پاکستانی بینکوں سے امریکی ڈالرز کہاں غائب ہو گئے؟


پاکستان میں سیاسی بے یقینی کی وجہ سے امریکی ڈالرز بینکوں میں بھی نایاب ہوگئے ہیں جس کے بعد اب انٹر بینک مارکیٹ کو کروڑوں ڈالرز کے کرنسی بحران کا سامنا ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مئی اور جون میں 6.2 ارب ڈالرز کی POL مصنوعات درآمد کرنے سے معاشی بحران سنگین تر ہو گیا ہے۔ پاکستان سٹیٹ آئل کی مصنوعات کی درآمد کیلئے انٹر بینک سے ڈالرز کا بندوبست کرنےکی IMF کی ریفارم ملکی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی ہے، تاہم وزارت خزانہ کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دوست ممالک سےآئندہ 15 روز میں مالیاتی پیکجز کے اعلان سے کرنسی مارکیٹ معمول پر آنے کی توقع ہے۔

حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی انٹربینک مارکیٹ کو کروڑوں ڈالرز مالیت کے شدید لیکویڈیٹی کرنچ liquidity crunch کا سامنا ہے جس نے بینکرز کے لیے اس کےسوا کوئی دوسرا آپشن نہیں چھوڑا کہ وہ درآمد کنندگان کو اپنے سامان کی کلیئرنگ کے لیے کم از کم ایک ماہ کے وقفے کے بعد لیٹر آف کریڈٹ یا LCs کھولنے پر مجبور کریں۔ دوسری جانب درآمد کنندگان اس تجویز کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ حکومتی فیصلے کی وجہ سے ان کا درآمدی سامان بندرگاہ پر پڑا رہے اور وہ ایک مہینے بعد کلیئرنس کروانے کے لیے بھاری جرمانہ بھی ادا کریں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 2008 میں آئی ایم ایف کے حکم کے تحت متعارف کروائی گئی نام نہاد اصلاحات نے شرح مبادلہ کے ساتھ بھی تباہی مچائی کیونکہ آئی ایم ایف نے یہ شرط رکھی تھی کہ POL مصنوعات کی درآمد کے لیے صرف انٹر بینک سے ہی ڈالر کا بندوبست کیا جائے گا۔ اس سے پہلے اسٹیٹ بینک آف پاکستان غیر ملکی کرنسی کے ذخائر سے ڈالرز فراہم کرتا تھا،اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایکسچینج پالیسی ڈپارٹمنٹ نے فارن ایکسچینج کے تمام مجاز ڈیلرز کو لکھے گئے خط میں ہدایت کی ہے کہ سامان کی درآمد کے لیے لین دین شروع کرنے سے پہلے پیشگی اجازت لینے کی ضرورت ہوگی۔

ایک درآمد کنندہ کے مطابق سٹیٹ بینک نے مجاز ڈیلرز کو چیپٹرز 84 اور 85 کے تحت آنے والے سامان کے الیکٹرانک امپورٹ فارم جاری کرنے سے روک دیا ہے، جس سے معاملات اور بھی گھمبیر ہو گئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوتے سیاسی بحران کے درمیان، پالیسی سازوں کی جانب سے مجموعی بدانتظامی سمیت دیگر عوامل کی وجہ سے ملک کا معاشی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے مئی اور جون 2022 میں 6.2 ارب ڈالرز مالیت کیPOL مصنوعات جیسے بشمول پیٹرول، ڈیزل، اور فرنس آئل درآمد کیے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے انٹر بینک کو اس لیے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بنیادی طور پر درآمدی POL مصنوعات کے لیے ایل سی کی کلیئرنس کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر 200 ملین ڈالرز سے 300 ملین ڈالرزتک درکار تھے، گزشتہ ہفتے کے آخر تک انٹر بینک مارکیٹ میں 400 ملین ڈالرز کی قلت تھی۔ یاد رہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اگست 2021 میں 20 بلین ڈالرز سے کم ہو کر 15 جولائی 2022 تک 9.3 بلین ڈالرز رہ گئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ 11 مہینوں میں ان ذخائر میں 10.7ڈالر کی کمی ہوئی، حکومت نے جون 2022 میں 3.6 بلین ڈالرز اور مئی 2022 میں 2.6 بلین ڈالرز کی POL مصنوعات درآمد کیں، جس سے POL مصنوعات کی کل درآمدات 6.2 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔یہ ایسے وقت میں کیا گیا جب پی او ایل مصنوعات کی قیمتیں بہت زیادہ تھیں اور ملک کو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی شدید کمی کا سامنا تھا۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ہماری شرح مبادلہ دباؤ کا سامنا کر رہی ہے اور ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ پی او ایل کی مصنوعات زیادہ درآمد کی جا رہی ہیں اور گزشتہ چند روز میں ادائیگی کے دباؤ سے شرح مبادلہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جون 2021 میں POL درآمدی بل 1.4 ارب ڈالرز اور مئی 2021 میں 1.2 ارب ڈالرز رہا، سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ POL درآمدی بل میں کافی ذیادہ اضافہ ہوا ہے۔ برآمد کنندگان اپنی پیش قدمی روک رہے ہیں کیونکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی زبردست گراوٹ کے پیش نظر ان کا پیسہ ملک میں واپس نہیں آرہا ۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ جولائی 2022 میں درآمدات کی رفتار کم ہو جائے گی لیکن ایک بری خبر یہ بھی ہے کہ پاکستان کو برآمدات میں بھی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ایک بڑے شعبے کو رواں ماہ ملین ڈالرز کی برآمدات کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button