ووٹرز نے ن لیگ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ دونوں کو مسترد کیا


پنجاب کے ضمنی الیکشن کے نتائج نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ ووٹرز نے سیاست میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کو رد کرنے کے ساتھ ساتھ عسکری چھتری تلے سیاست کرنے والی جماعتوں کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ یوں اب پاکستانی سیاست میں فوج کا کردار بھی محدود ہوتا نظر آ رہا ہے جو کہ جمہوریت کے لیے ایک اچھا شگون ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 17 جولائی کو پنجاب کے ووٹرز نے نہ صرف مسلم لیگ نون کے خلاف ووٹ ڈالا ہے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی ووٹ آؤٹ کیا ہے کیونکہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد عمران خان مسلسل یہ بیانیہ دہرا رہے تھے کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں اسٹیبلشمنٹ کا مرکزی کردار ہے اور ان کی مخالف سیاسی جماعتیں فوج کی آشیرباد سے کامیاب ہوئی ہیں۔ یاد رہے کہ جب تک نواز لیگ کی قیادت خصوصا ًنواز شریف اور مریم نواز نے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنا رکھا تھا وہ بھی پاکستان کی مقبول ترین جماعت سمجھی جاتی تھی۔ لیکن جونہی نواز لیگ نے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اپنی دوریاں ختم کرتے ہوئے قربت اختیار کی اور شہباز شریف کو وزیر اعظم بنوایا، اس کا پاپولیریٹی گراف دھڑام سے زمین بوس ہوگیا جس کی تصدیق اب 17 جولائی کے الیکشن نتائج نے بھی کر دی ہے۔

ضمنی الیکشن کے بعد اب پنجاب کے وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کی حکومت محض چند دنوں کی مہمان ہے اور تحریک انصاف کے اتحادی چوہدری پرویز الٰہی صوبے کے نئے وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے تحریک انصاف نے پنجاب کے ضمنی الیکشن کی بیس نشستوں میں سے پندرہ پر کامیابی حاصل کر لی۔ اس طرح حمزہ کی حکومت اب اگلے چند دنوں کی مہمان ہے اور پی ٹی آئی کے اتحادی چوہدری پرویز الٰہی کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے میں بظاہر کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی ہے۔ مسلم لیگ نون کے رہنما ملک احمد خان نے تسلیم کیا ہے کہ ہمارے پاس عددی برتری نہیں رہی اور پنجاب ہمارے ہاتھ سے جا رہا ہے لیکن ہم عوام کی رائے کا احترام کریں گے۔

نواز شریف کے شہر لاہور میں صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی تین سیٹوں پر کامیاب ٹھہری ہے جبکہ نون لیگ کے حصے میں یہاں صرف ایک سیٹ آئی ہے۔ تحریک انصاف کو جن شہروں میں کامیابی ملی ہے ان میں لاہور کی تین اور جھنگ کی دو نشستوں کے علاوہ ملتان، خوشاب، شیخوپورہ، فیصل آباد، ساہیوال، لودھراں، مظفر گڑھ، بھکر ، لیہ اور ڈیرہ غازی خان کی ایک ایک نشست شامل ہے۔ جبکہ نون لیگ نے بہاولنگر، لاہور، ، راولپنڈی اور مظفرگڑھ سے ایک ایک نشست حاصل کی ہے۔ مجموعی طور پر ان بیس حلقوں میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی شرح پچاس فی صد کے قریب رہی جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے ووٹرز نے کافی زیادہ متحرک کردار ادا کیا۔

الیکشن نتائج کے اعلان کے بعد عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا کہ یہاں سے آگے جانے کا واحد رستہ ایک ساکھ کے حامل الیکشن کمیشن کی زیرِنگرانی آزادانہ وشفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی دوسرا راستہ محض سیاسی غیر یقینی میں اضافے اور مزید معاشی انتشار کی جانب لے کر جائے گا۔ الیکشن نتائج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز تجزیہ نگار امتیاز عالم نے کہا کہ الیکشن نتائج نے واضح کر دیا کہ اب عام انتخابات کو مزید ٹالا نہیں جا سکتا۔ ان کے مطابق ان ضمنی انتخابات میں عمران خان کے بیانیے کو عوام کی طرف سے زوردار تائید ملی ہے۔

پی ٹی آئی نے نہ صرف اپنے منحرفین کو شکست دی ہے بلکہ آزاد امیدواروں کو بھی ہرایا ہے۔ لاہور شہر، وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب سب جگہ سے عوام نے پی ٹی آئی کے لئے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ امتیاز عالم کے خیال میں مسلم لیگ نون نے اپنی شکست کو تسلیم کرکے اچھی روایت قائم کی ہے۔ اب حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہونا چاہیے اور نئے زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے الیکشن کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اگر شہباز شریف نئے انتخابات پر آمادگی ظاہر کر دیں تو پھر عمران خان کو حکومت سے مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔ ایک سوال پر امتیاز عالم نے بتایا کہ ضمنی انتخابات کے دوران تقریباً سب تجزیہ نگاروں کے اندازے غلط نکلے۔ وہ جس پارٹی کو پانچ سے زیادہ نشستیں نہیں دے رہے تھے اس نے پندرہ نشستیں حاصل کر لیں۔ اصل میں وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمارے تجزیہ نگار بھول گئے تھے کہ نواز لیگ نے اس مرتبہ جن لوگوں کو پارٹی ٹکٹ دیے تھے وہ سب پچھلے الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار تھے لہٰذا انہیں دوہری مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ہار گئے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اتنے بڑے اپ سیٹ کی توقع وہ خود بھی نہیں کر رہے تھے۔

اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اب کمزور ہو چکی ہے اور ایک طرح سے بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے سیاسی کردار نے بطور ادارہ اس کو بہت زیادہ کمزور کر دیا ہے لہٰذا اب یہ سیاست دانوں کا کام ہے کہ وہ عقلمندی سے کام لیتے ہوئے سیاسی فیصلے خود کریں اور اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر رولز آف گیم تیار کریں اور اس پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ مستقبل میں فوج کو کوئی سیاسی کردار نہیں دینا۔ انہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ پنجاب کے عوام نے نہ صرف مسلم لیگ نون کو مسترد کیا ہے بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھی ووٹ ڈالا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا نومبر میں آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ شہباز شریف کریں گے یا عمران خان؟ تو ان کا کہنا تھا کہ اب نومبر والا فیصلہ ادارہ جاتی فیصلہ ہو گا اور ہو سکتا ہے ان کا اعلان ہم نگران حکومت سے سنیں اور یہ تقرری سنیارٹی کے اصول کے تحت ہو جائے۔

اس سوال پر کہ کیا پاکستان میں سویلین بالادستی کے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے؟ امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ ابھی ایسا کچھ نہیں، اس میں ابھی لمبا وقت لگے گا۔ ایک ارتقائی عمل کے ذریعے عوامی شعور میں اضافے کے بعد بھی معاشروں کا پاور سٹرکچر ٹھیک ہونے میں کافی وقت لگتا ہے۔ ہمارے سیاست دانوں کو جمہوری بالا دستی کے لئے ضروری قانون سازی کرنی چاہیے اور فوج کا سیاسی کردار مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے۔

دوسری جانب نون لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کو ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی لے ڈوبی، ان کے مطابق نون لیگ والے سمجھ رہے تھے کہ وہ تو اپوزیشن میں بھی ضمنی الیکشن جیتتے رہے ہیں لہذا اب تو ان کی اپنی حکومت ہے۔ لیکن وہ بھول گئے کہ نواز لیگ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسے امیدواروں کو ووٹ دیا جارہا ہے جو چند ماہ پہلے تک تحریک انصاف کا حصہ تھے لہذا ردعمل تو آنا تھا جس کے بارے میں سوچا ہی نہیں گیا۔ یہ بھی نہیں سوچا گیا کہ جن امیدواروں نے 2018 میں نواز لیگ کے ٹکٹ پر انہی حلقوں میں الیکشن لڑا تھا وہ بھلا پی ٹی آئی کے لوگوں کو اپنا کیوں مانیں گے۔ نواز لیگ کے اندرونی ذرائع کے بقول منحرفین کے چھوڑ جانے اور پھر پی ٹی آئی کے خلاف الیکشن لڑنے پر پی ٹی آئی کے ورکرز کو بہت غصہ تھا اور وہ خم ٹھوک کر پورے جوش اور جذبے کے ساتھ انتخابی مہم میں دن رات متحرک رہے لیکن دوسری طرف مسلم لیگ نون کے روایتی کارکن اپنے حلقوں میں ان لوگوں کو ٹکٹ ملنے پر ناراض تھے جنہوں نے انہیں پچھلے عام انتخابات میں ہرایا تھا۔ وہ مریم نواز کے جلسوں میں تو آئے لیکن انہوں نے ووٹروں کو متحرک نہیں کیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی ایک کامیابی یہ رہی کہ انہوں نے پوری انتخابی مہم میں اپنے ساڑھے تین سالہ دور حکومت کی ناکامیوں پر فوکس نہیں ہونے دیا بلکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو مانجا لگاتے رہے اور عالمی سازش کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اب عمران کا اگلا ہدف جلد از جلد مرکزی حکومت کا خاتمہ اور نئے الیکشن کا انعقاد ہے تاکہ وہ اپنے حق میں چلنے والی ہوا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اگلے الیکشن میں بھی کامیابی حاصل کر سکیں۔ انکا کہنا ہے کہ پنجاب ملنے کے بعد پی ٹی آئی کے لئے اسلام آباد پر یلغار بہت آسان ہو جائے گی۔ یہ صورت حال 1988 والی ہونے جا رہی ہے جب مرکز میں بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی اور پنجاب میں وزیراعلیٰ نواز شریف تھے۔ ان کی محاذ آرائی بالآخر دونوں حکومتوں کو لے ڈوبی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پنجاب کی حکومت حاصل کرنے کے بعد عمران خان مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھا دیں گے جس سے سیاسی تنائو میں اضافہ ہو گا اور معاشی استحکام کی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔

Related Articles

Back to top button