو تصادم کی فضا پیدا ہو جائے گی۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ بنی گالا میں عمران خان کی رہائشگاہ کی طرف جانے والے راستوں پر اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری تعیناتی کی گئی ہے جس کا مقصد پنجاب پولیس کی تعیناتی کو روکنا ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے عمران خان کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے عمران خان نے اپنی رہائشگاہ کی سیکورٹی پر مامور فرنٹیئر کور اور اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کو ہٹوا دیا تھا اور اپنی سیکورٹی کیلئے پنجاب پولیس کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم وزیراعلی پنجاب پرویز الہی نے اسلام آباد پولیس کی جانب سے قانونی اجازت نہ ملنے کا رانا گرتے ہوئے پولیس دستوں کو اسلام آباد کی جانب روانہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سے پہلے پرویز الہی نے عمران کی خواہش کے برعکس ان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کو بھی اڈیالہ جیل راولپنڈی سی نکلوا کر اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا تھا تاکہ عدالتی احکامات پر عمل ہو سکے۔
وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت عمران خان کرپشن اور توہین عدالت سمیت کیلئی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی گرفتاری کا حکم کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔ ایسے میں اگر اسلام آباد پولیس ان کی کو گرفتار کرنے بنی گالا جاتی ہے تو وہاں موجود صوبائی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مزاحمت کا امکان ہوگا جس سے خون خرابہ بھی ہو سکتا ہے، لہذا وزارت داخلہ نے وفاق کی اجازت کے بغیر بنی گالہ میں تعینات سکیورٹی دستوں کو اپنے صوبوں میں واپس بھجوانے کی ہدایت کر دی ہے۔

Related Articles

Back to top button